بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک شخص نے چار رکعت نماز، جمعہ کی سنتِ مؤکدہ بعدیہ پڑھیں اور ان کو مکمل کر کے سلام پھیر دیا، پھر دو سنتیں شروع کرنے کے لئے کھڑا ہو ا، تو اسے یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید چار رکعت سنت میں سے تین رکعت پڑھی ہوں، لیکن یہ محض خیال تھا، غالب گمان یہی تھا کہ چار مکمل کی ہیں، پھر یہ شخص بقیہ نماز مکمل کر کے گھر چلا گیا، تو کیا اس پر دوبارہ سے چار رکعت سنتِ مؤکدہ کی ادائیگی لازم ہو گی؟
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص کی چار رکعت سنتِ مؤکدہ صحیح طور پر ادا ہو گئی ہیں، محض شک کی بناء پر ان کو دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں۔
چنانچہ علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں:
فلو شك بعد الفراغ منها أنه صلى ثلاثا أو أربعا لا شيء عليه و يجعل كأنه صلى أربعا
ترجمہ: اگر نمازی کو نماز سے فارغ ہونے کے بعد شک ہوا کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار، تو اس پر کچھ نہیں (یعنی اس نماز کو دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں) اور یہ ایسے ہی ہے کہ گویا اس نے چار رکعت پڑھی ہیں۔ (بحر الرائق، کتاب الزکوٰۃ، جلد 2، صفحہ 117، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
یونہی علامہ اَحمد طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ / 1815ء) لکھتے ہیں:
فلو شك بعد سلامه أو قعوده قدر التشهد قبل السلام في عدد الركعات لا يعتبر شكه فلا شيء عليه حملا لحاله على الصلاح
ترجمہ: اگر اسے سلام پھیرنے کے بعد، خواہ سلام سے پہلے ہی بقدرِ تشہد قعدہ کر لینے کے بعد رکعات کی تعداد میں شک ہوا، تو اس کا شک معتبر نہیں اور نہ ہی اس پر کچھ لازم ہو گا، اس کے حال (کام) کو درستی پر محمول کرتے ہوئے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 476، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان)
بہار شریعت میں ہے: نماز پوری کرنے کے بعد شک ہوا تو اس کا کچھ اعتبار نہیں۔ (بہار شریعت جلد 1، حصہ 4، صفحہ 718، مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9684
تاریخ اجراء: 25 جمادی الثانیہ 1447ھ / 17 نومبر 2025ء