logo logo
AI Search

قراءت میں لفظی غلطی سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قراءت کی غلطی کی وجہ سے نماز دوبارہ پڑھائی تو دوسری جماعت میں نئے شامل نمازیوں کی نماز کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میں ایک مسجد میں مؤذنی کے فرائض انجام دیتا ہوں۔ گزشتہ رات امام صاحب کی غیر موجودگی کے باعث میں نے مغرب کی نماز میں امامت کی۔ قراءت میں سورۃ غافر کی چند آیات تلاوت کیں۔ ان میں سے ایک آیت:

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُؕ- یُسْحَبُوْنَ

کی تلاوت میں مجھ سے غلطی ہوگئی۔ میں نے اسے یوں پڑھ دیا:

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُؕ- یُسْحَبُوْنَ

یعنی الفاظ کو آگے پیچھے کردیا اور لفظ اذ کے ذ پر زبر پڑھ دیا اور ھم پڑھنا بھی بھول گیا۔

نماز کے بعد صفوں میں موجود ایک عالم صاحب نے فرمایا کہ نماز فاسد ہوگئی ہے۔ چنانچہ نماز دوبارہ پڑھائی گئی اور پہلی جماعت کے مقتدیوں کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہوئے جو پہلی نماز میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔ بعد ازاں ایک دوسرے عالم صاحب سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں نماز فاسد نہیں ہوگی۔

مجھے اس معاملے میں سخت تشویش ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا میری پہلی نماز اس قراءت کی غلطی کی وجہ سے واقعۃً فاسد ہوگئی تھی؟ دوبارہ نماز پڑھانے کی صورت میں بعد میں آنے والے افراد نے جو اس جماعت میں شرکت کی، اُن کی نماز صحیح ہوئی یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں نماز فاسد نہیں ہوئی تھی، لہٰذا دوسری جماعت میں نئے شریک ہونے والے مقتدیوں کی اقتداء درست نہ ہوئی، ان پر فرض و لازم ہے کہ اپنی نماز دوبارہ سے پڑھیں۔

مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نماز کی قراءت میں بعد والے کلمے کو پہلے کی جگہ اور پہلے والے کلمے کو بعد والے کی جگہ پڑھ دے، اورایسا کرنے کی صورت میں معنی میں بہت زیادہ تغیر و اختلاف واقع ہوجائے تو اس صورت میں باتفاق ائمہ ثلاثہ علیہم الرحمۃ نماز فاسد ہوجاتی ہے اور اگر مفہوم میں بہت زیادہ تغیر واقع نہیں ہوا ہوبلکہ اس تقدیم و تاخیر کے بعد بھی آیت کا وہی مفہوم ہو جو التزامی طور پر پہلے والی (اصل) ترکیب و ترتیب سے سمجھ آرہا تھا، تو اس صورت میں باتفاق ائمہ ثلاثہ علیہم الرحمۃ نماز فاسد نہیں ہوتی، طرفین علیہما الرحمۃ کے نزدیک تو اس لئے کہ دونوں کلاموں کے معنی و مفہوم میں موافقت ہے اور ان کے نزدیک موافقت ہونا ہی عدم فساد کیلئے کافی ہے، جبکہ امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک اس لئے کہ ان کے نزدیک معنی میں تغیر فاحش نہ ہونے کی صورت میں نماز فاسد نہ ہونے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس لفظ کا مثل قرآن میں موجود ہو اور یہاں بھی دونوں ہی الفاظ قرآنیہ ہیں جن کو ایک دوسرے کی جگہ پڑھا گیا ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں بھی نماز کے فاسد نہ ہو نے کا ہی حکم دیا جائے گا، کیونکہ الاغلال اور الاعناق اگرچہ دو ایسے کلمے ہیں جن کو انفرادی طور پر دیکھا جائے تو ان کے معانی میں موافقت موجود نہیں کہ الاغلال کےمعنی طوق کے ہیں جبکہ ”الاعناق“ عنق کی جمع ہے جس کے معنی ہیں گردن، یونہی ان دونوں کلموں میں سے ایک کو دوسرے کی جگہ پڑھنے کی وجہ سے بظاہر کلام کے معنی میں تبدیلی بھی واقع ہوئی ہے ، کیونکہ اصل کلام

اِذِ الْاَغْلَالُ فِیْ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلَاسِلُ

