بھول کر چار رکعات تراویح پڑھنے سے نماز کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چار رکعات تراویح پڑھادیں تو سجدہ سہو اور نماز کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک امام صاحب تراویح پڑھاتے ہوئے دوسری رکعت پر بیٹھنے کی بجائے بھولے سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے، کسی نے لقمہ نہیں دیا، یہاں تک کہ تیسری رکعت کا سجدہ کرنے کے بعد پھر چوتھی رکعت بھی ساتھ ملائی اور آخر میں سجدہ سہو کیے بغیر چار رکعتوں پر سلام پھیرا۔ بعد میں مقتدیوں نے بتایا تو امام صاحب کو بھی یاد آگیا کہ واقعی چار رکعتیں ہوئی ہیں، لیکن امام صاحب نے ان چار رکعتوں کو دو ہی شمار کرتے ہوئے بقیہ بیس کی تعداد مکمل کی۔ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ سجدہ سہو کیے بغیر یہ نماز درست ہوگئی یا سجدہ سہو ضروری تھا؟ اگر وہ نماز درست ہوگئی تھی تو یوں اس دن پھر ہماری کل بائیس رکعتیں تراویح ہوئی ہیں؟ برائے کرم تفصیل سے رہنمائی فرما دیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں سجدہ سہو کیے بغیر وہ نماز درست ہوگئی اور وہ چار رکعتیں نہیں ، بلکہ دو ہی ہوئی تھیں ، جس وجہ سے امام صاحب کا ان کو دو ہی شمار کرتے ہوئے بیس کی تعداد مکمل کرنا درست تھا ، البتہ ان چار رکعات کی پہلی دو رکعتوں میں جو قرآنِ پاک پڑھا گیا تھا ، وہ شمار نہیں ہوا ، اگر اس کا اعادہ نہیں کیا گیا تھا ، تو اس تلاوتِ قرآن پاک کا اعادہ کرنا ہوگا۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ دو رکعت والی نفل نماز کا آخری قعدہ فرض ہوتا ہے ، اگر یہ قعدہ نہ کیا ، تو نماز باطل ہوجاتی ہے ، البتہ تراویح اگرچہ شرعی اور فقہی اعتبار سے نفل نماز ہے ، لیکن اس کا معاملہ عام نفل نماز سے اس طرح جدا ہے کہ اگر دو رکعت تراویح پر قعدہ نہ کیا اور مزید دو رکعت ملا کر ٹوٹل چار رکعات پڑھیں ، تو اب عام نفل نماز پر قیاس کرتے ہوئے قعدہ اخیرہ (جو فرض تھا) چھوڑنے کی وجہ سے تراویح کی نماز بالکل فاسد ہوجانی چاہیے ، لیکن یہاں پہلی دو رکعت باطل ہونے میں اسی قیاس کو برقرار رکھا گیا اور تحریمہ کے معاملے میں استحسان کا اعتبار کرتے ہوئے تحریمہ کو باقی رکھا گیا، جس وجہ سے دوسری دو رکعات کو درست قرار دیا گیا اور فقط یہی بعد والی دو رکعات شمار کی گئیں، جب یہ فقط بعد والی دو رکعت شمار کی گئیں اور پہلی دو رکعت باطل ہوئیں ، تو پہلی دومیں پڑھا گیا قرآنِ پاک بھی شمار نہ ہوا ، جس وجہ سے اس کے اعادے کا حکم ہے۔
سجدہ سہو ضروری نہ ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ سجدہ سہو اس وجہ سے ہوتا ہے ، کہ نماز میں اگر کسی واجب کو ترک کرنے سے کمی رہ گئی ہو ، تو سجدہ سہو کے ذریعے اس کمی کو پورا کیا جاسکے ،یعنی فقط ترکِ واجب والی کمی کو پورا کرنے کے لیے سجدہ سہو ہوتا ہے، فرض چھوٹ جانے کی وجہ سے رہ جانے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے سجدہ سہو نہیں ہوتا، اگر نماز کا کوئی فرض چھوٹ جائے، تو نماز باطل ہوجاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر کسی نے چار رکعت فرض پڑھتے ہوئے آخری قعدہ بھولے سےچھوڑ دیا اور مزید ساتھ دو رکعت ملا لیں ، تو اب فقہائے کرام نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ قعدہ اخیرہ ( جو فرض تھا )چھوڑنے کی وجہ سے فرض باطل ہوجائیں گے ، اس بطلان کا سجدہ سہو سے ختم ہونا ، ممکن نہیں ، اس لیے اس پر سجدہ سہو لازم نہیں اور چھ رکعت کے آخر میں سجدہ سہو کیے بغیر نماز مکمل کی تو یہ چھ رکعات نفل بغیر کراہت درست ہوجائیں گی ، بالکل اسی طرح ہماری صورتِ مسئولہ میں سجدہ سہو کی وجہ سے پہلے شفع کے فساد کا سجدہ سہو سے ختم ہونا ، ممکن نہیں، اس لیے سجدہ سہو کی حاجت نہیں تھی اور سجدہ سہو کے بغیر نماز درست ہوگئی۔
