logo logo
AI Search

نماز شروع کرنے کے بعد آستین نیچے کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز شروع کرتے وقت آستین فولڈ ہو تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ وضو کر کے آئے آستین کلائی سے اوپر چڑھی ہوئی تھیں، اسی حالت میں نماز شروع کردی پھر نماز کے اندر آستین کو نیچے کیا، تو اس نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

کپڑا فولڈ کر کے یعنی موڑ کر نماز پڑھنے سے حدیثِ پاک میں منع فرمایا گیا ہے اور اس حالت میں پڑھی گئی نماز مکروہ تحریمی و واجب الاعادہ (یعنی دوبارہ پڑھنا واجب) ہو جاتی ہے۔ فقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق آدھی کلائی سے اوپر آستین چڑھانا بھی اسی فولڈ کرنے میں شامل ہےکہ جس سے نماز مکروہ تحریمی ہوجاتی ہے۔ دریافت کی گئی صورت میں چونکہ نماز شروع کرتے وقت آستینیں کلائی سے اوپر چڑھی ہوئی تھیں، لہذا وہ نماز کراہت تحریمہ کے ساتھ شروع ہوئی اور اس نماز کا اعادہ واجب ہے، اگرچہ نماز کے دوران نمازی آستین درست کر بھی لے، تب بھی اس کی نماز کراہت سے نہیں نکلے گی، یعنی اب بھی واجب الاعادہ ہوگی۔

نماز میں کپڑا فولڈ کرنے کے متعلق حدیث شریف میں ہے:

قال النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اُمِرتُ ان اسجد علی سبعۃ اعظم علی الجبھۃ و اشار بیدہ علی انفہ و الیدین و الرکبتین و اطراف القدمین و لانَکفِتَ الثیاب و الشعر

یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دستِ مبارک سے اپنی مقدس ناک شریف کی طرف اشارہ فرمایا اور دونوں ہاتھوں پر اور دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کے کناروں پر اور یہ کہ ہم کپڑے اور بال نہ سمیٹیں۔ (صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 162، مطبوعہ دار طوق النجاة، بيروت)

اس حدیث پاک کی شرح میں مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری میں لکھتے ہیں: یعنی کپڑوں کو غیر معتاد طریقے سے سمیٹنا، مثلاً آستین چڑھالینا، یا تہبند اور پاجامے کو گھڑس لینا (یعنی فولڈ کرنا)، اس سے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔ (نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری ملتقطاً، جلد 2، صفحہ 383، فرید بک اسٹال، لاھور)

کپڑا سمیٹنے میں آستین چڑھانا بھی شامل ہے، جیسا کہ بحر الرائق میں ہے:

یدخل ایضا فی کف الثوب تشمیر کمیہ

کپڑا سمیٹنے میں اس کی آستینیں چڑھانا بھی داخل ہے۔ (البحر الرائق، جلد 2، صفحہ 25، مطبوعہ دار الكتاب الإسلامي)

اسی طرح حلبۃ المجلی میں ہے:

ینبغی ان یکرہ تشمیرھا الی ما فوق نصف الساعد لصدق کف الثوب علی ھذا

آستینوں کا آدھی کلائی سے اوپر تک چڑھائے ہونا بھی مکروہ ہونا چاہیے، کیونکہ کپڑا سمیٹنا اس پر بھی صادق آتا ہے۔ (حلبۃ المجلی، جلد 2، صفحہ 287، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

آستین کو نصف کلائی سے اوپر فولڈ کر کے نماز شروع کرنے کے متعلق علامہ محمد بن ابراہیم حلبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 956ھ) لکھتے ہیں:

يكره أن يكف ثوبه و هو في الصلاة أو يدخل فيها و هو مكفوف كما إذا دخل و هو مشمر الكم أو الذيل

ترجمہ: حالتِ نماز میں نمازی کو کپڑا لپیٹنا مکروہ ہے، یونہی اگر وہ نماز شروع ہی اِس انداز میں کرے کہ اُس نے کپڑا فولڈ کیا ہوا ہو، جیسا کہ جب کوئی نماز، یوں شروع کرے کہ اُس کی آستین یا دامن چڑھا ہوا ہو۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، فصل فیما یکرہ فعلہ فی الصلاۃ، صفحہ 348، مطبوعہ لاھور)

امامِ اہلسنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) سے کفِ ثوب کی ایک صورت یعنی آستینوں کو نصف کلائیوں سے اوپر تک فولڈ کر کے نماز پڑھنے کے متعلق سوال ہوا، تو آپ نے جواباً لکھا: ضرور مکروہ ہے اور سخت وشدیدمکروہ ہے۔۔۔ تمام متونِ مذہب میں ہے: کرہ کفہ (کپڑوں کو اٹھانا مکروہ ہے)۔۔۔ تو لازم ہے کہ آستینیں اتار کرنماز میں داخل ہو، اگرچہ رَکعت جاتی رہے اور اگرآستین چڑھی نمازپڑھے، تو اعادہ کی جائے۔

کما ھو حکم صلاۃ ادیت مع الکراھۃ کما فی الدر وغیرہ

(جیسا کہ ہر اس نماز کا حکم ہے جو کراہت کے ساتھ اداکی گئی ہو۔ جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے)۔ (فتاویٰ رضویہ ملتقطا، جلد 7، صفحہ 309 تا 311، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی محمدامجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی یا دامن سمیٹے نماز پڑھنا بھی مکروہِ تحریمی ہے، خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں چڑھائی۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 624، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0231
تاریخ اجراء: 08 رمضان المبارک 1447ھ / 26 فروری 2026 ء