logo logo
AI Search

صاحبِ ترتیب کو سنتیں پڑھتے ہوئے قضا یاد آنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صاحبِ ترتیب کو سنتوں کے دوران قضا یاد آئے، تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحبِ ترتیب ظہر کی سنتِ قبلیہ ادا کررہا ہو کہ دورانِ نماز اُسے یاد آئے کہ میری تو آج کی نمازِ فجر قضا ہوئی تھی۔ تو کیا اس صورت میں وہ شخص سنتیں توڑ کر پہلے قضا نماز پڑھے گا یا پھر سنتیں مکمل کرنے کے بعد فجر کی قضا نماز ادا کرے گا؟

جواب

صاحب ترتیب کے لیے پانچوں فرضوں میں باہم اور فرض و وتر میں ترتیب قائم رکھنا ضروری ہے، فرض و سنت کے مابین ترتیب لازم نہیں ،  لہٰذا پوچھی گئی صورت وہ شخص سنتیں پوری کرے گا، اس کے بعد ظہر کے فرض سے پہلے نمازِ فجر کی قضا کرے گا۔

فرض و سنت کے مابین ترتیب لازم نہیں جیسا کہ بحر الرائق، مجمع الانہر، محیطِ رضوی، فتاوٰی عالمگیری وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے:

 ”والنظم للاول“ ولا ترتیب بین الفرائض والسنن حتی لو تذکر فائتۃ فی تطوعہ لم یفسد تطوعہ لانہ عرف واجبا فی الفرض بخلاف القیاس فلا یلحق بہ غیرہ۔ “

یعنی فرضوں اور سنتوں کے درمیان ترتیب لازم نہیں۔ یہاں تک کہ اگر نفل پڑھتے ہوئے قضا نماز یاد آئی تو وہ نفل نماز فاسد نہیں ہوگی،  کیونکہ فرضوں میں ترتیب کا وجوب خلاف قیاس معروف ہے، لہذا فرضوں کے علاوہ کسی اور نماز کو اس حکم میں لاحق نہیں کیا جائے گا۔(البحر الرائق، کتاب الصلوۃ، باب قضا ء الفوائت، ج02، ص97، مطبوعہ بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے:”پانچوں فرضوں میں باہم اور فرض ووترمیں ترتیب ضروری ہے ۔(بہارشریعت ،ج01، حصہ 04، ص703،مکتبۃ المدینہ، کراچی )

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ:”کسی شخص سے ایک نماز قضا ہو گئی، دوسرے وقت بھول کر وقتی سنت بغیر قضا پڑھے ہوئے شروع کر دی ۔ اثناء  نماز میں یاد آیا کہ اس سے پہلے وقت کی نماز قضا ہے تو کیا وہ فاسد ہو گئی یا صرف فرض ہی ہوتا ہے اور وہ ایک پڑھا ہے تو دو کر لے یا تین رکعت پڑھا ہے تو چار کر لے۔ یا نماز سنت میں قضا نماز کے سبب کچھ اثر نہیں ہوتا؟ صرف فرض پر ہی ہوتا ہے اور وہ نماز نفل ہوتی ہے یا نہیں یا جتنی کی نیت کی ہے اتنی پوری کر لے یا شفعہ پوری کر کے نماز سے نکل جائے؟ “ آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ”صاحب ترتیب کے لئے لازم ہے کہ اگر وقت میں گنجائش ہو تو پہلے قضا  پڑھے اس کے بعد وقتی ادا کرے۔ اور وقت میں گنجائش ہو اور یاد بھی ہو تو وقتی پڑھنا جائز نہیں۔ یوں ہی اگر اثناء نماز میں یاد آجائے تو وقتی جاتی رہی،  قضا پڑھ کر وقتی کو بعد میں پھر پڑھے۔ مگر سنت وقت میں اگر مشغول ہونے کے بعد قضا یاد آئی تو سنت فاسد نہ ہوگی ۔ سنت پوری کر کے قضا پڑھے۔ پھر وقتی پڑھے۔ خلاصہ یہ کہ قضاء و سنت میں ترتیب واجب نہیں۔ در مختار میں ہے:

"الترتیب بین الفروض الخمسة والوتر اداء وقضاء لازم۔" “

(فتاوٰی  امجدیہ، ج01، ص 272، مکتبہ رضویہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:NOR-13782

تاریخ اجراء:24شوال المکرم1446ھ/23اپریل2025ء