یہ چار رکعت دو کے قائم مقام ہوکر درست ہونے کے دلائل:
فتاویٰ قاضی خان اور بحر الرائق میں ہے:
و اللفظ للثانی ”فلو صلى الإمام أربعا بتسليمة و لم يقعد في الثانية فأظهر الروايتين عن أبي حنيفة و أبي يوسف عدم الفساد و قال أبو جعفر و ابن الفضل تنوب عن واحدة و هو الصحيح كذا في الظهيرية و الخانية و في المجتبى و عليه الفتوى
ترجمہ: اگر امام نے چار رکعت پڑھا دیں اور دو رکعت پر قعدہ نہیں کیا ، تو شیخین رحمھمااللہُ کی دو روایتوں میں سے اظہر روایت کے مطابق فاسد نہیں ہوئیں اور امام ابو جعفر اور ابن الفضل نے فرمایا چاروں رکعات ایک سلام (یعنی دو رکعت) کے قائم مقام ہوجائیں گی اور یہی صحیح ہے، جیسا کہ ظہیریہ اور خانیہ میں ہے اور مجتبیٰ میں ہے کہ اسی پر فتویٰ ہے۔ (بحر الرائق، کتاب الصلوٰۃ ، صلوٰۃ التراویح، جلد 2، صفحہ 72، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی، بیروت)
شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے کئی مقامات پر اس مسئلہ کے متعلق کلام فرمایا اور تراویح میں دو کے قائم مقام ہی فرمایا، چنانچہ جد الممتار میں ایک مقام پر آپ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
الصحیح فی التراویح النیابۃ عن شفع واحد مطلقاً ولو صلی اربعاً و لم یقعد الا فی الآخر والصحیح فی غیرھا صحۃ الکل ان صلی اربعاً، و فساد الکل ان زاد، فاغتنم ھذا التحریر، و اللہ ولی التوفیق
ترجمہ: تراویح میں صحیح یہ ہے کہ مطلقا ایک شفع سے نیابت درست ہے اور اگر چار رکعت پڑھی اور قعدہ نہیں کیا، مگر آخری رکعت میں، تو تراویح کے علاوہ میں صحیح قول یہ ہے کہ پوری نماز درست ہوگی اگر چار رکعت پڑھیں اور پوری نماز فاسد ہوجائے گی اگر چار سے زیادہ رکعتیں پڑھی ہوں، پس اس تحریر کو غنیمت سمجھو۔ اور اللہ تعالی توفیق کا ولی ہے۔ (جد الممتار، جلد 3، صفحہ 468، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: صورت اُولیٰ (تین رکعت پڑھنے والی صورت) میں مذہب اصح پر نماز نہ ہوئی، اور قرآن عظیم جس قدر اس میں پڑھا گیا اعادہ کیا جائے۔۔۔ چار پڑھ لیں اور قعدہ اُوْلیٰ نہ کیا تو مذہب مفتیٰ بہٖ پر یہ چاروں دو ہی رکعت کے قائم مقام گِنی جائیں گی، باقی اور پڑھ لے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 8، صفحہ 180، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
تراویح کا جو شفع فاسد ہوجائے، اس میں پڑھے گئے قرآنِ پاک کا اعادہ کا حکم ہوتا ہے، چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
و إذا فسد الشفع و قد قرأ فيه لا يعتد بما قرأ فيه و يعيد القراءة ليحصل له الختم في الصلاة الجائزة
ترجمہ: جب نمازِ تراویح کا کوئی شفع فاسد ہوجائے تو اس میں جو قرآنِ پاک پڑھا گیا تھا، وہ شمار نہیں ہوگا، اس پڑھے ہوئے کا اعادہ کرے، تاکہ ایک جائز نماز میں ختمِ قرآن مکمل حاصل ہوسکے۔ (الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلوٰۃ، فصل فی التراویح، جلد 1، صفحہ 118، مطبوعہ کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے: اگر کسی وجہ سے نماز تراویح فاسد ہو جائے تو جتنا قرآن مجید ان رکعتوں میں پڑھا ہے اعادہ کریں تاکہ ختم میں نقصان نہ رہے۔ (بھارِ شریعت، حصہ 4، جلد 1، صفحہ 694، مکتبۃالمدینہ، کراچی)
