logo logo
AI Search

بغیر نیت آیتِ سجدہ سننے پر سجدۂ تلاوت کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آیتِ سجدہ سننے کی نیت نہ ہو مگر سن لے تو سجدہ تلاوت کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور بکر دونوں قرآن پاک کی تلاوت کررہے ہیں، اب دورانِ تلاوت زید آیتِ سجدہ تلاوت کرتا ہے تو اس کی آواز بکر کے کانوں تک بھی پہنچتی ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں بکر پر بھی سجدہ تلاوت واجب ہوگا؟ کیونکہ بکر تو اپنی تلاوت میں مصروف ہے، اس کا ارادہ تو آیتِ سجدہ سننے کا نہیں ہے ؟

جواب

جی ہاں! پوچھی گئی صورت میں بکر پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا، کیونکہ آیتِ سجدہ سننے میں یہ شرط نہیں کہ سامع نے بالقصد اُس آیتِ سجدہ کو سنا ہو بلکہ بلا قصد آیتِ سجدہ سننے سے بھی سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

یہاں تک تو پوچھے گئے سوال کا جواب تھا البتہ ضمناً یہ مسئلہ ضرور ذہن نشین رہے کہ اگر چند افراد مل کر تلاوت کررہے ہوں تو اُنہیں آہستہ تلاوت کرنے کا حکم ہے، کیونکہ جب بلند آواز سے تلاوت کی جائے تو حاضرین پر سننا فرض ہوجاتا ہے جبکہ وہ حاضرین سننے کی غرض سے جمع ہوں، ورنہ ایک کا سننا بھی کافی ہے۔ جب اجتماعی طور پر تلاوت کی صورت میں ہر شخص اپنی تلاوت میں مصروف ہوگا تو اُس تلاوت کو نہ سننے کا گناہ بلند آواز سےتلاوت کرنے والے پر ہوگا۔ البتہ سبق یاد کرنے کی غرض سے طلباء کو بلند آواز سے سبق کی دہرائی کرنے کی شرعاً اجازت ہے۔

بلا قصد آیتِ سجدہ سننے سے بھی سجدہ تلاوت واجب ہوگا۔ جیسا کہ فتاوٰی ہندیہ وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے:

”والسجدة واجبة في هذه المواضع على التالي والسامع سواء قصد سماع القرآن أو لم يقصد ، كذا في الهداية۔ “

یعنی بیان کردہ ان تمام مواقع پر آیتِ سجدہ پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا، خواہ سامع نے اُس آیتِ سجدہ کو سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیا ہو، جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے۔(الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب الصلاۃ، ج01،ص132،مطبوعہ پشاور)

ہدایہ میں ہے:

” (والسجدة واجبة في هذه المواضع على التالي والسامع سواء قصد سماع القرآن أو لم يقصد) لقوله عليه الصلاة والسلام " السجدة على من سمعها وعلى من تلاها " وهي كلمة إيجاب وهو غير مقيد بالقصد۔ “

یعنی بیان کردہ ان تمام مواقع پر آیتِ سجدہ پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا، خواہ سامع نے اُس آیتِ سجدہ کو سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیا ہو، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ سجدہ تلاوت اُس پر واجب ہے کہ جس نے اُس آیت کو سنا اور جس نے اُس آیت کی تلاوت کی۔ یہاں حدیث میں لفظ "على" ایجاب کا کلمہ ہے اور اسے ارادے سے مقید نہیں کیا گیا۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، باب سجود التلاوۃ، ج01،ص78، دار احياء التراث العربي، بيروت)

(غير مقيد بالقصد) کے تحت بنایہ شرح الھدایہ میں ہے:

”يعني أن الإيجاب مطلق عن قيد القصد يجب على كل سامع سواء كان قاصدا للسماع أو لم يكن۔ “

یعنی یہاں ایجاب کو ارادے کی قید کے بغیر مطلق بیان کیا گیا ہے، لہذا آیتِ سجدہ سننے والے ہر سامع پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا خواہ اُس نے آیتِ سجدہ کو سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ۔ (البناية شرح الهداية ،کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج02،ص661، دار الكتب العلمية، بيروت)

بہارِ شریعت میں ہے:”آیت سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے، پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آواز سے ہو کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو خود سُن سکے، سننے والے کے ليے یہ ضرور نہیں کہ بالقصد سنی ہو، بلا قصد سُننے سے بھی سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔(بہارِ شریعت، ج 01، حصہ 04، ص 728، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

اگر چند افراد تلاوت کررہے ہوں، تو آہستہ تلاوت کرنے کا حکم ہے ۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے:” جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سُننا فرض ہے، جب کہ وہ مجمع بغرض سُننے کے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے، اگرچہ اور اپنے کام میں ہوں۔ مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں۔ بازاروں ميں اور جہاں لوگ کام میں مشغول ہوں بلند آواز سے پڑھنا ناجائز ہے، لوگ اگر نہ سُنیں گے تو گناہ پڑھنے والے پر ہے اگر کام میں مشغول ہونے سے پہلے اس نے پڑھنا شروع کر دیا ہو ۔ “ (بہارِ شریعت، ج 01، حصہ 03، ص 552، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:NOR-13755

تاریخ اجراء:23رمضان المبارک1446ھ/24مارچ2025ء