نماز میں اردو زبان میں لقمہ دینے سے نماز کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ٹھیک ہے وغیرہ اردو کلمات سے نماز میں لقمہ دینا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ(1) امام صاحب تراویح پڑھا رہے تھے، دورانِ قراءت سامع نے لقمہ دیتے ہوئے کہا "ٹھیک ہے" یعنی امام صاحب جو پڑھ رہے ہیں، وہ ٹھیک ہے ۔
(2) اسی طرح دورانِ تراویح امام صاحب کے پیچھے اس کا بیٹا سامع تھا اور اس نے اپنے والد یعنی امام صاحب کو دورانِ قراءت لقمہ دیتے ہوئے کہا "نہیں ابو جی" یعنی جیسے آپ پڑھ رہے ہیں، ایسے نہیں ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں دونوں صورتوں میں نماز کا کیا حکم ہے؟
نوٹ: مذکورہ صورتوں میں مقتدی کے ان الفاظ کے باوجود امام نے کوئی ایسا قول یا فعل نہیں کیا جو اس کی نماز کو فاسد کرنے والا ہو۔
جواب
(1،2) بیان کردہ دونوں صورتوں میں "ٹھیک ہے" اور "نہیں ابو جی" جیسے الفاظ کے ساتھ لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو گئی کہ اگرچہ ضرورت کے وقت امام کو لقمہ دینے کی اجازت ہے، لیکن اس کا درست اور شرعی طریقہ یہ ہے کہ جب امام قراءت میں غلطی کرے، تو مقتدی وہی آیت یا اس سے پہلی آیت دہرادے اور اگر انتقالات، مثلاً رکوع، سجود، قیام وغیرہ میں غلطی کرے، تو لقمے کا محل ہونے کی صورت میں تسبیح یعنی سبحان اللہ کہہ کر متوجہ کرے۔ جب کہ مذکورہ صورتوں میں "ٹھیک ہے" اور "نہیں ابو جی" کے الفاظ کلامِ ناس (لوگوں کی عام گفتگو) میں سے ہیں اور نماز میں کلام کرنا، خواہ ضرورت کی بنا پر ہو یا بلا ضرورت، قصداً ہو یا سہواً بہر صورت نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔ البتہ مذکورہ صورتوں میں مقتدی کے کلام کی وجہ سے امام کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑا، لہٰذا امام صاحب کی نماز درست ادا ہوگئی۔
دورانِ قراءت امام صاحب بھول جائیں، تو انہیں آیت بتا کر لقمہ دیا جائے، چنانچہ مُصَنَّف عبدا لرزاق، سنن کبری للبیہقی، سنن دار قطنی اور دیگر کتبِ احادیث میں ہے: ”عن علي رضي اللہ عنه إذا استطعمكم الامام فأطعموه قلنا: ما استطعامه؟ قال: إذا تعايا فسكت فافتحوا عليه“ ترجمہ: حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ جب امام تم سے لقمہ مانگے، تو اسے لقمہ دو، راوی کہتے ہیں ہم نے پوچھا اس کے لقمہ مانگنے سے کیا مراد ہے؟ تو ارشاد فرمایا: جب امام پڑھ نہ سکے اور خاموش ہوجائے، تو اُسے (آیت بتا کر) لقمہ دو۔ (السنن الکبری للبییھقی، کتاب الجمعۃ، باب اذا حصر الامام، جلد 3، صفحہ 301، مطبوعہ بیروت)
اور انتقالات کے وقت لقمہ دینے کے طریقہ کے متعلق رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ”من نابه شيء في صلاته فليسبح فإنه إذا سبح التفت إليه‘‘ ترجمہ: جب (امام کو) نماز میں کوئی معاملہ پیش آجائے، تو سبحان اللہ کہو، جب سبحان اللہ کہا جائے گا، تو امام متوجہ ہو جائے گا۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 316، مطبوعہ بيروت)