کا ترجمہ یہ تھا (جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی) جبکہ تقدیم و تاخیر کے بعد اس کا ترجمہ یوں ہے(جب ان کی گردنیں طوق اور زنجیروں میں ہوں گی)لیکن یہ تغیر فاحش نہیں ،کیونکہ پہلے والے کلام

اِذِ الْاَغْلَالُ فِیْ اَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ

کا التزامی مفہوم یہی ہےکہ جب طوق اور زنجیریں گردنوں میں ہوں گی تولا محالہ گردنیں طوق اور زنجیروں میں ہوں گی، لہٰذا یہاں دونوں کلاموں میں موافقت موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام علیہم الرحمۃ نے خاص اسی صورت کے متعلق صراحۃً نماز فاسد نہ ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔

یونہی آیت مبارکہ کے لفظ اذ  میں ذ پر زبر پڑھنا اور ھم ضمیرکو حذف کردینا بھی مفسد نماز نہیں کہ ان دونوں غلطیوں کی وجہ سے بھی معنی میں کوئی فساد واقع نہیں ہوا۔

اب جبکہ پہلی نماز اصل میں فاسد نہیں ہوئی تھی تو اس کے بعد جو نماز دوبارہ پڑھائی گئی، وہ فرض کے بجائے نفل قرار پائی، کیونکہ فرض تو پہلی ہی جماعت سے ادا ہوچکا تھا۔ اور فقہی اصول یہ ہے کہ نفل پڑھنے والے کی اقتدا میں فرض ادا نہیں ہوتا، لہٰذا جن نمازی حضرات نے پہلی جماعت میں شرکت نہیں کی تھی، انہوں نے دوسری جماعت (جو دراصل نفل تھی) میں شامل ہوکر اپنے فرض کی ادائیگی نہیں کی۔ ان کا فرض بدستور باقی ہے۔ اس لیے ایسے تمام افراد پر لازم ہے کہ وہ نمازِ مغرب کی قضا کریں۔

قراءت کی غلطی کی وجہ سے کب نمازفاسد ہوگی اور کب نہیں؟ اس کے اصول کے متعلق، رد المحتار میں ہے:

و القاعدۃ عند المتقدمین أن ما غیّر المعنی تغییراً یکون اعتقادہ کفراً یفسد فی جمیع ذلک، سواء کان فی القرآن أو لا إلا ما کان من تبدیل الجمل مفصولاً بوقف تامّ و ان لم یکن التغییر کذلک، فان لم یکن مثلہ فی القرآن و المعنی بعید متغیر تغیراً فاحشاً یفسد أیضاً و کذا إذا لم یکن مثلہ فی القرآن و لا معنی لہ و ان کان مثلہ فی القرآن و المعنی بعید و لم یکن متغیراً فاحشاً تفسد أیضاً عند ابی حنیفۃ و محمد، و ھو الاحوط، و قال بعض المشائخ: لا تفسد لعموم البلوی، و ھو قول أبی یوسف، و ان لم یکن مثلہ فی القرآن و لکن لم یتغیر بہ المعنی نحو قیّامین مکان قوّامین فالخلاف علی العکس فالمعتبر فی عدم الفساد عند عدم تغیر المعنی کثیراً وجود المثل فی القرآن عندہ و الموافقۃ فی المعنی عندھما، فھذہ قواعد الأئمۃ المتقدمین

ترجمہ: اور متقدمین کے نزدیک قاعدہ یہ ہے کہ جو غلطی معنی کو اتناتبدیل کردے کہ جس کا اعتقاد کفر ہو تو تمام صورتوں میں نماز فاسد ہوجائے گی، چاہےوہ بدل قرآن میں ہو یا نہ ہو الا یہ کہ وقف تام کے ذریعے جملوں میں فصل کر کے جو تبدیلی ہو، اور اگر تبدیلی ایسی نہ ہو، تو اگر اس بدل لفظ کا مثل قرآن میں نہ ہو اور معنی بعید ہو اور تبدیلی فاحش تو بھی نماز فاسد ہو جائے گی، اسی طرح (نماز فاسدہوگی) اگر قرآن میں اس کا مثل نہ ہو اور نہ ہی اس کا کوئی معنی ہو، اور اگر اس کی مثل قرآن میں ہو اور معنی بعید ہو اور تغیر فاحش نہ ہو تو بھی طرفین کے نزدیک فاسد ہوجائے گی، اور یہ احوط ہے، اور بعض مشائخ نے فرمایا: عمومِ بلوی کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوگی، اور یہ امام ابو یوسف کا قول ہے، اور اگر اس کی مثل قرآن میں نہ ہو لیکن معنی تبدیل نہ ہو جیسے قوامین کی جگہ قیامین تو اختلاف برعکس ہوگا۔ تو معنی میں تغیر فاحش نہ ہونے کی صورت میں نماز فاسد نہ ہونے کے لیے امام ابو یوسف کے نزدیک اس کی مثل قرآن میں ہونا معتبر ہے جبکہ طرفین کے نزدیک معنی میں موافقت معتبر ہے، تو یہ ہیں ائمہ متقدمین کے قواعد۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 1، ص 630، 631، دار الفکر، بیروت)

