قراءت میں الفاظ بدلنے سے نماز ٹوٹ جائیگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قراءت میں کلمات آگے پیچھے ہوجانے سے نماز کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب نے عشاء کی نماز میں قراءت کرتے ہوئے غلطی سے ”فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ“ کی جگہ ”حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ وَ حِیْنَ تُمْسُوْنَ“ پڑھ دیا، تو کیا اس صورت میں نماز ہوگئی یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں نماز ادا ہو گئی۔ اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ قوانینِ شرعیہ کے مطابق نماز میں قراءت کرتے ہوئے کسی کلمہ کو مقدم یا مؤخر کرنےسے نماز اُس وقت فاسد ہوگی جب معنی فاسد ہو جائے اور اگر معنی فاسد نہ ہو، تو نماز فاسد نہیں ہوگی، چونکہ پوچھی گئی صورت میں حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ کو حِیْنَ تُمْسُوْنَ پر مقدم کرنے سے معنی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کہ ”فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ“ کا معنی یہ ہے: تو الله کی پاکی بیان کرو جب شام کرو اور جب صبح کرو، جبکہ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ کو حِیْنَ تُمْسُوْنَ پر مقدم کرنے کی صورت میں معنی یہ ہوگا: تو الله کی پاکی بیان کرو جب صبح کرو اور جب شام کرو، لہذا معنی فاسد نہ ہونے کی بناء پر نماز درست ہوگئی۔
علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 616ھ / 1219ء) لکھتےہیں: ”الخطأ في التقديم و التأخير و إنه على وجوه ۔۔۔ و الثاني: أن يقدم كلمة على كلمة، و لا يغير المعنى بأن يقرأ لَهُمْ فِیْهَا شَهِیْقٌ وَّ زَفِیْرٌ أو يقرأ فَاَنْبَتْنَا فِيهَا عِنَبًا وَّ حَبًّا لا تفسد صلاته، و إن تغير المعنى تفسد صلاته“ ترجمہ: تقدیم و تاخیر میں خطا کی چند صورتیں ہیں۔۔۔ دوسری یہ ہے کہ ایک کلمہ کو دوسرے پر مقدم کیا جائے اور معنی تبدیل نہ ہو، جیسے (کسی نے لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌ کی جگہ) ”لَهُمْ فِیْهَا شَهِیْقٌ وَّ زَفِیْرٌ“ پڑھ دیا، یا (فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّا وَّ عِنَبًا کی جگہ) ”فَاَنْۢبَتْنَا فِيهَا عِنَبًا وَّ حَبًّا“ پڑھ دیا، تو ایسی صورت میں نماز فاسد نہیں ہوگی اور اگر کسی دوسری جگہ ایسی ہو کہ معنی تبدیل ہوجائے، تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ (محیط برھانی، جلد 02، صفحہ 73، مطبوعہ ادارۃ التراث الاسلامی لبنان)
امام کمال الدین ابنِ ہُمَّام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 861ھ / 1456ء) لکھتے ہیں: ”و أما التقديم و التأخير، فإن لم يغير لم يفسد نحو فَاَنْبَتْنَا فِيهَا عِنَبًا وَّ حَبًّا، و إن غير فسد نحو اليسر مكان العسر“ ترجمہ: کلمہ کو مقدم یا مؤخر کرنے میں اگر معنی تبدیل نہ ہو، تو نماز فاسد نہیں ہوگی، جیسے (کسی نے فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّا وَّ عِنَبًا کی جگہ) فَاَنْبَتْنَا فِيهَا عِنَبًا وَّحَبًّا پڑھ دیا، اور اگر معنی تبدیل ہوجائے، تو نماز فاسد ہوجائے گی، جیسے الْعُسْرَ (دشواری) کی جگہ پر الْيُسْرَ (آسانی) پڑھ دیا۔ (فتح القدیر، جلد 01، صفحہ 333، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: حروف کی تقدیم و تاخیر میں بھی اگر معنی فاسد ہوں، نماز فاسد ہے، ورنہ نہیں، جیسے قَسْوَرَةٍ (شَیر) کو قَوْسَرَۃٍ (کھجور رکھنے کا برتن) پڑھا، عَصْفٍ (بھوسا) کی جگہ عَفْصٍ (مازو کا درخت) پڑھا، فاسد ہوگئی اور اِنْفَجَرَتْ کو اِنْفَرَجَتْ پڑھا، تو نہیں، یہی حکم کلمہ کی تقدیم تاخیر کا ہے، جیسے {لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌ} میں شَهِیْقٌ کو زَفِیْرٌ پر مقدم کیا، فاسد نہ ہوئی اور اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ (بیشک نیک لوگ ضرور دوزخ میں (جانے والے) ہیں۔ اور بیشک بدکار ضرور چین میں ہیں) پڑھا، فاسد ہوگئی۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 556، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9895
تاریخ اجراء: 14 شوال المکرم 1447ھ / 03 اپریل 2026ء