logo logo
AI Search

مقیم امام کے پیچھے مسبوق مسافر کی نماز

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسافر مسبوق مقیم امام کے سلام کے بعد کتنی رکعت پڑھے گا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسافر اگر مقیم امام کے ساتھ نماز کے آخری تشہد میں ملے تو سلام کے بعد اپنی نماز دو رکعت پوری کرے گا یا چار رکعت کے حساب سے پڑھے گا؟

جواب

اگر چار رکعتی نماز میں مسافر وقت کے اندر مقیم امام کی اقتدا کرے تو امام کے تابع ہونے کی وجہ سے اس پر چار رکعتیں پوری پڑھنا لازم ہو جاتا ہے، خواہ وہ نماز کے شروع میں شامل ہوا ہو یا آخر میں، لہذا پوچھی گئی صورت میں امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسافر چار رکعت کے حساب سے ہی اپنی نماز پوری کرے گا، اگرچہ وہ آخری تشہد میں امام کے ساتھ شریک ہوا ہو۔

علامہ مجد الدین عبد اللہ بن محمود الموصلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 683ھ / 1284ء) لکھتے ہیں:

فإن اقتدى به في الوقت أتم الصلاة لأنه التزم متابعته، قال عليه الصلاة و السلام: إنما جعل الإمام إماما ليؤتم به فلا تختلفوا على أئمتكم و صيرورته متابعا أن يصلي أربعا

ترجمہ: پس اگر مسافر نے وقت کے اندر مقیم کی اقتدا کی تو وہ نماز مکمل پڑھے گا؛ کیونکہ اس نے امام کی پیروی کو خود پر لازم کر لیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے تو اپنے ائمہ کی مخالفت نہ کرو۔ اور اس کا متبع بن جانا یہ ہے کہ وہ چار رکعت نماز پڑھے۔ (الاختيار لتعليل المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، جلد 1، صفحہ 80، دار الكتب العلمية، بيروت)

علامہ رضی الدین محمد بن محمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 571ھ / 1175ء) لکھتے ہیں:

اقتداء المسافر بالمقيم يجوز في الوقت و يتم معه أربعا لأن فرضه بالاقتداء صار أربعا لأنه جعل نفسه تبعا للمقيم في هذه الصلاة فيلزمه صلاة المقيم تبعا له

ترجمہ: وقت کے اندر مسافر کا مقیم کی اقتدا کرنا جائز ہے اور وہ اس کے ساتھ چار رکعتیں پوری کرے گا؛ کیونکہ اقتدا کرنے کی وجہ سے اس کا فرض چار رکعت ہو جاتا ہے، اس لیے کہ اس نے اس نماز میں اپنے آپ کو مقیم کے تابع بنا لیا تو اس کے تابع ہونے کی وجہ سے مسافر مقتدی پر مقیم کی نماز لازم ہو جاتی ہے۔ (المحیط الرضوی، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، جلد 1، صفحہ 382، دار الكتب العلمية، بيروت)

امام شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 483ھ / 1090ء) لکھتے ہیں:

و دخول المسافر في صلاة المقيم يلزمه الإكمال إن دخل في أولها أو في آخرها قبل السلام

ترجمہ: اور مسافر کا مقیم کی نماز میں داخل ہونا اس پر نماز (چار رکعت) پوری کرنا لازم کر دیتا ہے، خواہ وہ نماز کے شروع میں داخل ہو یا اس کے آخر میں سلام سے پہلے پہلے۔ (المبسوط للسرخسي، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، جلد 1، صفحہ 248، دار المعرفة، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: وقت ختم ہونے کے بعد مسافر مقیم کی اقتدا نہیں کر سکتا، وقت میں کر سکتا ہے اور اس صورت میں مسافر کے فرض بھی چار ہو گئے، یہ حکم چار رکعتی نماز کا ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 749، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1098
تاریخ اجراء: 22 شعبان المعظم 1447ھ / 11 فروری 2026ء