logo logo
AI Search

رکوع میں امام کو پانے پر رکعت مل جائیگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

امام کے ساتھ رکوع پالیا لیکن رکوع کی تسبیحات نہیں پڑھ سکا تو کیا وہ رکعت مل گئی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر فرض کریں کہ امام صاحب رکوع میں تھے، اور میں نے تکبیرِ تحریمہ کہی، اور فوراً رکوع میں چلا گیا، تو مجھے رکوع مکمل طور پر مل گیا، لیکن میں نے رکوع کی تسبیح بالکل بھی نہیں پڑھی — کچھ بھی نہیں پڑھا — تو کیا میری رکعت ہو جائے گی؟

جواب

اگر امام صاحب رکوع میں ہوں اور کوئی نمازی سیدھے کھڑے ہوکر تکبیر تحریمہ کہے، اور پھر امام کے رکوع سے سر اٹھانے سے پہلے ہی رکوع میں چلا جائے، تو اسے وہ رکعت مل گئی، اگرچہ اسے رکوع میں تسبیح وغیرہ کچھ پڑھنے کی فرصت نہ ملی ہو۔

رکوع میں امام کے ساتھ مل جانے پر رکعت شمار ہونے کے بارے میں حدیث پاک میں ہے"عن النبی صلى اللہ عليه و سلم قال اذا جئتم و الامام راكع فاركعوا، و ان كان ساجدا فاسجدوا، و لا تعتدوا بالسجود اذا لم يكن معه الركوع"ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب تم (نماز کے لئے) آؤ اور امام رکوع کی حالت میں ہو، تو رکوع کرلو اور اگر سجدے کی حالت میں ہو، تو سجدہ کرلو اور سجدے میں شامل ہونے کو (رکعت) شمار نہ کرو، جب تک کہ اس (سجدے) کے ساتھ رکوع نہ ہو۔ (السنن الکبری للبیھقی، کتاب الصلاۃ، باب ادراك الامام فی الركوع، جلد 2، صفحہ 128، مطبوعہ: بیروت)

امام کو رکوع میں پالیا، تو رکعت ملنے کے بارے میں حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے"و الحاصل انه اذا وصل الى حد الركوع قبل ان يخرج الامام من حد الركوع فقد ادرك معه الركعة و الا فلا كما يفيده اثر ابن عمر"ترجمہ: اور حاصلِ کلام یہ ہے کہ جب امام کے حدِ رکوع سے نکلنے سے پہلے ہی مقتدی حدِ رکوع تک پہنچ جائے، تو اسے وہ رکعت مل گئی، ورنہ نہیں ملی، جیساکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت اس کا فائدہ دیتی ہے۔ (حاشیۃ الطحاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ، باب ادراک الفریضہ، ص 455، مطبوعہ: کوئٹہ)

حلبی کبیری میں ہےو في الذخيرة قال: و إن سوى ظهره في الركوع يعني حال كون الإمام راكعا صار مدركا أي لتلك الركعة قدر على التسبيح أو لم يقدر أي لا یشترط المشاركة قدر التسبيحة، و هذا هو الأصح؛ لأن شرط المشاركة في جزء من الركن و إن قل.فالحاصل أنه إن وصل إلى حد الركوع قبل أن يخرج الإمام عن حد الركوع إلى حد القيام أدرك تلك الركعة و إلا فلا، على ما أفاده أثر عمر

ترجمہ: ذخیرہ میں فرمایا: اگر امام کے رکوع میں ہونے کی حالت میں ہی مقتدی نے رکوع کے لئے پیٹھ سیدھی کرلی، تو وہ اس رکعت کو پانے والا شمار ہوگا، چاہے رکوع کی تسبیح پڑھنے پر قادر ہوا ہو، یا نہیں، یعنی ایک تسبیح کی مقدار امام کے ساتھ مشارکت ضروری نہیں، اور یہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ رکن کے کسی جزمیں مشارکت شرط ہے، اگرچہ وہ قلیل ہی ہو، پس حاصل یہ ہے کہ امام کے حدِ رکوع سے حدِ قیام کی طرف نکلنے سے پہلے پہلے مقتدی حد رکوع تک پہنچ گیا، تو اس نے وہ رکعت پالی وگرنہ نہیں، اس کے مطابق جو حضرت عمررضی اللہ تعالی کے اثر نے فائدہ دیا۔ (حلبی کبیری، ص 266، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4886
تاریخ اجراء: 08 شوال المکرم 1447ھ / 28 مارچ 2026ء