بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جب امام دوسری طرف سلام پھیرے تو مسبوق مقتدی دوسرا سلام پھیرتے ہی فوراً کھڑا ہوجائے، یا دوسرے سلام کے الفاظ مکمل ہونے پر کھڑا ہونا لازم ہے؟
مسبوق مقتدی کو امام کے دونوں سلام پھیر لینے کا انتظار کرنا سنت ہے، اور دوسری طرف کے لفظِ سلام مکمل کرتے بھی کھڑا ہوسکتا ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ مسبوق مقتدی، امام کے دوسرا سلام کا لفظ کہتے ہی کھڑا نہ ہو بلکہ دوسرے سلام کے مکمل الفاظ ہونے کے بعد کھڑا ہو یا اس سے بھی کچھ دیر بعد اس وقت کھڑا ہو جب اُسے پورا یقین ہو جائے کہ امام سجدۂ سہو نہیں کرے گا۔
مسبوق كو دونوں سلاموں تک انتظار کرنا سنت ہے، چنانچہ نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے:
"و "يسن" انتظار المسبوق فراغ الإمام" لوجوب المتابعة حتى يعلم أن لا سهو عليه
ترجمہ: اور متابعت کے واجب ہونے کی وجہ سے مسبوق کو امام کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا سنت ہے، یہاں تک کہ وہ یہ جان لے کہ امام پر سجدہ سہو نہیں۔
اس کے تحت علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ حاشيۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں فرماتے ہیں:
قوله: و يسن إنتظار المسبوق فراغ الإمام أي من تسليمه المرتين
ترجمہ: مصنف کا قول: مسبوق کے لیے سنت ہے کہ وہ امام کے فارغ ہونے کا انتظار کرے، یعنی امام کے دونوں سلام پھیرنے سے فارغ ہونے کا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 276، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
الفقہ الاسلامی وادلتہ للزحیلی میں ہے:
انتظار المسبوق فراغ الإمام من التسليمتين، لوجوب المتابعة، حتى يعلم ألا سهو عليه. و هذه سنة عند الحنفية
ترجمہ: متابعت کے واجب ہونے کی وجہ سے مسبوق کو امام کے دونوں سلاموں سے فارغ ہونے کا انتظار کرنا، یہاں تک کہ وہ جان لے کہ امام پر سجدہ سہو نہیں ہے، تو یہ احناف کے نزدیک سنت ہے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ للزحیلی، جلد 2، صفحہ 913، دار الفكر، دمشق)
مسبوق، امام کے دوسرے سلام تک انتظار کرے گا، چنانچہ در مختار میں ہے:
و ينبغي أن يصبر حتى يفهم أنه لا سهو على الإمام
ترجمہ: مسبوق مقتدی کو چاہیے کہ صبر کرے یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ امام پر سجدۂ سہو لازم نہیں۔ (در مختار، جلد 2، صفحہ 419، دار المعرفۃ، بیروت)
اوپر مذکور در مختار کی عبارت کے تحت علامہ احمد بن محمد طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار میں لکھتے ہیں:
قولہ: (و ينبغي أن يصبر) أی: الی السلام الثانی
ترجمہ: شارح کا قول کہ چاہئے کہ وہ صبرکرے یعنی دوسرے سلام تک۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الد المختار، جلد 2، صفحہ 301، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ احمد بن محمود قابسی حنفی رحمۃ اللہ علیہ الحاوی القدسی فی فروع الفقہ الحنفی میں لکھتے ہیں:
و لا یقوم حتی یسلم الامام التسلیمۃ الثانیۃ، و ینتظر، فان سجدالامام سجدہ معہ
ترجمہ: اور مسبوق کھڑا نہیں ہوگا یہاں تک کہ امام دوسرا سلام پھیردے، اور وہ (اس کے دوسرا سلام پھیرنے کا) انتظار کرے گا، پس اگر امام سجدہ سہوکرے تو مسبوق بھی اس کے ساتھ سجدہ سہو کرے گا۔ (الحاوی القدسی، جلد 1، صفحہ 193،دار النوادر)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
و العبارۃ بین الھلالین من مراقی الفلاح: (و ينبغي أن يمكث المسبوق بقدر ما يعلم أنه لا سهو عليه) و ذلك بتسليم الإمام الثانية على الأصح أو بعدهما بشيء قليل بناء على ما صححه في الهداية فليتأمل
ترجمہ: اور مسبوق کو چاہیے کہ اتنی دیر ٹھہرا رہے کہ اسے معلوم ہو جائے کہ امام پر سجدۂ سہو لازم نہیں، اور یہ علم اصح قول کے مطابق امام کے دوسرے سلام سےحاصل ہوجاتا ہے ، یا دونوں سلاموں کے بعد تھوڑی سی دیر ٹھہرنے سے حاصل ہو جاتا ہے اس بنیاد پر جس کو ہدایہ میں صحیح قرار دیا گیا ہے، پس اس پر غور کرو۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، جلد 1، صفحہ 464، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بحر الرائق میں ہے:
و من أحكامه أنه لا يقوم إلى القضاء قبل التسليمتين بل ينتظر فراغ الإمام بعدهما لاحتمال سهو على الإمام فيصبر حتى يفهم أنه لا سهو عليه
ترجمہ: اور اس کے احکام میں سے یہ ہے کہ مقتدی دو سلاموں سے پہلے اپنی باقی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑا نہ ہو، بلکہ امام پر سہو کے احتمال کی وجہ سے دونوں سلاموں کے بعد امام کے فارغ ہونے کا انتظار کرے، لہذا وہ صبر کرے یہاں تک کہ اسے یقین ہو جائے کہ امام پر کوئی سہو نہیں۔ (بحر الرائق، جلد 1، صفحہ 401،دار الکتاب الاسلامی، بیروت)
جس پر سجدہ سہو لازم ہواور وہ سجدہ سہو بھول جائے تو اگر سلام پھیرنے کے بعد نماز کے خلاف کوئی عمل نہ کیا ہو تو سجدہ سہو کرسکتا ہے، سجدہ سہو ہوجائے گا۔ ہاں البتہ سلام پھیرنے کے بعد نماز کے خلاف کوئی عمل کرلیا، تو سجدہ سہو نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ بہار شریعت میں ہے جس پر سجدۂ سہو واجب ہے اگر سہو ہونا یاد نہ تھا اور بہ نیت قطع سلام پھیر دیا تو ابھی نماز سے باہر نہ ہوا بشرطیکہ سجدۂ سہو کرلے، لہٰذا جب تک کلام یا حدث عمد، یا مسجد سے خروج یا اور کوئی فعل منافی نماز نہ کیا ہو اسے حکم ہے کہ سجدہ کر لے اور اگر سلام کے بعد سجدۂ سہو نہ کیا تو سلام پھیرنے کے وقت سے نماز سے باہر ہوگیا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 717، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1032
تاریخ اجراء: 03 رجب المرجب 1447ھ / 24 دسمبر 2025ء