تراویح میں امام کا مقتدی سے غلط لقمہ لینے پر حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تراویح میں امام نے مقتدی کا غلط لقمہ لے لیا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر تراویح میں امام نے مقتدی کا غلط لقمہ لے لیا تو کیا حکم ہوگا؟
جواب
اگر تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کیا جائے اور تلاوت قرآن کے اندر مقتدی غلط لقمہ دے اور اس کا دیا ہوا غلط لقمہ امام لے لے تو بوجہ حرج امید ہے کہ نماز میں فساد نہیں آئے گا، اور اگر تراویح میں تلاوت کے علاوہ کسی اور موقع پر مقتدی نے غلط یا بے محل لقمہ دیا تو مقتدی کی نماز ٹوٹ ہوگئی اور اس کا دیا ہوا ایسا لقمہ امام نے لیا تو امام کی نماز ٹوٹ گئی، جب امام کی نماز ٹوٹ گئی تو سب مقتدیوں کی بھی ٹوٹ گئی۔
تراویح میں قرأت کے اندر غلط لقمہ دینے سے نما زفاسد نہ ہوگی جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے: فقیر امیدکرتاہے کہ شرع مطہر ختم قرآن مجید فی التراویح میں اس باب میں تیسیر فرمائے کہ سامع کا خود غلطی کرنا بھی نادر نہیں اور غالباً قاری اسے لے لیتا یا اس کے امتثال کے لئے اوپر سے پھر عود کرتا ہے تو اگر ہر بار بحال سہو فساد نماز کا حکم دیں اور قرآن مجید کا اعادہ کرائیں حرج ہوگاو الحرج مدفوع بالنص(اور حرج کا مدفوع ہونا نص سے ثابت ہے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 285، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے ہمارے امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ بتانا اگرچہ لفظاً قرأت یا ذکر مثلاً تسبیح و تکبیر ہے اور یہ سب اجزاء و اذکار نماز سے ہیں مگر معنیً کلام ہے کہ اس کا حاصل امام سے خطاب کرنا اور اسے سکھانا ہوتا ہے یعنی تو بھولا، اس کے بعد تجھے یہ کرنا چاہئے، پر ظاہر کہ اس سے یہی غرض مراد ہوتی ہے اور سامع کو بھی یہی معنی مفہوم، تو اس کے کلام ہونے میں کیا شک رہا اگرچہ صورۃً قرآن یا ذکر، ولہٰذا اگر نماز میں کسی یحیٰ نامی کو خطاب کی نیت سے یہ آیہ کریمہ
یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ
پڑھی بالاتفاق نماز جاتی رہی حالانکہ وہ حقیقۃً قرآن ہے، اس بناء پرقیاس یہ تھا کہ مطلقاً بتانا اگرچہ برمحل ہو مفسد نماز ہو کہ جب وہ بلحاظ معنی کلام ٹھہرا تو بہرحال افساد نماز کرے گا مگر حاجت اصلاح نماز کے وقت یا جہاں خاص نص وارد ہے ہمارے ائمہ نے اس قیاس کوترک فرمایا اور بحکم استحسان جس کے اعلٰی وجوہ سے نص و ضرورت ہے جواز کا حکم دیا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 257، 258، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
غلط لقمہ دینے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور امام لقمہ لے تو اس کی اور سب مقتدیوں کی بھی فاسد ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے جب اسے شبہ ہے توممکن کہ اسی کی غلطی ہو اور غلط بتانے سے اس کی نمازجاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نماز فاسد ہوگی۔ تو ایسے امر پر اقدام جائزنہیں ہوسکتا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 287، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3664
تاریخ اجراء: 19 رمضان المبارک 1446ھ /20 مارچ 2025ء