موم بتی برابر میں رکھ کر نماز پڑھنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
موم بتی ساتھ رکھ کر نماز پڑھنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سوال عرض کرنا تھا کہ اندھیرے کی وجہ سے Candle (موم بتی) کو جائے نماز کے برابر میں رکھ کر نماز پڑھنا کیسا؟
جواب
جائے نماز کے برابر میں موم بتی رکھ کر نماز پڑھنا جائز ہے، بلکہ اگر یہ سامنے ہو تب بھی کوئی کراہت نہیں کہ موم بتی، چراغ وغیرہ کی عبادت نہیں ہوتی، کیونکہ مجوسی دہکتی ہوئی آگ کی عبادت کرتے ہیں، لہذا اس میں مجوسیوں سے مشابہت نہیں۔
فتاوی قاضی خان میں ہے
"یکرہ ان یصلی وبین یدیہ تنوراو کانون فیہ نار موقدۃ لانہ یشبہ عبادۃ النار وان کان بین یدیہ سراج او قندیل لایکرہ لان لایشبہ عبادۃ النار۔"
ترجمہ: اس طرح نماز پڑھنا مکروہ ہے کہ سامنے تنور، یا چولہا ہو، جس میں آگ بھڑک رہی ہو، اس لئےکہ یہ عمل آگ کی عبادت کے مشابہ ہے، اور اگر سامنے چراغ یا لیمپ ہو تو مکروہ نہیں، اسلئے کہ یہ آگ کی عبادت کے مشابہ نہیں۔ (فتاوی قاضی خان، ج1، ص112، مطبوعہ: کراچی)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”شمع یا چراغ یا قندیل یا لیمپ یا لالٹین یا فانوس نماز میں سامنے ہو، تو کراہت نہیں کہ ان کی عبادت نہیں ہوتی اور بھڑکتی آگ اور دہکتے انگاروں کا تنور یابھٹی یاچولہا یا انگیٹھی سامنے ہوں، تو مکروہ کہ مجوس ان کوپوجتے ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 619، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4809
تاریخ اجراء: 15 رمضان المبارک 1447ھ/ 05 مارچ 2026ء