دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں سردی کی وجہ سے فوم بچھایا گیا ہے، جو کہ نرم ہے اور سجدے میں دبانے سے دَبتا ہے، تو ایسے میں نماز کا کیا مسئلہ ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر فوم واقعی ایسا ہے کہ جس پر سجدہ کرنے میں پیشانی خوب نہیں جمتی اور مزید دبانے سے وہ فوم دبتا ہے، تو ایسے فوم پر سجدہ کرنے سے سجدہ نہیں ہوگا، جس کی وجہ سے نماز نہیں ہوگی اور اگر پیشانی تو خوب جَم جائے، لیکن ناک ہڈی تک نہ جمے، تو اب نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی یعنی ایسی نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا، لہٰذا مسجد انتظامیہ پر لازم ہے کہ ایسے فوم کو نماز کی جگہ سے ہٹادیں اور اس کی جگہ کوئی ایسا سخت قالین، کارپیٹ وغیرہ بچھادیں کہ جس پر سجدہ کرنے سے پیشانی اچھی طرح سے جم جائے اور مزید دبانے سے نہ دبے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
و لو سجد على الحشيش أو التبن أو على القطن أو الطنفسة أو الثلج إن استقرت جبهته و أنفه ويجد حجمه يجوز و إن لم تستقر لا
ترجمہ: اور اگر گھاس، بھوسے، روئی، کپڑے یا برف پر سجدہ کیا، تو اگر سجدہ کرنے والے کی پیشانی اور ناک جم گئی اور وہ اس کی سختی کو محسوس کرے، تو اس پر سجدہ جائز ہوگا اور اگر پیشانی نہ جمے تو جائز نہیں۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 1، صفحہ 70، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
سجدہ کرنا کس چیز پر جائز ہے؟ اس کے متعلق شیخ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ علیہ ایک ضابطہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ضابطہ ان لا یتسفل بالتسفیل فحینئذ جاز سجودہ علیہ
ترجمہ: اس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ ایسی چیز جو دبانے سے نیچے نہ دبے، تو اس پر سجدہ کرنا جائز ہے۔ (غنیۃ المتملی، صفحہ 289، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو چیز ایسی ہو کہ سجدہ میں سر اس پر مستقر ہوجائے یعنی اس کا دبنا ایک حد پر ٹھہرجائے کہ پھر کسی قدر مبالغہ کریں، اس سے زائد نہ دبے ایسی چیز پر نماز جائز ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 346، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بہار شریعت میں ہے: کسی نرم چیز مثلاً گھاس، روئی، قالین وغیرہا پر سجدہ کیا، تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے، تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ بعض جگہ جاڑوں میں مسجد میں پیال بچھاتے ہیں، ان لوگوں کو سجدہ کرنے میں اس کا لحاظ بہت ضروری ہے کہ اگر پیشانی خوب نہ دبی، تو نماز ہی نہ ہوئی اور ناک ہڈی تک نہ دبی، تو مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی، کمانی دار گدّے پر سجدہ میں پیشانی خوب نہیں دبتی، لہٰذا نماز نہ ہوگی، ریل کے بعض درجوں میں بعض گاڑیوں میں اسی قسم کے گدّے ہوتے ہیں اس گدّے سے اتر کر نماز پڑھنی چاہیے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 514، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-619
تاریخ اجراء: 24 جمادی الاخریٰ1446ھ / 27 دسمبر 2024ء