سجدہ سہو لازم نہ ہونے کے دلائل:
سجدہ سہو مشروع ہونے کا سبب بیان کرتے ہوئے علامہ عبد الحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
لایجب الا بنقصان بترک واجب و نحوہٖ۔ لا بترک السنۃ و غیرھا فلا یجب بترک التعوذ و التسمیۃ و الثناء و غیر ذٰلک لان ما لا یجب ھو بنفسہٖ کیف یجب جبر النقصان واقع بہٖ۔ و لا یجب ایضاً بترک رکن عمداً کان او سھواً لان ترک الرکن مبطل للصلاۃ رأساً
ترجمہ: سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، مگر واجب یا اس جیسے کے ترک کی وجہ سے ، نہ سنت کے ترک کی وجہ سے، لہٰذا تعوذ، تسمیہ، ثناء وغیرہ کی وجہ سے واجب نہیں ہوتا، کیونکہ جو چیز خود واجب نہیں اس میں واقع ہونے والے نقصان کو پورا کرنا واجب کیسے ہوسکتاہے؟ اور سجدہ سہو فرض کے ترک کی وجہ سے بھی واجب نہیں ہوتا خواہ جان بوجھ کر ترک کیا ہو یا بھولے سے ترک ہوا ہو، کیونکہ فرض کو چھوڑنا نماز کو سرے سے باطل کر دیتا ہے۔ (عمدۃ الرعایہ علی شرح الوقایہ، کتاب الصلوٰۃ، باب سجود السھو، جلد 2، صفحہ 265، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے: واجبات نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے، تو اس کی تلافی کے ليے سجدۂ سہو واجب ہے۔۔۔ فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے، سجدۂ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی، لہٰذا پھر پڑھے اور سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ، ثنا، آمین، تکبیراتِ انتقالات، تسبیحات کے ترک سے بھی سجدۂ سہو نہیں ، بلکہ نماز ہو گئی۔ (بھارِ شریعت، حصہ 4، جلد 1، صفحہ 708، 709، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
چار رکعتی فرضوں کا آخری قعدہ چھوڑ کر پانچویں رکعت ملا لی تو اس کے متعلق فقہ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب الھدایہ میں ہے:
و ان قید الخامسۃ بسجدۃ بطل فرضہ عندنا خلافا للشافعی۔۔ و تحولت صلاتہ نفلا عندابی حنیفۃ و ابی یوسف فیضم الیھا رکعۃ سادسۃ
ترجمہ: اگر پانچویں رکعت کاسجدہ کرلیا تو فرض باطل ہوجائیں گے ہمارے نزدیک بخلاف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ۔۔۔ اور شیخین علیہماالرحمۃ کے نزدیک اس کی نماز نفل ہوجائے گی اور وہ ساتھ ایک رکعت اور ملا لے۔
اس کے تحت فتح القدیر میں ہے:
و ھل یسجد للسھو قیل نعم و الصحیح لا لان النقصان بالفساد لاینجبر بالسجود
ترجمہ: کیا اس صورت میں سجدہ سہو لازم ہے؟ تو کہا گیاہے کہ جی ہاں، جبکہ صحیح یہ ہے کہ سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ یہ نقصان سجدہ سہو سے پورا نہیں ہوگا۔ (فتح القدیر مع الھدایہ، جلد 1، صفحہ 446، 447 مطبوعہ کوئٹہ)
اسی طرح تبیین الحقائق (ج 1 ، ص 481)، نہر الفائق( ج 1، ص 330) اور بحرالرائق میں اس مسئلے کے تحت ہے:
و اللفظ للآخر لم یذکر المصنف سجود السھو لان الاصح عدم لان النقصان بالفساد لاینجبر بالسجود
مصنف علیہ الرحمۃ نے اس مسئلے میں سجدہ سہو کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اصح قول کے مطابق سجدہ سہو لازم ہی نہیں ہے اس لئے کہ یہ نقصان سجدہ سہو سے پورا ہونے وا لا نہیں ہے۔ (بحر الرائق شرح کنز الدقائق جلد 1 صفحہ 184 مطبوعہ کوئٹہ)
