logo logo
AI Search

عید کی نماز میں امام رکوع میں ملے تو تکبیریں کیسے پڑھیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عید کی نماز میں امام کو رکوع میں پانے والا زائد تکبیریں کیسے ادا کرے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عید کی نماز کے لیے آیا اور امام صاحب رکوع میں چلے گئے ہوں تو اب جو زائد تکبیریں ہیں وہ کیسے ادا کرے گا؟

جواب

اگر کوئی عید کی نماز میں امام کو رکوع میں پائے اور اسے ظن غالب ہو کہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد قیام ہی میں تکبیراتِ عیدین ادا کرکے رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے تو وہ قیام میں ہی تکبیراتِ عیدین اد اکرے، ورنہ رکوع میں جا کر امام کے رکوع سے سر اٹھانے سے پہلے بغیر رفع یدین کے (یعنی ہاتھ اٹھائے بغیر) تکبیرات عیدین اد اکرے، اس دوران اگر امام نے رکوع سے سر اٹھالیا تو تکبیرات چھوڑ کر امام کی اتباع میں قومہ میں جائے کہ اس سے بقیہ تکبیرات ساقط ہوگئیں۔

مذکورہ تمام تفصیل میں عید کی دونوں رکعتوں کا حکم یکساں ہے۔

محقق علی الاطلاق ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أدرک الامام راکعا یحرم ثم ان غلب علی ظنہ ادراکہ فی الرکوع ان کبّر قائما کبر قائما ثم رکع لأن القیام ھو المحل الأصلی للتکبیر۔۔۔ و ان خشی فوت رکوع الامام رکع و کبر فی رکوعہ و لا یرفع یدیہ۔۔۔ و ان رفع الامام رأسہ سقط عنہ ما بقی من التکبیر

ترجمہ: اما م کو رکوع میں پایا تکبیر تحریمہ پڑھے پھر اگر اسے ظن غالب ہو کہ اگر قیام کی حالت میں تکبیراتِ عیدین ادا کرنے کی صورت میں امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے گا تو قیام میں ہی تکبیرات ادا کرے پھر رکوع میں جائے کیونکہ قیام ہی تکبیرات کا اصل مقام ہے۔۔۔ اور اگر امام کے ساتھ رکوع میں شامل نہ ہونے کا خوف ہو تو رکوع میں چلا جائے اور اسی میں تکبیرات ادا کرے اور رفعِ یدین نہ کرے۔۔۔ اور اگر امام نے اپنا سر رکوع سے اٹھالیا تو بقیہ تکبریں ساقط ہوجائیں گی۔ (فتح القدیر شرح الھدایۃ، جلد 2، صفحہ 78، دار الفکر)

عالمگیری میں ہے:

و لو انتهى رجل إلى الإمام في الركوع في العيدين فإنه يكبر للافتتاح قائما فإن أمكنه أن يأتي بالتكبيرات و يدرك الركوع فعل و يكبر على رأي نفسه و إن لم يمكنه ركع و اشتغل بالتكبيرات عند أبي حنيفة و محمد - رحمهما اللہ تعالى - هكذا في السراج الوهاج، و لا يرفع يديه إذا أتى بتكبيرات العيد في الركوع، كذا في الكافي، و لو رفع الإمام رأسه بعد ما أدى بعض التكبيرات فإنه يرفع رأسه و يتابع الإمام و تسقط عنه التكبيرات الباقية، كذا في السراج الوهاج

ترجمہ: اگر کوئی شخص عید کی نماز میں امام کو رکوع میں پائے تو کھڑے کھڑے تکبیر تحریمہ پڑھے پھر اگر قیام کی حالت میں تکبیرات عیدین ادا کر کے امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہونا ممکن ہو تو ایسا ہی کرے اور اپنے (مذہب فقہی) کی رائے کے مطابق تکبیراتِ عید ادا کرےاور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو رکوع میں شامل ہوجائے اور رکوع ہی میں تکبیراتِ عید ادا کرے طرفین رحمھما اللہ کے نزدیک، اسی طرح سراج وھاج میں ہے، اور رکوع میں تکبیرات ادا کرتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے اسی طرح کافی میں ہے، اگر مقتدی نے پوری تین تکبیریں اد انہیں کی تھیں کہ امام نے رکوع سے سر اٹھالیا تو وہ امام کی اتباع میں بقیہ تکبیریں ترک کرکے رکوع سے اٹھ جائے اور بقیہ تکبیریں اس سے ساقط ہو جائیں گی اسی طرح سراج وھاج میں ہے۔ (الفتاوى الهندية، جلد 1، صفحہ 151، دار الفکر)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلی رکعت میں۔۔۔ اگر امام کو رکوع میں پایا اور غالب گمان ہے کہ تکبیریں کہہ کر امام کو رکوع میں پا لے گا تو کھڑے کھڑے تکبیریں کہے پھر رکوع میں جائے ورنہ اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جائے اور رکوع میں تکبیریں کہے پھر اگر اس نے رکوع میں تکبیریں پوری نہ کی تھیں کہ امام نے سر اٹھا لیا تو باقی ساقط ہوگئیں۔۔۔ اس میں ہاتھ نہ اٹھائے ۔۔۔ اور اگر دوسری رکعت میں شامل ہوا تو پہلی رکعت کی تکبیریں اب نہ کہے بلکہ جب اپنی فوت شدہ پڑھنے کھڑا ہو اس وقت کہے اور دوسری رکعت کی تکبیریں اگر امام کے ساتھ پا جائے، فبہا ورنہ اس میں بھی وہی تفصیل ہے جو پہلی رکعت کے بارہ میں مذکور ہوئی۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 782، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0090
تاریخ اجراء: 23 رمضان المبارک 1444ھ / 14 اپریل 2023ء