بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میں سعودی عرب جاتا ہوں، تو وہاں میری 15 دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت ہوتی ہے، لیکن میں ہر جمعہ کو والد صاحب سے ملنے کیلئے جاتا ہوں اور والد صاحب کی رہائش 60 کلومیٹر دوری پر موجود شہر میں ہے، تو اب آیا میں مقیم ہی رہوں گا یا مسافر ہوجاؤں گا ؟والد صاحب کے پاس ہر جمعہ کو جانا لازمی ہوتا ہے۔
شرعی مسافر جب کسی قابلِ اقامت جگہ میں مسلسل پندرہ راتیں گزارنے کی نیت کرلے تو وہ شریعت کی رو سے مقیم شمار ہوتا ہے۔ اس حکم میں اصل اعتبار رات بسر کرنے کا ہے، دن کہاں گزرتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بشرطیکہ رات گزارنے کی جگہ اور دن گزارنے کی جگہ کا فاصلہ سفرِ شرعی (92 کلومیٹر) سے کم ہو، لہٰذا اگر کوئی شخص ابتدا ہی سے یہ نیت رکھتا ہو کہ وہ ایک شہر میں رات رہے گا اور دوسرے شہر میں دن گزارے گا، تو اس سے نیتِ اقامت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ اقامت کے انعقاد میں صرف رات کا اعتبار ہے۔ البتہ پندرہ میں سے ایک رات بھی کسی دوسری جگہ گزارنے کی نیت ہو تو پندرہ دن کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور ایسی صورت میں نیتِ اقامت صحیح نہیں بنتی، لہٰذا وہ مقیم نہیں بنتا۔
پھر جب ایک مرتبہ کسی مستقل بستی میں اقامت صحیح طور پر قائم ہوجائے تو پھر انسان مقیم ہی رہتا ہے، یہاں تک کہ یا تو اپنے وطنِ اصلی واپس چلا جائے، یا کسی دوسری جگہ کو نیا وطنِ اقامت بنالے، یا سفرِ شرعی یعنی کم از کم 92 کلومیٹر کا سفر اختیار کرے۔ان میں سے کسی صورت کے بغیر وہ مسلسل مقیم کا حکم رکھے گا اور پوری نماز ادا کرے گا۔
اب پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ سعودی عرب کے جس مقام پر آپ ٹھہرتے ہیں، اگر وہاں پندرہ راتیں گزارنے کی نیت کرتے وقت یہ معلوم ہو کہ ان میں سے ایک یا دو راتیں آپ نے 60 کلو میٹر دور شہر میں اپنے والد صاحب کے پاس گزارنی ہیں، تو اس صورت میں آپ مسافر ہی رہیں گے، مقیم نہیں، کیونکہ مسلسل ایک جگہ پندرہ راتیں گزارنے کی صحیح نیت موجود نہیں، اور اگر وہاں پندرہ یا اس سے زائد راتیں گزارنے کی نیت ہے اور ان میں سے ایک بھی رات والد صاحب کے پاس گزارنے کا ارادہ نہیں، اگرچہ دن کے اوقات ان کے ساتھ گزارنے کا ارادہ ہو، تو اس صورت میں آپ مقیم شمار ہوں گے، کیونکہ اعتبار راتوں کے قیام کا ہے، دن کی آمدورفت کا نہیں۔
مسئلہ کے جزئیات:
کسی جگہ مقیم ہونے کیلئے وہاں رات گزارنے کی نیت معتبر ہونے کے متعلق، نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے:
”(ولا تصح نية الإقامة ببلدتين لم يعين المبيت بإحداهما) وكل واحدة أصل بنفسها“
ترجمہ: دو مختلف شہروں میں اقامت کی نیت صحیح نہیں ہوتی جب تک یہ متعین نہ کرے کہ رات کس ایک میں گزارے گا، جبکہ وہ دونوں شہر اپنی اپنی جگہ مستقل حیثیت رکھتے ہوں۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، ج01، ص 163، المکتبۃ العصریۃ)
تسلسل معتبر ہونے کے متعلق، جد الممتار علی رد المحتار میں ہے:
