logo logo
AI Search

سنت غیر مؤکدہ میں پہلا قعدہ بھول گئے تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سنت غیر مؤکدہ میں پہلا قعدہ بھول گئے اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا، تو حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عصر کی سنتوں میں غلطی سے دوسری رکعت پر نہیں بیٹھے اور کھڑے ہو گئے اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا، کیا وہ ہو گئیں یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جب بھولے سے قعدۂ اُولیٰ چھوٹ گیا تھا اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا تو یہ سنتیں صحیح ادا ہو گئیں؛ کیونکہ عصر کی سنتیں غیر مؤکدہ ہیں جو کہ بالکلیہ نفل کے حکم میں ہیں۔ اگرچہ نفل کا ہر قعدہ فرض ہوتا ہے، لیکن صحیح قول کے مطابق چار رکعت کی نیت کے ساتھ پڑھے جانے والے نفل میں پہلے قعدے کی حیثیت واجب کی ہو جاتی ہے، لہذا اگر وہ بھولے سے چھوٹ جائے تو دیگر واجبات کی طرح اس کی تلافی بھی سجدہ سہو سے ہو جائے گی اور وہ چار رکعتیں کامل قرار پائیں گی۔

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ /1921ء) لکھتے ہیں: ”و ہمین ست حکم سنن غیر راتبہ مانند چار رکعت قبلیہ عصر و عشا کہ آنہم نافلہ بیش نیست اما سنن راتبہ رباعیہ کہ قبلیہ ظہر و جمعہ است و ہمچو سائر رواتب حکمہا دارد فائق بر احکام نفل مطلق“ترجمہ: اور غیر مؤکدہ سنتوں کا حکم یہی ہے، جیسے عصر اور عشا سے پہلے کی چار رکعتیں کہ ان کا درجہ نفل ہی کا ہے، لیکن چار رکعت والی مؤکدہ سنتیں، جو کہ ظہر اور جمعہ سے پہلے ہیں اور اسی طرح دیگر مؤکدہ سنتیں، ان کے احکام مطلق نفل کے احکام پر فائق ہوتے ہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 130،  رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

علامہ رضی الدین محمد بن محمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 571ھ/1175ء) لکھتے ہیں:”ولو صلى أربعا تطوعا ولم يقعد في الثانية جازت استحسانا وعن محمد رحمه الله وهو قول زفر رحمه الله: لا يجوز قياسا لأن كل شفع من التطوع صلاة على حدة بدليل أنه يقرأ فيه بالفاتحة والسورة ...لهما: أن التطوع كما شرع ركعتين شرع أربعا فلما انتقل إلى الشفع الثاني تبين أن التحريمة أوجبت أربعا فصار كالفروض من ذوات الأربع“

ترجمہ: اور اگر کسی نے چار رکعت نفل نماز پڑھی اور دوسری رکعت میں قعدہ نہ کیا تو استحساناً یہ نماز جائز ہوگی، اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے اور یہی امام زفر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے کہ قیاساً یہ جائز نہیں؛ کیونکہ نفل کا ہر شفع (دو رکعت) الگ نماز ہوتی ہے، اس دلیل کے ساتھ کہ ہر شفع میں سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھی جاتی ہے۔ (جبکہ) امام اعظم و امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کی دلیل یہ ہے کہ نفل جس طرح دو رکعت مشروع ہیں، اسی طرح چار رکعت بھی مشروع ہیں، پس جب وہ دوسرے شفع کی طرف منتقل ہوا تو واضح ہو گیا کہ تحریمہ نے چار رکعتوں کو لازم کیا تھا تو یہ نفل نماز چار رکعت والی فرض نمازوں کی طرح ہو گئی۔ (المحیط الرضوی، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 270،  دار الكتب العلميہ، بیروت)