جد الممتار میں ہے:

فتحصل ان معنی الضابطۃ من قولہ (و ان لم یکن التغیر کک الخ) عند الامام و محمد: ان کل زلۃ تفسد الا ما وافق فی المعنٰی کقیامین۔۔ و عند ابی یوسف ان کل زلۃ لا مثل لھا فی القرآن تفسد و الا لا، الا ان یتغیر المعنٰی تغیرا فاحشا“۔ ملتقطا۔

ترجمہ: تو حاصل کلام یہ نکلا کہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ کے قول

و ان لم یکن التغیر الخ

سے طرفین کے ضابطہ کا معنیٰ یہ ہے کہ قراءت کی ہر غلطی نماز کو فاسد کردے گی مگر جو معنیٰ میں موافق ہو (وہ فاسد نہیں کرے گی) جیسے قوامین کی جگہ قیامین پڑھنا۔ اور امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک ہر وہ غلطی جس کا مثل قرآن میں موجود نہ ہو، نماز کو فاسد کردے گی ورنہ نہیں الا یہ کہ معنی میں بہت زیادہ تغیر آجائے۔ (جد الممتار علیٰ رد المحتار، ج 03، حاشیۃ 1353، ص 370، 371، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

لہٰذا ہر وہ مقام جہاں معنی میں بہت زیادہ تغیر نہ ہو بلکہ موافقت موجود ہو اوربدل قرآن مجید میں موجود ہو تو بالاتفاق نماز فاسد نہیں ہوگی، فتح القدير میں ہے:

فإن لم تغير و هي في القرآن لا تفسد في قولهم

ترجمہ: تو اگر اس غلطی کی وجہ سے معنی نہ بدلے اور وہ لفظ قرآن میں بھی موجود ہو تو تینوں ائمہ کرام کے قول کے مطابق نماز فاسد نہیں ہوگی۔ (فتح القدیر، ج 01، ص 326،دار الفکر، بیروت)

اور چونکہ الاغلال کی جگہ الاعناق اور الاعناق کی جگہ الاغلال پڑھنے کی صورت میں بھی معنی میں موافقت موجود ہے اور یہ دونوں الفاظ قرآن ہیں، لہٰذا یہاں بھی بالاتفاق نماز فاسد نہیں ہوگی، چنانچہ محقق علی الاطلاق امام ابن الہمام علیہ الرحمۃ فتح القدیر میں لکھتے ہیں:

و أما التقديم والتأخير، فإن لم يغير لم يفسد وإن غير فسد۔۔۔ و في الخلاصة: لو قرأ و إذ الاعناق في أغلالهم لا تفسد

ترجمہ: لفظوں کی تقدیم و تاخیر کے بارے میں حکم یہ ہےکہ اگر تقدیم و تاخیر سے معنی میں کوئی تبدیلی نہ آئےتو نماز فاسد نہیں ہوتی اور اگر تقدیم و تاخیر سے معنی بدل جائےتو نماز فاسد ہوجائے گی۔ خلاصہ میں ہے: اگر کوئی یوں پڑھ دے:

اِذِ الْاَعْنَاقُ فِیْ اَغْلَالِهِم

تو بھی نماز فاسد نہیں ہوتی۔ (فتح القدیر، ج 01، ص 326،دار الفکر، بیروت)

موافقت کیسے موجود ہے؟ اس کے متعلق، امام ابن مازہ حنفی بخاری علیہ الرحمۃ محیط برہانی میں لکھتے ہیں:

الفصل السابع في الخطأ في التقديم و التأخير۔۔ في «مجموع النوازل»: إذا قرأ إذ الأعناق في أغلالهم لا تفسد صلاته؛ لأن المعنى لم يتغير لان الاغلال إذا كانت في الأعناق كانت الأعناق في الأغلال أيضا

ترجمہ: ساتویں فصل: تقدیم و تاخیر میں خطا کا بیان۔۔ مجموع النوازل میں ہے: اگر کوئی یہ پڑھ دے:

