logo logo
AI Search

Bachon Ki Quran Khawani Mein Sajda Tilawat Kon Aur Kahan Ada Karega?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچوں نے قرآن خوانی میں مکمل قرآن پڑھا، تو سجدۂ تلاوت کہاں اور کون ادا کرے گا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بچوں کا قرآن خوانی میں مکمل قرآن پاک پڑھنے کے بعد اس جگہ / اس گھر سجدہ تلاوت کیسے کریں گے اور کون کون کرے گا؟

جواب

جن بالغ بچوں نے آیت سجدہ پڑھی یا سنی ہے، وہی سجدہ کریں گے، گھر یا مسجد وغیرہ میں کسی بھی پاک جگہ کر سکتے ہیں، نابالغ بچوں پر سجدہ تلاوت واجب نہیں۔

سجدۂ تِلاوت کا طریقہ: سجدے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اَللہُ اَکْبَر کہتا ہوا سجدے میں جائے، تین بار سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے، پھر اَللہُ اَکْبَر کہتا ہوا کھڑا ہو جائے، پہلے اور بعد میں دونوں بار اَللہُ اَکْبَر کہنا سنّت ہے اور کھڑے ہو کر سجدے میں جانا اور سجدے کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب ہیں۔ سجدۂ تلاوت کے لئے اَللہُ اَکْبَر کہتے وقت نہ ہاتھ اٹھانے ہیں، نہ اس میں التحیات ہے اور نہ ہی سلام پھیرنا ہے۔

بہارِ شریعت میں ہے: آیتِ سجدہ پڑھنے والے پر اس وقت سجدہ واجب ہوتا ہے کہ وہ وجوبِ نماز کا اہل ہو یعنی ادا یا قضا کا اسے حکم ہو، لہٰذا اگر کافر یا مجنون یا نابالغ یا حیض و نفاس والی عورت نے آیت پڑھی تو ان پر سجدہ واجب نہیں اور مسلمان عاقل بالغ اہل نماز نے ان سے سُنی تو اس پر واجب ہوگیا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 729، 730، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-1880

تاریخ اجراء: 23 صفرالمظفر 1446ھ / 29 اگست 2024ء