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں اس کا نقصان پوراہونا شمار ہونا تھا اور یوں یہ چاروں رکعات ہی شمار ہونی تھیں، حالانکہ تراویح میں ایسا نہیں ہوتا، بلکہ یہ حکم تراویح کے علاوہ عام سنن و نوافل کا حکم ہے، چنانچہ حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
أنهم قالوا: إن القعود الأول في رباعية النفل واجب يجبر بالسجود و مقتضاه أن تنوب عن تسليمتين و يجب عليه السجود إن كان ساهيا و قد يجاب بأن المذكور هنا في خصوص التراويح لكونها شرعت على هيئة مخصوصة بالسلام على رأس الركعتين فلا ينافي أنها في غيرها تجعل أربعا
فقہائے کرام رحمھم اللہُ السلام نے فرمایا ہے کہ چار رکعات والے نفل میں پہلا قعدہ واجب ہوتا ہے، جس کی کمی سجدہ سہو کے ساتھ پوری کی جاتی ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ دو سلاموں کی طرف سے واقع ہو اور اس پر سجدہ سہو واجب ہو اگر بھول کر ایسا ہوا، اس کا یہ جواب دیا گیا کہ یہاں پر تراویح کی خصوصیت میں ( چار رکعات کا دو کے قائم مقام ہونا) ذکر ہوا ہے، کیونکہ نمازِ تراویح دو رکعتوں پر سلام کے ساتھ ایک مخصوص ہیئت کے ساتھ مشروع ہوئی ہے، لہٰذا غیرِ تروایح کو چار رکعات بنانے میں یہ منافی نہیں ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، کتاب الصلوٰۃ، فصل فی التراویح، ص 414، بیروت)
خاص تراویح کے معاملہ میں بھی سجدہ سہو لازم نہ ہونے کی صراحت بھی فرمائی ہے، چنانچہ مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: امام نے تراویح کی نماز دو رکعت کی نیت پڑھنے کے بعد قعدہ بھول کر کھڑا ہوگیا، پھر دو رکعت پڑھ کے سجدہ سہو کیا، اس کی نماز ہوئی یا نہیں؟“ اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہوگئی، اس میں سجدہ سہو کی کچھ ضرورت نہیں، اگر پہلی رکعت میں قعدہ کر لیا ہو، تو چاروں دو تسمیہ سے ہوگئیں، اور اگر قعدہ نہ کیا ہو ، تو ایک تسمیہ سے چاروں ہوگئیں، نزد شیخین کریمین یہی مختار ہے۔ اس کو امام ابو جعفر نے اختیار فرمایا۔ نیز امام ابو بکر محمد بن الفضل نے بھی یہی اختیار فرمایا۔ اسی کو امام فقیہ النفس قاضی خان نے صحیح فرمایا۔ (فتاویٰ مفتی اعظم ھند، جلد 3، صفحہ 138، مطبوعہ بریلی شریف)
اشکال: در مختار میں ہے کہ دو رکعت پر قعدہ بھول گیا تو تیسری کے لیے کھڑا ہونے کی وجہ سے یہ نماز چار رکعت فرضوں کی طرح ہوجائے گی کہ جیسے چار رکعتی فرضوں کا قعدہ اُولیٰ بھول جانے سے سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے ، اسی طرح اس میں بھی یہی حکم ہوگا اور یہ واجب بن جائے گا اور پھر آخری قعدہ فرض ہوجائے گا اور آخر میں سجدہ سہو بھی لازم ہوگا ، جس سے نماز درست ہوجائے گی اور چاروں رکعت شمار ہوں گی۔ چنانچہ عبارت یہ ہے:
صلى أربعا فأكثر و (لم يقعد بينهما) استحسانا لأنه بقيامه جعلها صلاة واحدة فتبقى واجبة و الخاتمة هي الفريضة و في التشريح: صلى ألف ركعة و لم يقعد إلا في آخرها صح خلافا لمحمد، و يسجد للسهو
ترجمہ: کسی نے چار رکعات یا اس سے زیادہ نفل یوں پڑھے کہ دو رکعات پر قعدہ نہیں کیا تو استحساناً ( جائز ہے) کیونکہ تیسری کی طرف قیام کرنے کی وجہ سے یہ ایک نماز بن جائے گی، تو قعدہ اُوْلیٰ واجب ہوکر باقی رہ جائے گا اور آخری قعدہ فرض ہوجائے گا۔ اس کے تحت شامی میں ہے:
