ریح کی شدت میں نماز شروع کرنا یا توڑنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ریح کی شدت ختم ہونے کے بعد نماز شروع کر سکتے ہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے علمائے کرام سے سنا ہے کہ ہوا خارج ہونے کی شدت ہو، تو نماز شروع کرنا، گناہ ہے، اسی طرح نماز کے دوران حاجت ہو، تو نماز توڑنا ضروری ہوتا ہے، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ (1) اگر کسی کو نماز سے پہلے اس طرح کی کیفیت ہو، لیکن پھر یہ کیفیت ختم ہو گئی اور طبیعت نارمل ہو گئی، تو کیا اب بھی نماز شروع کرنا، گناہ ہوگا؟
(2) اگر کسی کو دورانِ نماز پیشاب، پاخانہ یا ہوا وغیرہ کی حاجت محسوس ہوئی، لیکن شدید نہ ہو، بلکہ معمولی سا محسوس ہو، تو کیا اب بھی نماز توڑنا ضروری ہوگا؟
جواب
(1) حکمِ شرعی یہ ہے کہ نماز کے وقت پیشاب، پاخانہ کی شدت یا ریح یعنی ہوا خارج ہونے کا غلبہ ہو، تو وقت میں گنجائش ہونے کی صورت میں اس کیفیت میں نماز شروع کرنا، مکروہِ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے اور اس حالت میں پڑھی گئی نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوتا ہے، لیکن اگر نماز سے پہلے ہی یہ کیفیت بالکل ختم ہو گئی اور نماز شروع کرتے وقت اطمینان ہو، تو بلا کراہت نماز پڑھنا، جائز ہے کہ اب ممانعت کی وجہ ختم ہو چکی۔ اور اگر معمولی احساس بھی باقی ہے، تو ایسی صورت میں نماز کا وقت اور جماعت نکل جانے کا اندیشہ نہ ہو، تو بہتر یہ ہے کہ اس سے فارغ ہو کر نماز ادا کی جائے کہ بلا وجہ اس حالت میں بھی نماز پڑھنا مکروہ یعنی ناپسندیدہ عمل ہے۔
(2) اگر دورانِ نماز پاخانہ، پیشاب وغیرہ کی حاجت محسوس ہوئی، مگر اس کی شدت نہیں ہے، معمولی احساس ہے، تو اب نماز توڑنا، واجب و ضروری نہیں اور فی نفسہ جائز بھی ہے یا نہیں؟ اس میں علماء کو کلام اور تامل ہے، لہٰذا توڑنے کی بجائے اسی نماز کو مکمل کرلے۔ پیشاب، پاخانہ یا ریح کا غلبہ وغیرہ ایسی صورت جس میں توجہ بٹتی ہو، اس کیفیت میں نماز کی ممانعت کے متعلق سنن ابو داؤد، سنن کبریٰ، جمع الجوامع اور کنز العمال وغیرہا کی حدیثِ پاک میں ہے،
و اللفظ لسنن الکبریٰ: عن أبي هريرة، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: لا يحل لرجل أو لامرئ أن يصلي وهو حاقن حتى يتخفف
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: کسی مرد یاعورت کے لیے اس حالت میں نماز پڑھنا جائز نہیں کہ وہ پیشاب روکنے والا ہو، جب تک کہ اس سے فارغ نہ ہو جائے۔ (السنن الکبری، جلد 3، صفحہ 185، مطبوعہ بیروت)
نماز سے پہلے ریح وغیرہ کی شدت ہو، تو اسی کیفیت میں نماز شروع کرنا، مکروہ تحریمی ہے، اگر ایسی کیفیت نہ ہو، تو یہ حکم بھی نہیں، چنانچہ بحرالرائق، نہر الفائق، تبیین الحقائق، درر الحکام، بنایہ شرح ہدایہ، تنویر الابصار و درمختار وغیرہا کتبِ فقہ میں ہے،
و اللفظ للآخر: (صلاتہ مع مدافعۃ الاخبثین) او احدھما (او الریح)
یعنی: پاخانہ، پیشاب یا ان میں سے ایک یا ریح کی شدت کے وقت نماز ادا کرنا، مکروہ (تحریمی) ہے۔ مذکورہ بالا عبارت کے تحت رد المحتار میں ہے:
(قوله وصلاته مع مدافعة الأخبثين إلخ) أي البول و الغائط. قال في الخزائن: سواء كان بعد شروعه أو قبله، فإن شغله قطعها إن لم يخف فوت الوقت، و إن أتمها أثم... و ما ذكره من الاثم صرح به في شرح المنية و قال لأدائها مع الكراهة التحريمية
