ناپاک کپڑوں میں لاعلمی سے پڑھی گئی نماز
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز کے بعد پتہ چلے کہ کپڑے ناپاک تھے تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی کے کپڑے ناپاک ہوں، مگر اُسے کپڑوں کی ناپاکی کا علم نہ ہو اور اس نے ان کپڑوں میں نماز پڑھ لی ہو اور بعد میں ان کا ناپاک ہونا معلوم ہوا ہو، تو اب ایسے کپڑے میں نجاست کے معلوم ہونے سے پہلے پڑھی گئی نماز کا کیا حکم ہوگا، کیا وہ نمازیں درست ہوجائیں گی یا انہیں دوبارہ ادا کرنا ہوگا؟
جواب
ناپاک کپڑوں میں نماز پڑھ لی، پھر بعد میں معلوم ہوا کہ کپڑوں پر تو ناپاکی لگی ہوئی ہے، اور وہ نجاست اس قدر ہو کہ جس میں نماز نہیں ہوتی یا واجبُ الاعادہ ہوتی ہے (اس میں نجاستِ غلیظہ اور خفیفہ کے اعتبار سے اور نجاست کے پتلی اور گاڑھی ہونے کے اعتبار سے تفصیل ہے) تو اگر اس ناپاکی کا کوئی ظاہری سبب معلوم ہو کہ اس وجہ سے کپڑے ناپاک ہوئے ہیں، تو اُسی ظاہری سبب کی طرف اس ناپاکی کی نسبت کی جائے گی، لہذاس سبب کے پائے جانے کے وقت سے اس نجاست کے نکلنے کا اعتبار کیا جائے گا اور اس سبب کے پائے جانے کے بعد سے جتنی نمازیں اس کپڑے میں پڑھیں ہوں گی، اُن سب نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا۔ لیکن اگر نجاست کا کوئی ظاہری سبب معلوم نہ ہو کہ یہ نجاست کیسے اور کب لگی تو کپڑے میں نجاست کے معلوم ہونے سے پہلے اس کپڑے میں جتنی نمازیں بھی پڑھیں، وہ سب درست اداہوجائیں گی، کسی نماز کو بھی لوٹانا ضروری نہیں ہوگا۔
یہ مذکورہ تفصیل مَنی کے علاوہ دیگر نجاستوں سے متعلق ہے۔ اگر کپڑے میں مَنی لگی دیکھی تو اگر چہ مَنی کے لگنے کا سبب معلوم نہ ہو، بہرحال آخری مرتبہ سونے کے بعد سے جتنی نمازیں بھی اُن کپڑوں میں پڑھی ہوں، اُن سب نمازوں کو دوبارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
در مختار میں ہے:
وجد في ثوبه منيا أو بولا أو دما أعاد من آخر احتلام و بول و رعاف
ترجمہ: کپڑے میں منی يا پیشاب یا خون لگا پایا تو آخری بار کے احتلام اور آخری بار کے پیشاب اور آخری بار کی نکسیر سے نمازوں کا اعادہ کرے گا۔
اس کے تحت ردالمحتار میں ہے:
و في بعض النسخ من آخر نوم و هو المراد بالاحتلام؛ لأن النوم سببه كما نقله في البحر (قوله ورعاف) هذا ظاهر إذا وقع له رعاف و لم يبينوا حكم ما إذا لم يقع له و لأجل هذا – واللہ تعالى أعلم - روى ابن رستم أن الدم لا يعيد فيه؛ لأن دم غيره قد يصيبه۔۔۔ و اختار في المحيط ما رواه ابن رستم ذكره في البحر۔۔۔ و في السراج: لو وجد في ثوبه نجاسة مغلظة أكثر من قدر الدرهم و لم يعلم بالإصابة لم يعد شيئا بالإجماع و هو الأصح. اهـ.قلت: و هذا يشمل الدم، فيقتضي أن الأصح عدم الإعادة مطلقا تأمل
ترجمہ: اور بعض نسخوں میں ہے کہ آخری بار کے سونے سے نمازوں کا اعادہ کرے گا اور احتلام سے یہی مراد ہے کیونکہ نیند احتلام کا سبب ہے جیسا کہ اِسے بحر میں نقل کیا ہے۔ اور ان کا قول کہ آخری بار کی نکسیر سے۔ یہ اس وقت ظاہر ہے کہ جب اس کیلئے نکسیر واقع بھی ہوئی ہو اور جب نکسیر واقع نہ ہو تو فقہائے کرام نے اس کا حکم بیان نہیں کیا اور واللہ اعلم اسی وجہ سے ابن رستم نے روایت کیا ہے کہ خون لگے ہونے پر نماز کا اعادہ نہیں کرے گا کیونکہ کسی دوسرے کا خون بھی لگ سکتا ہے۔۔۔ محیط میں اسے اختیار کیا جسے ابن رستم نے روایت کیا اور بحر میں جس کو ذکر کیا۔۔۔ اور سراج میں ہے: اگر اس کے کپڑے میں نجاستِ مغلّظہ درہم کی مقدار سے زیادہ پائی جائے اور اسے اس کے لگنے کا علم نہ ہو تو بالاجماع وہ کسی نماز کو دوبارہ نہیں پڑھے گا، اور یہی اصح ہے۔ انتہیٰ۔ میں (علامہ شامی) کہتا ہوں: یہ حکم خون کو بھی شامل ہے، پس اس کا تقاضا یہ ہے کہ مطلقاً نماز کا اعادہ نہ کرنا ہی اصح ہے، غور کیجئے۔ (درمختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 421، دار المعرفۃ، بیروت)