اِذِ الْاَعْنَاقُ فِیْ اَغْلَالِهِمْ

تو بھی اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی، کیونکہ معنی تبدیل نہیں ہوا، اس لئے کہ جب طوق گردنوں میں ہوں، تو گردنیں بھی لازماً طوق کے اندر ہی ہوں گی۔ (المحیط البرھانی، ج 01، ص 329،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

کسی لفظ کو حذف کردینے سے معنی نہ بگڑیں تو وہ بھی مفسد نماز نہیں، رد المحتار میں ہے:

نقص كلمة أو نقص حرفا، لم تفسد ما لم يتغير المعنى

ترجمہ:اور اگر (نماز کی قراءت میں) ایک لفظ چھوڑ دیا، یا ایک حرف چھوڑ دیا تو جب تک معنی میں تبدیلی نہ ہو، نماز فاسد نہیں ہوتی۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 01،ص 632،دار الفکر، بیروت)

اور جب نماز فاسد نہیں ہوئی تھی تو دہرائی جانے والی نماز فرض نہیں، نفل تھی، لہٰذا نئے شریک ہونے والے مقتدیوں کے فرض ادا نہ ہوئے، ان پر اس نماز کی قضا لازم ہے۔ فتاوٰی امجدیہ میں ہے:

اعلم أن الاقتداء ھو ربط صلوتہ بصلوۃ الامام فلابد لہ من أن تکون صلوۃ الامام متحدۃ بصلوۃ المقتدی بأن تکون صلاتھما واحدۃ أو تکون صلوۃ الامام متضمنۃ لصلوۃ المقتدی کاقتداء المتنفل بالمفترض فان الفرض مقید و النفل مطلق و المطلق داخل فی المقید و اذا عرفت ھذا فاعلم أن الذی صلی الفرض مع ترک الواجب فقد أدی فرضہ لکن بترک الواجب صارت صلوتہ ناقصۃ و وجب علیہ الاعادۃ لجبر النقصان فلما اشتغل بالاعادۃ فھو لیس بمفترض لأن الفرض سقط من ذمتہ بل ھو یتم و یکمل الفرض و من لم یصل الفرض یؤدی فرضہ فلو اقتدی بہ یلزم التغایر بین صلاتھما و لم یوجد معنی الاقتداء أی الربط و ایضاً یلزم بناء الأقوی علی الأضعف و ھو لا یجوز

ترجمہ: جان لو! اقتداء امام و مقتدی کی نماز کے مابین ایک ربط و تعلق (کا نام) ہے، پس اس کے لیے ضروری ہے کہ امام و مقتدی کی نماز متحد ہو، بایں طور کہ ان دونوں کی نماز ایک ہو یا امام کی نماز مقتدی کی نماز کو ضمن میں لیے ہوئے ہو جیسے نفل پڑھنے والے شخص کا فرض پڑھنے والے کی اقتداء کرنا، کیونکہ فرض مقید ہے اور نفل مطلق ہے اور مطلق مقید میں داخل ہوتا ہے۔ جب تمہیں اس بات کی معرفت حاصل ہو گئی، تو جان لو! کہ وہ شخص جس نے ترکِ واجب کے ساتھ فرض نماز ادا کی، تو اس کا فرض ادا ہو گیا، لیکن ترکِ واجب کی وجہ سے اس کی نماز ناقص طور پہ ادا ہوئی اور اس نقص (کمی) کو پورا کرنے کے لیے اس پر نماز کا اعادہ واجب ہے، تو جب وہ اعادہ کرنے میں مشغول ہوا، تو اس کی نماز فرض نماز نہیں ہو گی، کیونکہ فرض اس کے ذمے سے ساقط ہو چکا، بلکہ اعادے والی نماز فرض کو کامل و تمام کرنے کے لیے ہے اور جس نے فرض نماز نہیں پڑھی، وہ اپنے فرض ادا کر رہا ہے، تو اگر وہ واجب الاعادہ والے کی اقتداء کرے گا، تو ان دونوں کی نماز میں تغایر لازم آئے گا اور اقتداء کا معنیٰ یعنی ربط و تعلق نہیں پایا جائے گا اور قوی کی ضعیف پر بنا بھی لازم آئے گی اور یہ جائز نہیں ہے۔ (فتاوی امجدیہ، ج 1، ص 169 تا 170، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0677
تاریخ اجراء: 04 جمادی الاخری 1447ھ / 26 نومبر 2025 ء