تراویح میں سنت کی نیت ہوگی یا نفل نماز کی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نمازِ تراویح کی نیت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مجھے یہ سوال پوچھنا تھا کہ امام صاحب کے پیچھے تراویح کی نماز میں سنت کی نیت کرنی ہے یا نفل نماز کی نیت کرنی ہے؟
جواب
احتیاط اسی میں ہے کہ تراویح میں تراویح یا سنت وقت یا پھر قیام اللیل کی نیت کرے، البتہ اگر مطلق نماز کی نیت کی، تو اس سے بھی تراویح کی نماز ادا ہو جائے گی۔
منیۃ المصلی میں ہے
و الاحتیاط فی التراویح ان ینوی التراویح نفسھا او سنۃ الوقت او قیام اللیل
ترجمہ: اور احتیاط اسی میں ہے کہ تراویح میں تراویح، سنت وقت یا قیام اللیل کی نیت کرے۔ (غنیۃ المستملی، صفحہ 217، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے اصح یہ ہے کہ نفل و سنت و تراویح میں مطلق نماز کی نیت کافی ہے، مگر احتیاط یہ ہے کہ تراویح میں تراویح یا سنت وقت یا قیام اللیل کی نیت کرے اور باقی سنتوں میں سنت يا نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کی متابعت کی نیت کرے، اس ليے کہ بعض مشائخ ان میں مطلق نیت کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 493، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4807
تاریخ اجراء: 16رمضان المبارک1447ھ / 06مارچ2026ء