(قوله فتبقى واجبة إلخ) أي كما في نظيره من الفرض الرباعي، فإن القعدة الأولى فيه واجبة لا يبطل بتركها و الفريضة التي يبطل بتركها إنما هي الأخيرة
ترجمہ: (شارح کا قول: قعدہ اولیٰ واجب ہوجائے گا۔۔۔ الخ) یعنی اس کی نظیر چار رکعتی فرض نماز ہے ، کیونکہ اس میں قعدہ اولیٰ واجب ہوتا ہے ، جس کے ترک سے نماز باطل نہیں ہوتی اور فرض کے ترک سے نماز باطل ہوجاتی ہے اور وہ صرف آخری قعدہ ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوٰۃ، باب الوتر و النوافل، جلد 2، صفحہ 36 ، دار الفکر، بیروت)
جواب: اشکال میں بیان کی گئی عبارت تراویح کے متعلق نہیں ہے ، بلکہ عام نفل نماز کے متعلق ہے، جبکہ نمازِ تراویح کے متعلق درمختار اور پھر علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نےبھی استثناء کیا ہے کہ تراویح کے متعلق صحیح یہ ہے کہ دو رکعتیں ہوں گی ، چنانچہ اسی عبارت کے درمیان میں ہی علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ تراویح کی نماز کا استثناء کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لكن صححوا في التراويح أنه لو صلاها كلها بقعدة واحدة وتسليمة أنها تجزئ عن ركعتين
ترجمہ: فقہائے کرام نے تراویح کے متعلق تصحیح کی ہے کہ اگر تمام رکعات ایک ہی قعدے اور ایک ہی سلام کے ساتھ پڑھیں ، تو وہ ساری دو رکعتوں کی طرف سے کفایت کریں گی۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوٰۃ، باب الوتر و النوافل، جلد 2، صفحہ 36، دار الفکر، بیروت)
اسی طرح در مختار میں بھی دو سے زیادہ تراویح پڑھنے کو دو کے قائم مقام کہا گیا ہے، عبارت یہ ہے:
فلو فعلها بتسليمة؛ فإن قعد لكل شفع صحت بكراهة وإلا نابت عن شفع واحد به يفتى
مفہوم واضح ہے۔(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب االصلوٰۃ باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراویح، جلد 2، صفحہ 45، دار الفکر، بیروت)
امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس فرق کو بہت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے کہ عام نوافل اور تراویح کی نماز کا اس معاملے میں فرق ہے، جیسا کہ جد الممتار کی عبارت اوپر ذکر کی گئی، مزید ایک اور مقام ملاحظہ کیجیے، چنانچہ لکھتے ہیں:
ان النیابۃ عن شفع واحد مختص بالتراویح و اما بقیۃ السنن و النوافل فان صلی اربعاً کسنن الظھر او صلاۃ الضحی ولم یقعد علی راس الثانیۃ صحت الکل علی المذھب الصحیح استحسانا، و فی الھندیہ عن المحیط: (صلی الاربع قبل الظھر و لم یقعد علی راس الرکعتین جاز استحساناً) اھ
ترجمہ: بے شک ایک شفع کی نیابت تروایح کے ساتھ خاص ہے اور بہرحال بقیہ سنن اور نوافل تو اگر چار رکعت پڑھیں، جیسا کہ ظہر کی سنتیں یا چاشت کی نماز اور دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا تو مذہب صحیح پر استحسانا چاروں رکعتیں صحیح ہیں، اور ہندیہ میں محیط کے حوالے سے ہے کہ (ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں اور دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا، تو استحساناً جائز ہے۔ (جد الممتار، جلد 3، صفحہ 470، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مذکورہ بالا تمام بحث سے ثابت ہوگیا کہ تراویح کی نماز میں بھولے سے قعدہ نہیں کیا اور چار رکعات پر قعدہ کر کے نماز مکمل کی تو یہ فقط دو رکعتیں شمار ہوں گی اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2919
تاریخ اجراء: 19 رمضان المبارک 1447ھ / 09 فروری 2026ء