دورانِ اذان سینہ پھیرنے کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دورانِ اذان سینہ پھیرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا اذان دیتے وقت جب حی علی الفلاح اور حی علی الصلوٰۃ کہا جائے تواگر اس وقت سینہ پھیر لیا جائے تو اذان نہیں ہوتی ؟
جواب
دورانِ اذان حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کہتے ہوئے سنت یہ ہے کہ اپنا چہرہ دائیں، بائیں پھیرا جائے،سینہ نہ پھیرا جائے۔ البتہ کسی نے سینہ پھیر لیا، تو بھی اذان ہوجائے گی۔
تنویر الابصار و در مختار میں ہے:
”(ویلتفت فیہ یمینا ویسارا بصلاۃ وفلاح ) ولو وحدہ او لمولود ، لانہ سنۃ الاذان مطلقا“
یعنی اذان دینے والا اذان میں حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کہتے ہوئے دائیں بائیں التفات کرے گا اگرچہ اکیلا ہو یا بچہ کے لئے اذان دے رہا ہو، کیونکہ یہ التفات مطلقاً اذان کی سنت ہے۔(الدر المختار ۔ ملتقطا، جلد2، صفحہ 66، مطبوعہ:بیروت)
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ”ویلتفت“ کے تحت ارشاد فرماتے ہیں:
”ای : يحول وجهه لا صدره“
یعنی اپنا چہرہ پھیرے گا ، سینہ نہیں۔(رد المحتار علی الدر المختار ، جلد2، صفحہ 66، مطبوعہ:بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-2313
تاریخ اجراء:21رجب المرجب1446ھ/22جنوری 2025ء