logo logo
AI Search

نماز کے قعدے میں پاؤں کی انگلیاں قبلہ رو نہ کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قعدے میں پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رو نہ کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب اگر قعدے میں پاؤں کی انگلیوں کو عذر کی بنا پر یا پھر بغیر عذر ہی کے قبلہ رو نہ کریں، تو کیا اس صورت میں نماز ادا ہوجائے گی؟

جواب

جی ہاں! پوچھی گئی صورت میں امام صاحب کی نماز درست ادا ہوجائے گی، کیونکہ مرد کے لیے قعدے میں سیدھا پاؤں کھڑا کرکے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ کرنا سنت ہے اور سنت کے ترک سے نماز فاسد نہیں ہوتی، لیکن بلاعذرِ شرعی سنت کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔

درِ مختار میں ہے:

”(وبعد فراغه من سجدتي الركعة الثانية يفترش) الرجل (رجله اليسرى) فيجعلها بين أليتيه (ويجلس عليها وينصب رجله اليمنى ويوجه أصابعه) في المنصوبة (نحو القبلة) هو السنة في الفرض والنفل۔“

یعنی نمازی دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہوکر اپنا الٹا پاؤں بچھاکر اپنی دونوں سرین اُس پر رکھے اور اس پر بیٹھ جائے۔ اپنا سیدھا پاؤں کھڑا رکھے اور سیدھے پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رو رکھے ، نمازی کے لیے ایسا کرنا فرض اور نفل دونوں نمازوں میں سنت ہے۔

(في المنصوبة) کے تحت ردالمحتارمیں ہے :

”أي الأصابع الكائنة في الرجل المنصوبة۔ قال في السراج: يعني رجله اليمنى لأن ما أمكنه أن يوجهه إلى القبلة فهو أولى۔ اه۔ وصرح بأن المراد اليمنى في المفتاح والخلاصة والخزانة۔۔۔۔(قوله هو السنة) فلو تربع أو تورك خالف السنة ط ۔“

ترجمہ: ”یعنی کھڑے کیے ہوئے پاؤں کی انگلیاں۔ "سراج" میں فرمایا یعنی سیدھے پاؤں کی انگلیاں کیونکہ نمازی کو جس بات پر قدرت ہے وہ یہ ہے کہ اپنے سیدھے پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رو کرےتوایسا کرنا بہتر ہے، الخ۔ " مفتاح"، "خلاصہ"اور "خزانہ " میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ یہاں سیدھا پاؤں مراد ہے ۔ ۔۔۔۔۔(قوله هو السنة) شارح کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ نمازی اگر چار زانو بیٹھے یا پھرسرین کے بل بیٹھے تو اس صورت میں وہ خلافِ سنت کا مرتکب ہوگا"طحطاوی " ۔(رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، ج02،ص265، مطبوعہ کوئٹہ، ملتقطاً)

بہار شریعت سننِ نماز میں ہے:”(۶۷) دوسری رکعت کے سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر، (۶۸) دونوں سرین اس پر رکھ کر بیٹھنا، (۶۹) اور داہنا قدم کھڑا رکھنا، (۷۰) اور داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رُخ کرنا ، یہ مرد کے ليے ہے۔(بہارشریعت ،ج01،حصہ 03، ص530، مکتبہ المدینۃ، کراچی)

سنن و مستحبات کے ترک پر نماز فاسد نہیں ہوتی اور نہ ہی سجدہ سہو واجب ہوتاہے۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے:”سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ، ثنا، آمین، تکبیراتِ انتقالات، تسبیحات کے ترک سے سجدۂ سہو نہیں بلکہ نماز ہو گئی۔ (بہار شریعت، ج01، حصہ 04، ص709، مکبتۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:NOR-13759

تاریخ اجراء:19شوال المکرم1446ھ/18اپریل2025ء