نماز کے قومہ میں نظر کہاں رکھنی چاہیے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز میں قومہ کی حالت میں نظر کہاں ہونی چاہیے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
نماز میں قومہ (سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھا کھڑے ہونے) کی حالت میں کہاں دیکھنا مستحب ہے؟ قیام کی طرح سجدے کی جگہ یا کسی اور جگہ؟
جواب
رکوع سے کھڑے ہو کر قومہ میں نظر سینہ پر ہونی چاہئے۔ حیات اعلی حضرت میں ہے "جناب سَیِّد ایُّوب علی صاحب کا بیان ہے کہ بعد نمازِ ظہر حضور مسجد میں وظیفہ پڑھ رہے تھے کہ ایک اجنبی صاحب نے سامنے آ کر نِیَّت باندھی۔ جب رُکوع کِیا تو گردن اُٹھائے ہوئے سجدہ گاہ کو دیکھتے رہے۔ فارغ ہونے پر حضور نے پاس بُلا کر دریافت کِیا کہ رُکوع کی حالت میں اِس قدر گردن آپ نے کیوں اُٹھائی تھی؟ اُنہوں نے عرض کیا: حُضُور سجدے کی جگہ کو دیکھ رہا تھا۔ فرمایا: سجدہ میں کیا کیجئے گا (یعنی ہر حالت میں سجدہ کی جگہ پر نظر نہیں ہونی چاہئے) پھر فرمایا: بحالتِ قِیام، نظر سجدہ گاہ پر اور بحالتِ رُکوع پاؤں کی انگلیوں پر اور بحالتِ تسمیع (رُکوع سے کھڑے ہو کر) سینہ پر اور بحالتِ سُجُود ناک پر اور بحالتِ قُعُود (اَلتَّحِیَّات وغیرہ پڑھتے ہوئے) اپنی گود پر نظر رکھنی چاہئے، نیز سلام پھیرتے وقت کاتِبِیْن (اعمال لکھنے والے فرشتوں) کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے شانوں (کندھوں) پر نظر ہونی چاہئے۔" (حیات اعلی حضرت، حصہ1، صفحہ 185، اکبر بک سیلرز، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4674
تاریخ اجراء: 04 شعبان المعظم 1447 ھ/24 جنوری 2026ء