علامہ برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 956ھ/1549ء) لکھتے ہیں:”وإن شرع في الأربع من التطوع سنة كان أو غيرها ولم يقعد في اخر الركعة الثانية أي ترك القعدة الأولى ... قالا أي أبو حنيفة وأبو يوسف رحمهما الله ولا تفسد صلاته في الصورة المذكورة ولا يلزمه قضاء شيء لأن القعدة على رأس الركعتين من النفل لم تفرض لعينها بل لغيرها وهو الخروج على تقدير القطع على رأس الركعتين فلما لم يقطع وجعلها أربعا لم يأت أوان الخروج فلم تفرض القعدة“

ترجمہ:  اور اگر کسی نے چار رکعت نفل شروع کیے، خواہ وہ سنت ہوں یا اس کے علاوہ، اور دوسری رکعت کے آخر میں قعدہ نہ کیا، یعنی قعدۂ اُولیٰ ترک کر دیا تو امام اعظم اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ مذکورہ صورت میں اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی اور اس پر کسی چیز کی قضا لازم نہیں؛ کیونکہ نفل نماز میں دو رکعت کے آخر پر قعدہ فرض لعینہ نہیں، بلکہ فرض لغیرہ ہے اور وہ دو رکعت کے آخر پر نماز ختم کرنے کی صورت میں خروج (یعنی نماز کی تحریمہ سے باہر نکلنا) ہے۔ پس جب اس نے (دو رکعت پر) نماز ختم نہ کی اور اسے چار رکعت بنا دیا تو خروج کا وقت ہی نہیں آیا، لہذا یہ قعدہ بھی فرض نہیں ہوگا۔ (غنية المتملی شرح منية المصلي، جلد 2، صفحہ 172، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ /1921ء) لکھتے ہیں: ”فالصحيح في التراويح النيابة عن شفع واحد مطلقاولو صلى أربعا ولم يقعد إلا في الآخر والصحيح في غيرها صحة الكل إن صلى أربعا “ ترجمہ: پس نماز تراویح میں مطلقاً ایک شفع سے نیابت صحیح ہے، اگرچہ چار رکعت پڑھی اور صرف آخر میں قعدہ کیا، اور نماز تراویح کے علاوہ نمازوں میں صحیح یہ ہے کہ اگر چار رکعت ہی پڑھی تو سب رکعتیں صحیح ہیں۔ (جد الممتار علی رد المحتار، کتاب الصلاة، جلد 3، صفحہ 468،  مکتبة المدینه، کراچی)

علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں: ”ولو ترك القعود الأول في النفل سهوا سجد ولم تفسد استحسانا“ ترجمہ: اور اگر نفل نماز میں قعدۂ اُولیٰ بھولے سے ترک کر دیا تو سجدۂ سہو کرے گا اور استحساناً نماز فاسد نہیں ہوگی۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب الصلاة، صفحہ 100،  دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231 ھ/1815ء) اس کے تحت لکھتے ہیں: ”وعدم الفساد استحسان لأنه بقيامه جعلها صلاة واحدة فتبقى القعدة واجبة والخاتمة هي الفرض“ ترجمہ: اور نماز کے فاسد نہ ہونے کا حکم استحسان ہے؛ کیونکہ اس کے کھڑے ہو جانے سے یہ پوری ایک ہی نماز بن گئی، لہذا یہ قعدہ واجب رہ گیا اور آخری قعدہ ہی فرض ہے۔ (حاشية الطحطاوي على الدر المختار، جلد 2، صفحہ 514،  دار الکتب العلمیة، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ /1948ء) لکھتے ہیں: ”چار رکعت نفل پڑھے اور قعدۂ اولیٰ فوت ہو گیا بلکہ قصداً بھی ترک کر دیا تو نماز باطل نہ ہوئی اور بھول کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو عود نہ کرے اور سجدۂ سہو کر لے نماز کامل ادا ہوگی۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 667، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1143
تاریخ اجراء:14 شوال المكرم 1447ھ/03 اپریل 2026ء