ترجمہ: پیشاب، پاخانہ کی حاجت ہو، تو نماز پڑھنا مکروہ ہے اور خزائن میں فرمایا کہ برابرہے کہ یہ حاجت نماز شروع کرنے سے پہلے ہو یا بعد میں، تو اگر یہ کیفیت اس کے دل کو مشغول کر دے، تو نماز توڑ دے جبکہ وقت فوت ہونے کا خوف نہ ہو اور اگر یونہی نماز مکمل کر لی ، تو گناہ گار ہوا۔ اور جو گناہ کا ذکر کیا ہے، تو اس کی تصریح شرح منیہ میں کی گئی ہے، انہوں نے فرمایا: کراہت تحریمی کے ساتھ نماز اداکرنے کی وجہ سے (گناہ گار ہے)۔ (تنویر الابصار و در المختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 492، مطبوعہ کوئٹہ)
اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
و يكره... أن يدخل في الصلاة و هو يدافع الأخبثين وإن شغله قطعها و كذا الريح و إن مضى عليها أجزأه و قد أساء
یعنی: پاخانہ یا پیشاب کی شدت کی حالت میں نماز میں داخل ہونا مکروہِ تحریمی ہے، اگر نماز شروع کردی تو اسے توڑدے۔ یہی حکم ریح کا بھی ہے، تو اگر اسی کیفیت میں نماز جاری رکھی، تو نماز ادا ہوجائے گی، لیکن اس نے برا کیا۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 107، مطبوعہ كوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے: شدت کاپاخانہ پیشاب معلوم ہوتے وقت، یا غلبہ ریاح کے وقت نمازپڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔۔۔ نماز شروع کرنے سے پیشتر اگر ان چیزوں کا غلبہ ہو تو وقت میں وسعت ہوتے ہوئے شروع ہی ممنوع و گناہ ہے، قضائے حاجت مقدم ہے، اگرچہ جماعت جاتی رہنے کا اندیشہ ہو اور اگر دیکھتا ہے کہ قضائے حاجت اور وضو کے بعد وقت جاتا رہے گا، تو وقت کی رعایت مقدم ہے، نماز پڑھ لے اور اگر اثنائے نماز میں یہ حالت پیدا ہو جائے اور وقت میں گنجائش ہو تو توڑ دینا واجب اور اگر اسی طرح پڑھ لی، تو گناہ گار ہوا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 625، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اس حالت میں پڑھی گئی نماز واجب الاعادہ ہوگی، چنانچہ درمختار میں ہے:
کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریمیۃ تجب اعادتھا
ترجمہ: ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کا اعادہ واجب ہے۔ (درمختار، جلد 2، صفحہ 182، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے: جس بات سے دل بٹے اور دفع کر سکتا ہو اسے بے دفع کيے ہر نماز مکروہ ہے، مثلاً پاخانے یا پیشاب یا ریاح کا غلبہ ہو مگر جب وقت جاتا ہو، تو پڑھ لے پھر پھیرے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 457، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
دورانِ نماز حاجت محسوس ہوئی، لیکن شدید نہیں، تو نماز کے حکم کے متعلق در مختار، درر الحکام، نورالایضاح مع مراقی الفلاح، حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں ہے،
و اللفظ للاوّل: و يستحب لمدافعة الأخبثين، و للخروج من الخلاف إن لم يخف فوت وقت أو جماعة
ترجمہ: پاخانہ، پیشاب کی (معمولی) حاجت کی صورت میں اور خلاف سے نکلنے کے لیے نماز توڑنا مستحب ہے، جب کہ جماعت و نماز کا وقت نکلنے کا اندیشہ نہ ہو۔ مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:
(قوله و يستحب لمدافعة الأخبثين) كذا في مواهب الرحمن و نور الايضاح، لكنه مخالف لما قدمناه عن الخزائن و شرح المنية، من أنه إن كان ذلك يشغله أي يشغل قلبه عن الصلاة و خشوعها فأتمها يأثم لأدائها مع الكراهة التحريمية، و مقتضى هذا أن القطع واجب لا مستحب. و يدل عليه الحديث المار «لا يحل لأحد يؤمن بالله و اليوم الآخر أن يصلي و هو حاقن حتى يتخفف» اللّٰهم إلا أن يحمل ما هنا على ما إذا لم يشغله. لكن الظاهر أن ذلك لا يكون مسوغا فليتأمل. ثم رأيت الشرنبلالي بعد ما صرح بندب القطع كما هنا قال: و قضية الحديث توجبه