’’أقول: ألحق أن التوالی شرط فانہ لو نوی أن یقیم ھاھنا أسبوعاً فی أول کل شھر لا یکون مقیماً ھاھنا أبداً‘‘
ترجمہ: میں کہتا ہوں: حق یہ ہے کہ تسلسل شرط ہے۔ اگر نیت کرے کہ ہر مہینے کی ابتدا میں ایک ہفتہ یہاں مقیم رہے گا، تو وہ کبھی بھی یہاں مقیم نہیں مانا جائے گا۔ (جدالممتار، ج3، ص566، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
نیت اقامت کے وقت معلوم ہو کہ پندرہ میں سے ایک رات کہیں اور گزارنا پڑے گی تو اب مقیم نہیں ہوگا، کہ یہ تسلسل کے منافی ہے، اس کے متعلق رد المحتار میں ہے:
”لما كان عازما على الخروج قبل تمام نصف شهر لم يصر مقيما“
ترجمہ: جب پندرہ دن سے پہلے ہی وہاں سے نکل جانے کا اس کا عزم ہو تو وہ مقیم نہیں ہوگا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 02، ص 126، دار الفکر، بیروت)
فتاوٰی رضویہ میں ہے: ”الٰہ آباد میں پورے پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کی اور ساتھ ہی یہ معلوم تھا کہ ان میں ایک شب دوسری جگہ ٹھہرنا ہوگا، تو یہ پورے پندرہ دن کی نیت نہ ہوئی اور سفر ہی رہا اگرچہ دوسری جگہ الہ آباد کے ضلع میں، بلکہ اس سے تین چار ہی کوس کے فاصلہ پر ہو۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 08، ص 251، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ہاں! اگر پندرہ یا اس سے زائد راتیں تو وہیں گزارنے کی نیت کی اور ساتھ میں یہ نیت بھی ہے کہ دن دوسری جگہ گزاروں گا جوکہ سفر شرعی کی مسافت سے کم پر واقع ہے، تو یہ نیت اقامت میں مخل نہیں کہ نیت اقامت میں دن کا اعتبار ہی نہیں، چنانچہ کئی کتب فقہ جیسے بحر الرائق، فتاوی عالمگیری، رد المحتار وغیرہ میں بالفاظ متقاربہ ہے:
”و لو نوی الاقامۃ خمسۃ عشر یوماً بقریتین، النھار فی احداھما و اللیل فی الأخری یصیر مقیماً اذا دخل التی نوی البیتوتۃ فیھا“
ترجمہ: اگر دو بستیوں میں پندرہ دن اقامت کی نیت کی، ان دونوں میں سے ایک میں دن گزارنے اور دوسری میں رات بسر کرنے کی نیت تھی، تو اس بستی میں داخل ہونے سے مقیم ہو جائے گا، جس میں رات گزارنے کی نیت کی تھی۔ (ھندیہ، ج1، ص140، ردالمحتار مع الدرالمختار، ج2، ص730، بحرالرائق، ج2، ص232، کوئٹہ)
جد الممتار علی رد المحتار میں ہے:
’’و الخروج قسمان: أحدھما: ألخروج نھاراً أو لیلاً الی موضع آخر مع المبیت ھاھنا، فھذا لا یقطع التوالی؛ لأن مقامک ھو مبیتک، و الآخر: الخروج الی موضع آخر للمبیت فیہ و لو لیلۃ، فھذا الذی یقطع التوالی‘‘
ترجمہ: خروج (نکلنے) کی دو قسمیں ہیں۔ دونوں میں پہلی قسم: دن یا رات میں دوسری جگہ کی طرف اس نیت کے ساتھ نکلنا کہ رات یہاں گزارے گا تو یہ تسلسل کو منقطع نہیں کرے گا، اس لیے کہ تیری اقامت کی جگہ وہ ہے جو تیرے رات گزارنے کی جگہ ہے۔دوسری قسم: دوسری جگہ کی طرف نکلنااس میں رات گزارنے کے لیے، اگرچہ ایک ہی رات ہو تو یہ تسلسل کو منقطع کردے گا۔
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر:HAB-0687
تاریخ اجراء: 11جمادی الاخری 1447ھ/03دسمبر 2025 ء