logo logo
AI Search

قعدہ اولیٰ میں بھولے سے درود پاک پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قعدہ اولیٰ میں بھولے سے درود پاک پڑھنے کا حکم؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازی اگر وتر کے قعدہ اولی میں بھولے سے التحیات کے بعد مکمل درود پاک پڑھ لے، تو کیا اس صورت میں اُسے وہ نماز لوٹانا ہوگی؟

جواب

فرض، وتر اور سنتِ مؤکدہ کے قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد درود پاک نہ پڑھنا واجب ہے کہ اس صورت میں تیسری رکعت کے قیام میں تاخیر پائی جاتی ہے۔ مفتی بہ قول کے مطابق "اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ" تک پڑھنے پر یہ ترکِ واجب ثابت ہوجاتا ہے، اور نماز کے کسی بھی واجب کو بھولے سے ترک کرنے پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اُس نمازی پر سجدہ سہو واجب ہوگا۔ البتہ اگر وہ نمازی واجب ہونے کے باوجود سجدہ سہو نہیں کرتا، تو اُس کی نماز واجب الاعادہ ہوگی۔

فرض، وتر اور سنتِ مؤکدہ کے قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد درود پاک نہ پڑھنا واجب ہے۔ جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

”(ولا يزيد) في الفرض (على التشهد في القعدة الأولى) إجماعاً (فإن زاد عامداً كره) فتجب الإعادة (أو ساهياً وجب عليه سجود السهو إذا قال: اللهم صل على محمد) فقط (على المذهب) المفتى به لا لخصوص الصلاة بل لتأخير القيام۔ “

یعنی بالاتفاق یہ مسئلہ ہے کہ نمازی فرض نماز کے قعدہ اولی میں تشہد پر زیادتی نہ کرے لہذا اگر نمازی نے جا ن بوجھ کر فرض نما زکے قعدہ اولی میں تشہدسے زائد پڑھا تو مکروہ ہے اور نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔ ہاں! اگر بھولے سےپڑھا تو سجدہ سہو واجب ہوگا، اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق ترکِ واجب کی مقدار "اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ" تک پڑھنا ہے۔ اور یہ واجب کا ترک ہونا درود پاک پڑھنے کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ قیام میں تاخیر کی وجہ سے ہے۔

 (ولا يزيد في الفرض) کے تحت فتاوٰی شامی میں ہے:

”أي وما ألحق به كالوتر والسنن الرواتب“

یعنی اسی حکم میں وتر اور سنت مؤکدہ بھی لاحق ہیں۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، ج 02، ص 270-269، مطبوعہ کوئٹہ)

قعدہ اولیٰ میں درود پڑھنے کے حوالے سے بہارِ شریعت میں مذکور ہے:”فرض و وتر و سنن رواتب کے قعدۂ اولیٰ میں اگر تشہد کے بعد اتنا کہہ لیا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ،يا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَاتو اگر سہواً ہو سجدۂ سہو کرے، عمداً ہو تو اعادہ واجب ہے۔ (بہارِ شریعت، ج 01، حصہ 03، ص 520، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سجدہ سہو واجب ہونے کے باوجود سجدہ نہ کرنے سے نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے:” اگر سہواً واجب ترک ہوا اور سجدۂ سہو نہ کیا جب بھی اعادہ واجب ہے۔ “(بہار شریعت، ج01، حصہ 04، ص708، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوٰی امجدیہ میں ہے:”واجباتِ نماز سے ہر واجب کے ترک کا یہی حکم ہے کہ اگر سہواً ہو تو سجدہ سہو واجب، اور اگر سجدہ سہو نہ کیا، یا قصداً واجب کو ترک کیا تو نماز کا اعادہ واجب ہے۔“ (فتاوٰی امجدیہ، ج01، ص 276، مکتبہ رضویہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:NOR-13802

تاریخ اجراء:29شوال المکرم1446ھ/28اپریل2025ء