ترجمہ: شارح کا قول: پاخانہ، پیشاب کی (معمولی) حاجت ہو، تو نماز توڑنا مستحب ہے۔ یونہی مواہب الرحمٰن اور نور الایضاح میں ہے، لیکن یہ حکم ما قبل خزائن اور شرح منیہ کے حوالے سے بیان کردہ حکم کے مخالف ہے، وہ حکم یہ تھا کہ پیشاب، پاخانہ وغیرہ کی حاجت اگر ایسی ہو کہ اس کےسبب دل بٹے اور خشوع و خضوع میں خلل آئے، تو اس حالت میں نماز مکمل کرنا، گناہ ہے اور نماز مکروہِ تحریمی ہوگی۔ اس بنا پر حکمِ شرعی کا تقاضا یہ ہے کہ نماز توڑنا، صرف مستحب نہیں، بلکہ واجب ہو۔ اور اس حکم پر ذکر کردہ حدیثِ پاک بھی دلالت کرتی ہے کہ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس حال میں نماز ادا کرے کہ وہ پیشاب روکنے والا ہو، جب تک کہ اس سے فارغ نہ ہو جائے۔ مگر یہ کہ مذکورہ حکم کو اس صورت پر محمول کیا جائے کہ جب پیشاب وغیرہ کی ایسی حاجت ہو کہ اس سبب سے دل نہ بٹے (یعنی شدید حاجت نہ ہو)۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ایسا سبب نہیں، جس کی بنا پر نماز توڑنا، جائز ہو، تو غور کرنا چاہیے۔ پھر میں نے علامہ شرنبلالی رَحِمَہُ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے اسی طرح نماز توڑنے کے مستحب ہونے کی صراحت کرنے کے بعد فرمایا: اور حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ یہ واجب ہو۔ (درمختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 514، مطبوعہ کوئٹہ)
اسی مفہوم کا کلام علامہ شرنبلالی رَحِمَہُ اللہ نے مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں اور علامہ طحطاوی رَحِمَہُ اللہ نے حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں ذکر کیا ہے، لیکن علامہ شامی رَحِمَہُ اللہ کی طرح استحباب کے حکم کا کوئی محمل بیان نہیں فرمایا۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، فصل فی المکروھات، صفحہ 131، مطبوعہ المکتبۃ العصریۃ) (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، صفحہ 359، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
رد المحتار کی مذکورہ عبارت لكن الظاهر أن ذلك لا يكون مسوغا کے تحت کلام کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) جد الممتار میں لکھتے ہیں:
أقول: لا شك أن ما لا يشغله لكن في الطبع نوع طلب للتخلي فالكراهة حاصلة و لو تنزيهية، و في عدم كونه مسوغا نظر ألا ترى أن القطع مستحب للخروج من الخلاف، و هو ليس إلا مستحبا، و ترك المستحب لا يوجب الكراهة، فكيف فيما يوجبها
ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ شک نہیں کہ دل کو مشغول نہ کرنے والی کیفیت میں بھی طبیعت میں ایسی نوع ہوتی ہے جو تخلی (خلاصی) کی طالب ہوتی ہے، تو کراہت حاصل ہے اگرچہ تنزیہی ہے، لہٰذا اسے توڑنے کے لئے مسوغ (نماز توڑنے کا سبب) قرار نہ دینے میں نظر ہے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ خلاف سے نکلنے کے لئے نماز توڑنا مستحب ہے اور خلاف سے نکلنا صرف مستحب ہی ہے ا ور ترک مستحب، کراہت کو ثابت نہیں کرتا، تو اس میں نماز توڑنے کی اجازت کیسے نہیں ہوگی جو کراہت کو ثابت کرے۔ (جد الممتار، جلد 3، صفحہ 421، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
بہار شریعت میں ہے: پاخانہ، پیشاب معلوم ہوا یا کپڑے یا بدن میں اتنی نجاست لگی دیکھی کہ مانع نماز نہ ہو، یا اس کو کسی اجنبی عورت نے چھو دیا، تو نماز توڑ دینا مستحب ہے، بشرطیکہ وقت و جماعت نہ فوت ہو اور پاخانہ پیشاب کی حاجت شدید معلوم ہونے میں تو جماعت کے فوت ہو جانے کا بھی خیال نہ کیا جائے گا، البتہ فوت وقت کا لحاظ ہوگا۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 637، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9725
تاریخ اجراء: 18 رجب المرجب 1447ھ / 8 جنوری 2026ء