اگر نجاست لگنے کا کوئی ظاہری سبب معلوم ہو تو اُسی سبب کی طرف نسبت کی جائے گی، چنانچہ اس کے تحت جد الممتار میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشادفرماتے ہیں:
قوله: قلت: و هذا يشمل الدم... إلخ: قلت: الذي يظهر : أن هذا إذا لم يعلم سبباً ظاهراً، أما إذا علم فالإسناد إليه، كما إذا سبح ماء، ثم خرج، ثم رأى دماً كثيراً، ثم علم تعلق علق. فمن المعلوم أن العلق لم يتعلّق إلا في الماء، و أن هذا الدم منه، و أنه لا يخرج هذا القدر الكثير إلا في زمان فليقدر ثمّ ليحكم، و الله تعالى أعلم
ترجمہ: (ان کا قول کہ یہ حکم خون کو بھی شامل ہے) میں کہتا ہوں: جو بات ظاہر ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کسی ظاہری سبب کا علم نہ ہو، لیکن اگر سبب معلوم ہو تو اسی کی طرف نسبت کی جائے گی، جیسے کوئی شخص پانی میں گیا، پھر باہر نکلا، پھر اس نے زیادہ خون دیکھا، پھر اسے معلوم ہوا کہ جونک چمٹ گئی تھی۔ تو ظاہر ہے کہ جونک پانی ہی میں چمٹی تھی، اور یہ خون اسی کی وجہ سے ہے، اور اتنی زیادہ مقدار کا خون ایک ہی وقت میں نہیں نکلتا، اس لیے اندازہ کیا جائے گا، پھر اسی کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے۔ (جد الممتار، جلد 2، فصل فی البئر، صفحہ 171، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
کپڑے پرنجاست لگنے کا ظاہری سبب معلوم نہ ہو کہ کب کیسے لگی، تو جتنی نمازیں پڑھیں وہ سب درست ہوگئیں، اعادے کی ضرورت نہیں، چنانچہ مبسوط سرخسی میں ہے:
من رأی فی ثوبہ نجاسۃ لایدری متی اصابتہ لایلزمہ اعادۃشیء من الصلوات
ترجمہ:جس نے اپنے کپڑے پر نجاست کو دیکھا، اور یہ نہیں جانتا کہ کب سے لگی ہے، توکسی نمازکااعادہ لازم نہیں۔ (مبسوط سرخسی، جلد 1، صفحہ 59، دار المعرفہ، بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
و لو اطلع علی نجاسۃ فی ثوبہ اکثر من قدرالدرھم و لم یتیقن وقت اصابتھا لایعید شیئا من الصلاۃ
ترجمہ: اور اگر کوئی اپنے کپڑے پر ایک درہم سے زائد لگی نجاست پر مطلع ہوا اور اسے نجاست لگنے کاوقت معلوم نہ ہو، تووہ کسی نماز کا اعادہ نہیں کرے گا۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 78، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
کپڑے میں منی لگے دیکھا تو آخری بار کے احتلام یعنی آخری بار کے سونے کے بعد سے نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا، چنانچہ بحر الرائق میں ہے:
ذکر ابن رستم فی نوادرہ عن أبی حنیفۃ من وجد فی ثوبہ منیا أعاد من آخر ما احتلم و إن کان دما لا یعید لأن دم غیرہ قد یصیبہ و الظاهر أن الإصابة لم تتقدم زمان وجوده فأما مني غيره لا يصيب ثوبه فالظاهر أنه منيه فيعتبر وجوده من وقت وجود سبب خروجه حتى إن الثوب لو كان مما يلبسه هو و غيره يستوي فيه حكم الدم و المني
ترجمہ: ابن رستم نے اپنی نوادر میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ جس نے اپنے کپڑے پر منی پائی، تو آخری احتلام سے اب تک کی تمام نمازیں لوٹائے گا اور اگر خون پایا، تو اعادہ نہیں ہے، اس لیے کہ خون کسی اور کا بھی اس کے کپڑے کو لگ سکتا ہے، اور ظاہر یہی ہے کہ اس خون کا لگنا اس کے پائے جانے کے زمانے سے مقدم نہیں ہوگا۔ بہرحال کسی دوسرے کی منی اس کے کپڑے کو نہیں پہنچ سکتی، تو ظاہر یہی ہے کہ یہ اسی کی منی ہے، لہذا اس کےپائے جانے کا اعتبار، اس کے سببِ خروج کے پائے جانے کے وقت سے کیا جائے گا، یہا ں تک کہ اگر کپڑا یسا ہو جسے وہ اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص بھی پہنتا ہو تو ایسے کپڑے میں خون اور منی کا حکم برابر ہوگا۔ (البحر الرائق، جلد 1، کتاب الطھارۃ، صفحہ 132، مطبوعہ دار الکتاب الإسلامی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1054
تاریخ اجراء: 18 رجب المرجب 1447ھ /08جنوری2025ء