تہجد کی نماز سنت ہے یا نفل؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا تہجد کی نماز سنت مؤکدہ ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ تہجد کی نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا تہجد کی نماز سنت مؤکدہ ہے یا نہیں؟
جواب
تہجد کی نماز سنتِ مؤکدہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ سنتِ مستحبہ یعنی ایک نفل نماز ہے جو کہ تمام مستحب نوافل سے زیادہ فضیلت و اہمیت والی ہے۔ غنیۃ المتملی میں ہے:
من النوافل المستحبۃ قیام اللیل
ترجمہ: نوافل مستحبہ میں سے رات کی نماز (یعنی تہجد بھی) ہے۔ (غنیۃ المتملی، فصل فی النوافل، قیام اللیل، صفحہ 432، مطبوعہ کوئٹہ)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: تہجد سنت مستحبہ ہے، تمام مستحب نمازوں سے اعظم و اہم، قرآن و احادیث حضور پر نور سید المرسلین صلی ﷲ تعالٰی علیہ و سلم اس کی ترغیب سے مالامال، عامہ کتب مذہب میں اسے مندوبات ومستحبات سے گِنا اور سنت مؤکدہ سے جُدا ذکر کیا، تو اس کا تارک اگرچہ فضل کبیر و خیر کثیر سے محروم ہے گنہگار نہیں، بحر الرائق و عالمگیری و درمختار و فتح ﷲ المعین السید ابو السعود الازہری میں ہے:
المندوبات صلٰوۃ اللیل
(رات کی نماز مندوبات میں سے ہے۔) مراقی الفلاح میں ہے:
سن تحیۃ المسجد و ندب صلٰوۃ اللیل
(تحیۃ المسجد سنت اور رات کی نماز مستحب ہے۔)۔۔۔ غرض ہمارے کتب مذہب کے احکام منصوصہ مذکورہ علی جہۃ النفل میں اس کا استحباب ہی مصرح ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 400، 401، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-559
تاریخ اجراء: 07 ربیع الثانی 1446ھ / 11 اکتوبر 2024ء