نماز میں مقتدی کا امام سے آگے ہونا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز میں مقتدی کا امام سے آگے ہونے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسجد کی چھت پر چھجہ ہوتا ہے، کیا جماعت کی حالت میں مقتدی چھجے پر امام کی اقتدا کر سکتا ہے؟ ایسی صورت میں مقتدی امام سے آگے ہو جاتا ہے، کیونکہ چھجہ دیوار سے تین فٹ یا چار فٹ آگے ہو جاتا ہے، تو کیا ایسی صورت میں مقتدی کی نماز درست ہو جائے گی؟
جواب
اقتدا کے درست ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے، کہ مقتدی امام سے آگے نہ ہو، لہذا اگر مقتدی امام سے آگے ہوگا، تو اقتدا درست نہیں ہوگی، اور پوچھی گئی صورت میں جب مقتدی چھجے پر کھڑے ہونے کی صورت میں امام سے آگے ہوجاتا ہے، اور امام پیچھے، تو اس صورت میں مقتدی کی اقتدا و نماز درست نہیں ہوگی۔
درِ مختار میں ہے
”والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: ۔۔۔ عدم تقدمہ علیہ“
ترجمہ: اور امامتِ صغری یہ ہے کہ مقتدی کی نماز کا امام کے ساتھ دس شرائط کے ساتھ مربوط ہونا: (ان شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ) مقتدی امام سے آگے نہ ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 337-339، مطبوعہ: کوئٹہ)
اقتدا کی شرائط کو بیان کرتے ہوئے بہار شریعت میں فرمایا: ”مقتدی کا امام سے مقدم نہ ہونا۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ3، صفحہ 563، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4806
تاریخ اجراء: 15رمضان المبارک 1447ھ/ 05 مارچ 2026ء