logo logo
AI Search

نماز میں سینہ نظر آئے تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بٹن کھلے ہونے کی حالت میں نماز پڑھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ اگر نماز کے دوران نمازی کی قمیص کے بٹن کھلے ہوں حتی کہ سینہ نظر آرہا ہو، تو نماز کا کیا حکم ہو گا؟

سائل: محمد اعجاز (راولپنڈی)

جواب

اگر نماز کے دوران نمازی کے سینے کے بٹن کھلے ہوں اور سینے کا اتنا حصہ نظر آرہا ہو، جتنا عام طور پر مہذب آدمی کے سینے کا حصہ نظر آتا ہے، تو اس میں کچھ حرج نہیں، البتہ اگر اس سے زیادہ حصہ نظر آرہا ہو کہ اس حالت میں کوئی مہذب و سلجھا ہوا شخص لوگوں کے مجمع یا بازار میں نہ جائے یا جائے، تو اُسے خفیف الحرکات و بے ادب سمجھا جائے یا مکمل سینہ کھلا ہو، تو اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، کیونکہ اس کا حکم کام کاج اور روز مرہ کے پہنے جانے والے اُن کپڑوں کی طرح ہوگا، جنہیں مہذب آدمی پہن کر بزرگوں اور معزز لوگوں کے سامنے جانے سے عار محسوس کرتا ہے اور پہن کر جائے، تو اُسے بے ادب اور خفیف الحرکات سمجھا جاتا ہے، تو ایسے کپڑے پہن کر نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، جبکہ اس کے پاس اور کپڑے ہوں۔

تنویرالابصارمع الدرمیں ہے:

(و) کرہ.. (صلاتہ فی ثیاب بذلۃ) یلبسھا فی بیتہ (و مھنۃ) أی خدمۃ إن لہ غیرھا و إلا لا

ترجمہ: روزانہ کے استعمالی کپڑے، جنہیں آدمی گھرمیں پہنتا ہے اور کام کاج کےکپڑوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، جبکہ اُس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں، ورنہ مکروہ نہیں۔ (تنویر الابصار مع الدر، ج 2، ص 490 تا 491، مطبوعۃ پشاور)

علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ اس کےتحت رد المحتار میں فرماتے ہیں:

قال فی البحرو فسرھا فی شرح الوقایۃ بما یلبسہ فی بیتہ و لا یذھب بہ إلی الأکابر و الظاھر أن الکراھۃ تنزیھیۃ

علامہ ابن نجیم علیہ الرحمۃنے البحر الرائق میں فرمایا: صدر الشریعۃنےشرح وقایہ میں ان کپڑوں کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ اس سے مرادوہ کپڑےہیں، جو آدمی گھرمیں پہنتا ہے اور انہیں پہن کربزرگ و معزز لوگوں کےپاس نہیں جاتا۔ اور ظاہر یہی ہے کہ یہاں کراہت سےمراد کراہتِ تنزیہی ہے۔ (رد المحتار، ج 2، ص 491، مطبوعۃ پشاور)

صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: کام کاج کے کپڑوں سے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، جبکہ اس کے پاس اور کپڑے ہوں، ورنہ کراہت نہیں۔ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 632، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بٹن کھلا ہونے کی وجہ سے خلافِ مہذب حد تک سینہ کھلا ہو، تو اس کا حکم خلافِ عادت اور خلافِ مہذب کپڑوں والا ہوگا۔ جیسا کہ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ الرحمۃ سے گلے کے بٹن کھلے رکھ کر نماز پڑھنے کے متعلق سوال ہوا، تو آپ علیہ الرحمۃ نے خلاف عادت کپڑے پہننے کی مثال میں بٹن کھلے ہونے کی صورت کو بھی ذکر فرمایا۔ چنانچہ آپ علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: کسی کپڑے کو ایسا خلافِ عادت پہننا، جسے مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کرسکے اور کرے، تو بے ادب، خفیف الحرکات سمجھا جائے، یہ بھی مکروہ ہے جیسے انگرکھا پہننا (قبا) اور گھنڈی (بٹن) یا باہر کے بند نہ لگانا یا ایسا کُرتا، جس کےبٹن سینےپرہیں پہننا اور بوتام (بٹن) اتنے لگانا کہ سینہ یا شانہ (کندھا) کھلا رہے، جبکہ اوپر سے انگرکھا نہ پہنے ہو، یہ بھی مکروہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 385 - 386، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اور یہاں مکروہ سے مراد مکروہِ تنزیہی ہے، کیونکہ ایک اور مقام پر سینہ کھلے ہونے کے بارے میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ اس میں اساءت (برائی و گناہ) نہیں، جبکہ اگر یہ مکروہِ تحریمی ہوتا، تو گناہ ہوتا۔ چنانچہ امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

ان انکشاف شیء من صدر الرجل و بطنہ لا اساء ۃ فیہ اذا کان عاتقاہ مستورین و انما نھی النبی صلی ﷲ تعالی علیہ و سلم عما اذا صلی فی ثوب و احد و لیس علی عاتقہ منہ شئ

ترجمہ: مردکےسینے اور پیٹ کا کوئی حصہ ظاہر ہوجائے، تو اس میں کوئی اساءت نہیں، جبکہ اس کے کندھے ڈھکے ہوں اور رسالت مآب صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نےجو منع کیا ہے، تو وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے سے اُس صورت میں منع فرمایا ہے، جبکہ اس کے کندھے پر کوئی شے نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 360، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7530
تاریخ اجراء: 24 جمادی الاولیٰ 1446ھ /27نومبر 2024ء