کیا نابینا شخص پر جماعت سے نماز واجب ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نابینا پر جماعت واجب ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نابینا شخص پر جماعت سے نماز ادا کرنا واجب ہے؟
سائل: محمد علی رضا (متعلم جامعۃ المدینہ)
جواب
نابینا شخص پر نابینائی کے سبب جماعت سے نماز ادا کرنا واجب نہیں، اگرچہ کوئی ہاتھ پکڑ کر مسجد تک لے جانے والا بھی موجود ہو، لیکن عموماً نابینا افراد گلیوں، سٹرکوں پر اپنی مخصوص چھڑی کے ساتھ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، لہذا جب معمول کی آمد و رفت کرتے ہیں، تو نماز بھی مسجد میں باجماعت ادا کریں تو بہتر ہے کہ مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے بے شمار فضائل ہیں۔ صحابہ کرام اور تابعین میں کثیر نام ملتےہیں کہ وہ نابینا ہونے کے باوجود مسجد میں باجماعت نماز ادا کیا کرتے تھے۔
باجماعت نماز کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع و عشرين درجة۔
ترجمہ: جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ زائد فضیلت وعظمت رکھتی ہے۔ (صحیح البخاری، جلد 01، باب فضل صلاة الجماعة، صفحہ 131، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
نابینا شخص پر جماعت واجب نہ ہونے کے متعلق امام کمال الدین ابنِ ہُمَّام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 861ھ / 1456ء) لکھتے ہیں:
و الأعمى عند أبي حنيفة، و الظاهر أنه اتفاق۔
ترجمہ: اور امام اعظم رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے نزدیک نابینا پر جماعت واجب نہیں اور ظاہر یہی ہے کہ یہ محض امام اعظم رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی رائے نہیں، بلکہ آئمہ ثلاثہ کا اتفاقی مسئلہ ہے۔ (فتح القدیر، جلد 01، صفحہ 345، مطبوعہ مصر)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: اندھا، اگرچہ اندھے کے ليے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے (اس پر جماعت واجب نہیں)۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 583، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
نابینا مگر جماعت سے نماز ادا کرنے والے صحابہ:
(1) حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ: صحیح مسلم میں ہے:
أتى النبي صلى اللہ عليه وسلم رجل أعمى فقال: يا رسول اللہ، إنه ليس لي قائد يقودني إلى المسجد، فسأل رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أن يرخص له فيصلي في بيته فرخص له. فلما ولى دعاه فقال: هل تسمع النداء بالصلاة؟ فقال: نعم. قال: فأجب۔
ترجمہ:نبی کریم ﷺ کے پاس ایک نابینا شخص حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول اللہ! ﷺ میرے پاس کوئی ایسا لانے والے شخص نہیں کہ جو مجھے مسجد تک لے آئے، چنانچہ اُس شخص نے آپ سے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت طلب کی اور آپ ﷺ نے اسے اجازت مرحمت فرما دی۔ جب وہ جانے کے لیے مُڑا، تو آپ نے اسے دوبارہ بلایا اور پوچھا: کیا تم نماز کے لیے ہونے والی اذان کی آواز سنتے ہو؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ فرمایا: تو پھر مسجد حاضر ہوا کرو۔ (صحیح المسلم، جلد 2، صفحه 124،مطبوعه دار احیاء التراث العربی، بیروت)
چنانچہ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے بعد آپ نابینا ہونے کے باوجود مسجد میں باجماعت نماز ادا کیا کرتے تھے اور محض مقتدی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک موقع پر نبی اکرم ﷺ نے آپ کو بطورِ نائب مسجد نبوی کی امامت بھی سپرد فرمائی تھی، حالانکہ آپ نابینا تھے، چنانچہ ابو داؤد شریف میں ہے:
ان النبی صلی ﷲ تعالی علیہ و سلم استخلف ابن ام مکتوم یؤم الناس و ھو اعمی۔
ترجمہ: بے شک نبی کریم ﷺ نے حضرت ابنِ ام مکتوم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا تا کہ وہ لوگوں کی امامت کریں ، حالانکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نابینا تھے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب امامۃ الاعمیٰ، جلد 1، صفحہ 98، مطبوعہ لاھور)
(2) حضرت عِتبان بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ: آپ محض خود باجماعت نہیں پڑھتے، بلکہ بطورِ امام دیگر کو پڑھایا کرتے تھے، چنانچہ صحیح البخاری میں ہے:
أن عتبان بن مالك وهو من أصحاب رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ممن شهد بدرا من الأنصار: أنه أتى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم فقال: يا رسول اللہ، قد أنكرت بصري، وأنا أصلي لقومي۔
ترجمہ: حضرت عتبان بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نبی اکرم ﷺ کے ان انصاری صحابہ میں سے تھے، جو جنگِ بدر میں شریک ہوئے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری بینائی کمزور ہوگئی ہے (یا میں نابینا ہو چکا ہوں) اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔ (صحیح البخاری، جلد 01، صفحہ 92، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
انکار البصر سے مراد نابینائی بھی ہے، جیسا کہ شارح بخاری علامہ عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بیان فرمایا۔ (عمدۃ القاری، جلد 21، صفحہ 46، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)
(3) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما: المصنف لابن ابي شيبة میں ہے:
أمنا ابن عباس وهو أعمى۔
ترجمہ: ہمیں حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے امامت کروائی، حالانکہ آپ نابینا تھے۔ (المصنف لابنِ ابی شیبۃ، جلد 04، صفحہ 315، مطبوعہ مکتبۃ الرشد)
ان روایات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نابینائی کے باوجود جماعت میں شرکت کرتے یا بذاتِ خود امامت فرماتے، لہذا اگرچہ نابینا پر شرعاً جماعت واجب نہیں، لیکن حصولِ ثواب کی خاطر باجماعت نماز ادا کی جائے تو نہایت فضیلت کی بات ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9732
تاریخ اجراء: 22 رجب المرجب 1445ھ /12 جنوری 2026ء