logo logo
AI Search

سجدۂ شکر کی منت کونسی منت ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سجدہ شکر کی منت کا حکم؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سجدۂ شکر کی منت کونسی منت ہوگی؟ شرعی یا عرفی؟ تفصیلا رہنمائی درکارہے؟

جواب

حکم شرعی یہ ہےکہ سجدۂ شکر مشروع، یعنی جائز، بلکہ مستحب اور عبادتِ مقصودہ ہے، اس کی مشروعیت پر نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور سلف صالحین کے عمل کے حوالے سے کثیر روایات موجود ہیں اور اس کی منت، شرعی منت ہے، اگر کسی نے اس کی منت مانی، تو اُس پر اِسے پورا کرنا شرعاً لازم و ضروری ہے۔

مزید تفصیل یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے شرعی منّت کہ جس کا پورا کرنا شرعاً واجب ہوتا ہے، اس کی کچھ شرائط بیان کی ہیں، جن کے تحت ہی کسی منت کے لازم ہونے یا نہ ہونے کا حکم دیا جاتا ہے، ان میں سے کچھ بنیادی شرائط یہ ہیں: (1) جس چیز کی منت مانی جائے وہ خود فی الحال یا فی المآل (آئندہ) شریعت کی طرف سے پہلے سے لازم نہ ہو۔ (2) جس چیز کی منت مانی جائے، وہ خود بالذات عبادتِ مقصودہ ہو، یعنی کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو۔ (3) ایسی چیز کی منت مانی جائے کہ جس کی جنس سے کوئی واجب ضرور ہو۔

ان شرائط پر غور کیا جائے، تو سجد ۂ شکر عبادت مقصودہ بھی ہے، نیز وہ خود فرض یا واجب بھی نہیں، بلکہ ایک مستحب کام ہے اور سجدۂ شکر کی جنس سے فرض و واجب بھی موجود ہے، جیسے سجدۂ تلاوت واجب ہے، لہٰذا اگر کوئی سجدۂ شکر کی منت مانے گا، تو وہ لازم ہو جائے گی اور اس کو پورا کرنا بھی لازم و ضروری ہے۔

تنبیہ: ممکن ہے یہ سوال امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف منسوب اس قول سے پیدا ہوا ہو کہ سجدۂ شکر،مشروع نہیں، تو یاد رہے کہ فقہائے کرام نے اس کی توجیہ بیان فرمائی کہ یہاں عدمِ مشروع سے مراد عدمِ وجوب ہے، نہ کہ عدمِ جواز، خود امام اعظم رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کاقول ہے کہ میں اسے بطورِ واجب مشروع نہیں سمجھتا، لہٰذا نفسِ جواز میں کوئی اختلاف نہیں، تینوں اَئمہ سے سجدۂ شکر کا جواز ہی ثابت ہے اور صاحبین کے قول پر استحباب بھی ثابت ہے۔

شرعاًمنت لازم ہونے کی کچھ شرائط و ضوابط ہیں، چنانچہ ان کا بیان کرتے ہوئے علامہ عالم بن علاء دہلوی ہندی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 786ھ / 1384ء) لکھتے ہیں:

اعلم ان النذر لا یصح الا بشروط ثلاثۃ:احدھا: ان یکون الواجب من جنسہ شرعا و الثانی: ان یکون مقصوداً لا وسیلۃ و الثالث: ان لا یکون واجبا علیہ فی الحال او ثانی الحال

ترجمہ: تو جان لے! منت شرعی تین شرائط سے درست ہوتی ہے، ان میں سے ایک یہ کہ اس کی جنس سے کوئی شرعی واجب ہو۔ دوسری یہ کہ وہ عبادت، عبادت مقصودہ ہو، عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو۔ تیسری یہ کہ وہ فی الحال یا آئندہ خود واجب نہ ہو۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، کتاب الصوم، جلد 3، صفحہ 431، مطبوعہ کوئٹہ)

مختلف مواقع پر نبی پاک سے سجدۂ شکر کرناثابت ہے، جیسے ابو جہل کے واصل جہنم ہونے کی خبر سن کر نمازِ شکر ادا کی، اور ایک روایت میں ہے کہ پانچ بار سجدۂ شکر ادا کیا۔ اِسی طرح ایک ناقص الخلقت شخص کو دیکھا تو، سجدہ ادا کیا(جیساکہ امام حاکم نے روایت کیا)۔ یونہی خوشی کی خبر سن کر سجدۂ شکر ادا کرتے، جیساکہ سننِ ابن ماجہ میں ہے:

عن أبي بكرة، أن النبي صلى اللہ عليه وسلم كان إذا أتاه أمر يسره أو بشر به، خر ساجدا، شكراً لله تبارك و تعالى

ترجمہ: حضرت سیدنا ابو بکرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کوکوئی خوشی کی خبرپہنچتی یا آپ عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام کو کوئی خوشخبری سنائی جاتی، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں چلے جاتے۔ (سنن ابن ماجہ، باب ماجاء فی الصلاۃ و السجدۃ عند الشکر، صفحہ 210، مطبوعہ لاہور)

سجدۂ شکر کے مستحب ہونے کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

و سجدة الشكر: مستحبة به يفتى… (قوله به يفتى) هو قولهما… و الأظهر أنها مستحبة كما نص عليه محمد لأنها قد جاء فيها غير ما حديث وفعلها أبو بكر و عمر و علي، فلا يصح الجواب عن فعله صلى اللہ عليه و سلم بالنسخ… و في آخر شرح المنية:… و عليه الفتوى