فتاویٰ تاتار خانیہ میں ہے: ”المصلی اذا کبر بنیۃ ان یعلم غیرہ انہ فی الصلاۃ لا تفسد صلاتہ، و الاولی التسبیح لقولہ علیہ السلام: التسبیح للرجال و التصفیق للنساء“ ترجمہ: نمازی جب اس نیت سے تکبیر کہے کہ دوسرے شخص کو معلوم ہو جائے کہ وہ نماز میں ہے تو نماز فاسد نہیں ہوگی، مگر تسبیح بہتر ہے، کیونکہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: مردوں کے لیے تسبیح ہےاورعورتوں کے لئے تصفیق (سیدھے ہاتھ کی انگلیاں الٹے ہاتھ کی پشت پرمارنا) ہے۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، جلد 2، صفحہ 220، مطبوعہ کوئٹہ)
نمازمیں کلام کی ممانعت کے متعلق صحیح بخاری میں ہے: ”عن أبي عمرو الشيباني، قال: قال لي زيد بن أرقم: إن كنا لنتكلم في الصلاة على عهد النبي صلى اللہ عليه و سلم يكلم أحدنا صاحبه بحاجته، حتى نزلت: (حافظوا على الصلوات و الصلاة الوسطى، و قوموا للّٰہ قانتين) فأمرنا بالسكوت“ ترجمہ: ابوعمرو شیبانی رَحِمَہُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت زید بن ارقم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کے زمانے میں نماز کے دوران کلام کر لیا کرتے تھے، ہم میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی نمازی سے بات کر لیتا تھا، پھر یہ آیت "تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصاً درمیانی نماز کی اوراللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہوا کرو۔" نازل ہوئی، تو ہمیں (نماز میں) خاموشی اختیارکرنے کا حکم دے دیا گیا۔ (صحیح بخاری، جلد 2، صفحہ 62، مطبوعہ مصر)
نماز میں کلام کسی بھی طور پر ہو، نماز کو فاسد کر دیتا ہے، چنانچہ التجرید للقدوری، محیطِ برہانی، بدائع الصنائع، بحرالرائق وغیرہا کتبِ فقہ میں ہے، و اللفظ للمحیط: ”إذا تكلم في صلاته ناسياً أو عامداً أو خطأً أو قاصداً قليلاً أو كثيراً تكلم لاصلاح صلاته بأن قام الامام في موضع بالقعود، فقال اقعد أو قعد و الامام في موضع القيام، فقال له، المقتدي، قم أولاً لاصلاح صلاته و يكون الكلام من كلام الناس استقبل الصلاة عندنا“ ترجمہ: جب کوئی نماز میں کلام کرے، خواہ بھول کر یا جان بوجھ کر،خطا کے طور پر کرے یا قصداً، کم ہو یا زیادہ، خواہ اس کا کلام نماز کی اصلاح ہی کے لئے کیوں نہ ہو، مثلاً امام کو بیٹھنا تھا مگر کھڑا ہوگیا، مقتدی نے کہا ’’بیٹھ جا‘‘ یا کھڑا ہونے کا مقام تھا، بیٹھ گیا، مقتدی نے اصلاحِ نماز کے لیے کہا ”کھڑا ہوجا“ تو یہ کلام، کلام الناس میں سے ہوگا اور ہمارے نزدیک (نماز فاسد ہو جانے کی وجہ سے) مقتدی نماز دوبارہ پڑھے گا۔ (محیط برھانی، جلد 1، صفحہ 382، مطبوعہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے: کلام مفسد نماز ہے، عمداً ہو یا خطاء یا سہواً، سوتے میں ہو، یا بیداری میں اپنی خوشی سے کلام کیا، يا کسی نے کلام کرنے پر مجبور کیا، یا اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ کلام کرنے سے نماز جاتی رہتی ہے۔ خطا کے معنی یہ ہیں کہ قراء ت وغیرہ اذکارِ نماز کہنا چاہتا تھا، غلطی سے زبان سے کوئی بات نکل گئی اور سہو کے یہ معنی ہیں کہ اسے اپنا نماز میں ہونا یاد نہ رہا۔ کلام میں قلیل و کثیر کا فرق نہیں اور یہ بھی فرق نہیں کہ وہ کلام اصلاح نماز کے ليے ہو یا نہیں، مثلاً امام کو بیٹھنا تھا کھڑا ہوگیا، مقتدی نے بتانے کو کہا بیٹھ جا، یا ہوں کہا، نماز جاتی رہی۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 604، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9895
تاریخ اجراء: 14 شوال المکرم 1447ھ / 03 اپریل 2026ء