logo logo
AI Search

قیام کے بعد رکوع چھوڑ کر سجدے میں جانا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قیام کے بعد رکوع چھوڑ کر سجدے میں چلا جائے تو اب کیا حکم ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص نماز میں قراءت کے بعد بھول کر ڈائریکٹ سجدے میں چلا جائے اور سجدے میں اسے یاد آجائے کہ رکوع نہیں کیا تھا، تو اب اس کے لئے کیا حکم ہے، کیا رکوع کے لئے لوٹنا لازم ہے؟ اگر لازم ہے، تو اب ایک ہی سجدہ کافی ہو گایا دونوں سجدے دوبارہ کرنے ہوں گے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس شخص پر لازم ہے کہ وہ واپس لوٹ کر رکوع،  پھر قومہ کے بعد دوبارہ دونوں سجدے کرے اور نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرے، یوں اس کی نماز درست ہو جائے گی، البتہ اگر واپس لوٹ کر رکوع نہ کیا، تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی، اسی طرح اگر رکوع تو کر لیا لیکن بعد میں صرف ایک سجدہ کیا یا دونوں سجدے نہ کئے، تو اب بھی اس کی نماز فاسد ہوجائے گی، کیونکہ رکوع اور سجدے میں ترتیب فرض ہے، جس کامطلب یہ ہےکہ دوسرے کی صحت پہلے کی درست ادائیگی پر موقوف ہے، لہذا جب بھول کر رکوع کرنے کی بجائے سجدہ کرلیا، تووہ سجدہ  شمار نہیں ہوگا، اسی وجہ سے بعدِ رکوع دوبارہ دونوں سجدوں کو ادا کرنا ضروری ہے۔

فرض کا اعادہ ممکن ہو، تو اس کا اعادہ کیا جائے گا، ورنہ نماز فاسد ہوجائےگی۔ چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’الأصل في هذا أن ‌المتروك ‌ثلاثة أنواع فرض وسنة وواجب ففي الأول أمكنه التدارك بالقضاء يقضي وإلا فسدت صلاته‘‘

ترجمہ: اس حوالے سے اصول یہ ہےکہ متروک( یعنی نماز میں کسی فعل کے ترک ہونے ) کی تین قسمیں ہیں: (ترک کیا ہوا فعل یا تو) فرض (ہوگا) یاسنت یا واجب ، پس متروک فرض ہو، توقضاء کے ذریعے اس کا تدارک ممکن ہو، تو اس کی قضاء کی جائے گی اوراگر فرض کی قضاء نہ کی، تو نماز فاسد ہوجائےگی۔ (فتاوی ہندیہ، كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج1، ص136، الناشر: مصر)

رکوع کے ساتھ دونوں سجدوں کا اعادہ کرنا بھی لازم ہے۔ چنانچہ البحر الرائق میں ہے:

’’ولو ‌تذكر ‌ركوعا قضاه وقضى ما بعده من السجود‘‘

ترجمہ: اگر اس کو رکوع یاد آجائے، تو رکوع  کو بھی ادا کرے اور بعدِ رکوع سجود کوبھی ادا کرے۔ (البحر الرائق، جلد1، صفحہ115، الناشر: دار الكتاب الإسلامي)

رکوع کی جگہ سجدہ ادا کرنے کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوگا۔ چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’إذا سجد في موضع الركوع۔۔۔ أو قدم الركن أو أخره ففي هذه الفصول كلها يجب سجود السهو‘‘

ترجمہ: جب کوئی رکوع کی جگہ سجدہ ادا کرے یا کسی رکن کو مقدم یا مؤخر کرے، تو ان تمام صورتوں میں سجدہ سہو لازم ہوگا۔ (فتاوی ہندیہ، كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج1، ص127، الناشر: مصر)

نور الایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے:

’’(و)یشترط لصحۃ الرکوع والسجود(تقدیم الرکوع علی السجود)‘‘

 ترجمہ: رکوع و سجود کی صحت کے لئے رکوع کا سجود پر مقدم ہونا شرط ہے۔

اس کے تحت حاشیۃ الطحطاوی میں صاحبِ جامع الفصولین علامہ ابن قاضی سماوَہ علیہ الرحمۃ کے حوالے سے منقول ہے:

’’معنى ‌فرضيۃالترتيب توقف صحة الثاني على وجود الأول حتى لو ركع بعد السجود لا يكون السجود معتدا به فيلزمه إعادته و معنى وجوبه أن الاخلال به لا يفسد الصلاة إذا أعاده‘‘

ترجمہ: ترتیب فرض ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کی صحت پہلے کے وجود پر موقوف ہے، حتی کہ اگر سجدے کے بعد رکوع کیا، تو اس سجدے کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ اس کا اعادہ لازم ہے اور ترتیب واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ (اگر ترتیب میں خلل واقع ہو جائے) تو خلل کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی، بشرطیکہ اس کا اعادہ کر لیا جائے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، جلد1، صفحہ424، دار تحقیق الکتاب، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ’’قیام و رکوع و سجود و قعدۂ اخیرہ میں ترتیب فرض ہے، اگر قیام سے پہلے رکوع کر لیا پھر قیام کیا تو وہ رکوع جاتا رہا، اگر بعد قیام پھر رکوع کرے گا نماز ہو جائیگی، ورنہ نہیں۔ یوہیں رکوع سے پہلے، سجدہ کرنے کے بعد اگر رکوع پھر سجدہ کرلیا ہو جائے گی، ورنہ نہیں۔‘‘ (بہار شریعت، حصہ3، ص517، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: GUJ-0075

تاریخ اجراء03جمادی الثانی1447ھ24نومبر2025ء