منگنی شدہ لڑکی کو نکاح کا پیغام دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس عورت کی منگنی ہو چکی ہو، اسے نکاح کا پیغام بھیجنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہمارے خاندان میں ایک لڑکی ہے، اور اس کی منگنی ہو چکی ہے، تو کیا اب میں اسے نکاح کا پیغام دے سکتا ہوں؟
جواب
جب کسی لڑکی کی منگنی، اور رشتہ کسی اور جگہ طے ہو چکا ہو، تو اس صورت میں اس کو نکاح کا پیغام دینا یا اس کی طرف پیش قدمی کرنا شرعاً درست نہیں، کیونکہ حدیثِ مبارکہ میں اس سے منع فرمایا گیا ہے۔ البتہ! اگر وہ رشتہ خود ہی ختم ہو جائے، تو پھر شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے، آپ نکاح کا پیغام دے سکتے ہیں۔ بخاری شریف میں ہے "و لا يبيع الرجل على بيع اخيه و لا يخطب على خطبة اخيه" ترجمہ: اور کوئی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرئے اور نہ کوئی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے ۔ (صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 278، مطبوعہ: کراچی)
"و لا یخطب" کے تحت حضرت، علامہ، مولانا، مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: منگنی پر منگنی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب رشتہ طے ہو جائے تو پیغام نکاح نہ دیا جائے۔ (نزھۃ القاری، جلد 3، ص 491، فرید بک سٹال، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5061
تاریخ اجراء: 17 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 03 جون 2026ء