قعدہ اولی میں سجدہ سہو کرنے سے نماز کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بھول کر قعدہ اولی میں سجدہ سہو کر نے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کوئی شخص اکیلا چار رکعت نماز پڑھ رہا تھا، اور نماز میں سجدہ سہو لازم تھا، اور اس نے قعدہ اولی کو قعدہ اخیرہ سمجھ کر بھولے سے قعدہ اولی میں سجدہ سہو کر لیا، پھر یاد آنے پر دو رکعت مزید پڑھ کر آخر میں دوبارہ سجدہ سہو کر لیا، تو کیا پہلے سجدہ سہو کی وجہ سے نماز میں کوئی خرابی تو نہیں آئی؟ یعنی اس کو دوبارہ تو نہیں پڑھنا ہو گا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں جب کہ آخر میں سجدہ سہو کر لیا تھا، تو بھولے سے قعدہ اولی میں سجدہ سہو کرنے سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آئی۔ کتاب التجنیس والمزید میں ہے
”سجدۃ السھو اذا وقعت فی وسط الصلاۃ لا یعید ھا ویسجد ثانیا لانھا وقعت فی غیر محلھا لان محلھا آخر الصلاۃ “
ترجمہ: سجدہ سہو جب درمیان نماز میں واقع ہو تو نماز کا اعادہ نہیں بلکہ سجدہ سہو دوبار ہ کرے کیونکہ پہلے غیر محل میں ادا ہو ا کہ سجدہ سہو کا محل نماز کا اخر ہے۔ (کتاب التجنیس و المزید، جلد 2، صفحہ 155، مطبوعہ: کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے ”بے حاجت سجدہ سہو نماز میں زیادت اور ممنوع ہے مگر نماز ہوجائے گی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 328، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4663
تاریخ اجراء: 27 رجب المرجب1447ھ/17جنوری 2026ء