ترجمہ: اور سجدۂ شکر مستحب ہے، اسی پر فتوی ہے، (علامہ شامی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں) یہ صاحبین کا قول ہے اورزیادہ ظاہر بھی یہی قول ہےکہ یہ مستحب ہے، جیساکہ امام محمد رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اِس کی صراحت فرمائی، کیونکہ اس پر بہت سی احادیث وارد ہیں اور حضرت ابو بکر و حضرت عمر و مولیٰ علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم کا عمل بھی مروی ہوا، لہٰذا اس کے متعلق نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کا عمل منسوخ ہونے کا قول درست نہیں اور شرح منیہ کے آخر میں ہے:… اِسی پر فتوی ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، مطلب فی سجدۃ الشکر، جلد 2، صفحہ 720، مطبوعہ کوئٹہ)

صرف سجدہ کرنا بھی عبادتِ مقصودہ ہے، لہٰذا سجدۂ شکر عبادت مقصودہ ہے،چنانچہ امام اکمل الدین محمد بن محمد رومی البابرتی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 786ھ)  عنایہ میں، علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:855ھ / 1451ء) ”بنایہ “میں لکھتے ہیں:

فعند محمد السجدة الواحدة عبادة مقصودة

ترجمہ:امامِ محمد رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے نزدیک خالی سجدہ کرنا، عبادتِ مقصودہ ہے۔ (البناية شرح الهداية، جلد 2، صفحہ 667، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اور اسی بات کو علامہ زَیْلَعی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:743ھ / 1342ء) تبیین الحقائق  میں لکھتے ہیں:

أن السجدة الواحدة قربة وهي سجدة الشكر

ترجمہ: تنہا سجدہ کرنا، قربت(مقصودہ) ہے اور یہ سجدۂ شکر ہے۔(تبیین الحقائق، جلد 1، صفحہ 197، مطبوعہ المطبعة الكبري، القاهرة)

عبادت کی چار اقسام میں سے پہلی قسم بیان کرتے ہوئےاِمامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: مقصودہ مشروطہ جیسے، نماز و نمازِ جنازہ و سجدۂ تلاوت و سجدۂ شکر کہ سب مقصود بالذات ہیں اور سب کے لیے طہارتِ کاملہ شرط، یعنی نہ حدثِ اکبر ہو نہ اصغر۔ نیز یاد پر تلاوتِ قرآنِ مجید کہ مقصود بالذات ہے اور اس کے لیے صرف حدثِ اکبر سےطہارت شرط ہے،بےوضو جائز ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 3، صفحہ 557، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

سجدۂ شکر کی جنس سے واجب بھی موجود ہے، جیساکہ سجدۂ تلاوت، ان دونوں کانفسِ حکم مختلف ہونے کے باوجود طریقۂ ادا ایک ہی ہے، چنانچہ مراقی الفلاح میں فرمایا:

و ھیئتھا ان یکبر مستقبل ا لقبلۃ و یسجد،فیحمد اللہ و یشکر و یسبح ثم یکبر فیرفع رأسہ مثل سجدۃ التلاوۃ بشرائطھا

یعنی سجدۂ شکر کا طریقہ یہ ہےکہ قبلے کی طرف منہ کرکے تکبیرِ تحریمہ کہے اورسجدہ کرے اوراللہ کی حمدبیان کرے، شکر ادا کرے، تسبیح پڑھے، پھر تکبیر کہتا ہوا سر اٹھائے، سجدۂ تلاوت کی مثل ا س کی شرائط کے ساتھ (اِسے بھی ادا کرے)۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، جلد 2، صفحہ 110، مطبوعہ کراچی)

سجدہ شکر کی منت مانی، تو اس کی ادائیگی لازم ہونے کی صراحت کرتے ہوئے شیخ ہبۃ اللہ بن محمد بعلی تاجی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1224ھ) لکھتے ہیں:

سجدة الشكر مستحبة وبه يفتى…و على هذا لو نذر سجد ة الشكر تجب

ترجمہ: مفتیٰ بہ قول کے مطابق سجدہ شکر مستحب ہے اور اس کے مطابق اگر کسی شخص نے سجدہ شکر کی منت مانی، تو اس پر سجدۂ شکر واجب ہو جائے گا۔ (التحقیق الباھر شرح الاشباہ و النظائر، جلد7، صفحہ 370، مطبوعہ کوئٹہ)

امام اعظم رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے نزدیک عدمِ مشروع کا مطلب بیان کرتے ہوئے علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

و أما عند الامام فنقل عنه في المحيط أنه قال لا أراها واجبة لأنها لو وجبت لوجب في كل لحظة لأن نعم اللہ تعالى على عبده متواترة وفيه تكليف ما لا يطاق

ترجمہ: بہر حال امام اعظم رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مؤقف کے متعلق محیط میں نقل کیا گیاکہ آپ عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے فرمایا: میں اس کو واجب نہیں سمجھتا، کیونکہ اگر یہ واجب ہو، تو ہر لمحے ہی واجب قرار پائے گا، اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتیں بندے پر مسلسل رہتی ہیں، لہٰذا اس امر کا مکلف کرنا تکلیف مالایُطاق ہے (اور شریعت کسی کو بھی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتی)۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، مطلب فی سجدۃ الشکر، جلد 2، صفحہ 720، مطبوعہ کوئٹہ)

یونہی دیگر فقہائے کرام نے اور امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ نے فتاوی رضویہ میں یہی بیان فرمایا۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 786، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9655
تاریخ اجراء: 03 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 24 دسمبر 2025ء