
مجیب: ابو مصطفی محمد کفیل رضا مدنی
فتوی نمبر:Web-384
تاریخ اجراء: 18ذو الحجۃلحرام1443
ھ /18جولائی2022 ء
دارالافتاء اہلسنت
(دعوت اسلامی)
سوال
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ
الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
فرائض
اور سنتوں کے بیچ بات چیت یا کوئی ایسا کام کرنا جو
نماز کے منافی ہو، سنتوں کو باطل نہیں کرتا، البتہ ایسا کرنے سے
سنتوں کے ثواب میں کمی آجاتی ہے، لہٰذا ا س سے حتی
الامکان بچا جائے ۔
بہار شریعت میں
ہے :’’ سنت و فرض کے درمیان کلام کرنے سے اصح یہ ہے کہ سنت باطل نہیں
ہوتی البتہ ثواب کم ہو جاتا ہے۔ یہی حکم ہر اُس کام کا ہے
جو منافی تحریمہ ہے۔ ‘‘(بہارشریعت ،جلد1،صفحہ666،مکتبۃ
المدینہ، کراچی )
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ
اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم