
مجیب: ابو الحسن جمیل احمد
غوری عطاری
فتوی نمبر:Web-929
تاریخ اجراء:29شوال المکرم 1444 ھ/20مئی2023 ء
دارالافتاء اہلسنت
(دعوت اسلامی)
سوال
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ
الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جب آپ شرعی مسافر ہیں یعنی کم از
کم بانوے کلو میٹر یا اس سے
زائد کے سفر کے ارادے سے اپنے شہر کی حدود سے نکل گئے ہیں
تو آپ پر قصر کے احکام نافذ ہوجائیں گے، اور یہ احکام اس وقت تک لازم
رہیں گے جب تک آپ دوبارہ اپنے شہر کی
حدود میں داخل نہ ہوجائیں یا کہیں پر پندرہ دن یا
اس سے زائد اقامت کی نیت نہ کرلیں، لہٰذا جب آپ شرعی
مسافر ہوں اور کراچی آرہے ہوں تو راستے میں حیدرآباد میں نماز کے لئے رکے، تو وہاں چار رکعت والی نماز قصر ہی
پڑھنی ہوگی۔البتہ اگر وہاں کسی مقیم امام کے پیچھے
نماز پڑھیں، تو اب اس کی
اتباع میں مکمل نماز پڑھنی ہوگی، اور اگر نماز پہلے ادا نہیں
کی تھی اور کراچی شہر کی حدود میں پہنچ کرمثلاً 12 بجے اسی وقت کی عشاء کی نماز
پڑھتے ہیں ،تو مکمل پڑھنی ہوگی ۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ
اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم