طلاق کے بعد شوہر کے ماموں سے نکاح کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طلاق کے بعد شوہر کے ماموں سے نکاح کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
شوہر سے طلاق کے بعد، اس کے ماموں سے نکاح ہو سکتا ہے، کہ نہیں؟ وضاحت کے ساتھ رہنمائی فرمادیں۔
جواب
اگر شوہر کے ماموں سے بیوی کا کوئی حرمت والا رشتہ نہیں (مثلا نہ وہ بیوی کے نسبی محارم میں سے ہے، نہ دودھ کارشتہ ہے، اور نہ حرمت مصاہرت ثابت ہے، وغیرہ)، تو ایسی صورت میں، شوہر سے طلاق کے بعد، عدت گزار کر، عورت، اس کے ماموں سے نکاح کرسکتی ہے، کہ شوہر کا محض ماموں ہونا، حرمت کا سبب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ شوہر کے ماموں سے پردہ کرنا عورت پر لازم ہے۔ جن سے نکاح حرام ہے، ان کے تفصیلی ذکر کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ﴿وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُم﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں۔ (پارہ 5، سورۃ النسآء، آیت 24)
شرعی طور پر شوہر کے چچا اور ماموں، عورت کے لیے محرم نہیں ہیں، اسی لئے ان سے پردہ کرنا عورت پر لازم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”إياكم و الدخول على النساء، فقال رجل من الأنصار: يا رسول اللہ! أفرأيت الحمو؟ قال: الحمو الموت“ترجمہ: عورتوں کے پاس جانے سے بچو! تو انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم! حمو کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے فرمایا: حمو تو موت ہے۔ (صحیح البخاری، ج 2، ص 787، مطبوعہ: کراچی)
ذکر کردہ حدیث پاک کے تحت محدث حنفیہ علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”قال النووي: المراد من الحمو في الحديث أقارب الزوج غير آبائه و أبنائه لأنهم محارم للزوجة يجوز لهم الخلوة بها، و لا يوصفون بالموت. قال: و إنما المراد: الأخ و ابن الأخ و العم و ابن العم و ابن الأخت و نحوهم ممن يحل لها تزوجه لو لم تكن متزوجة“ ترجمہ: امام نووی نے فرمایا: حدیث پاک میں حمو سے، شوہر کے آباء و اجداد اور بیٹوں کے علاوہ قریبی رشتے دار مراد ہیں؛ کیونکہ یہ (آباء و اجداد اور بیٹے) تو بیوی کے محرم ہیں، ان سے تنہائی جائز ہے، ان کو موت سے تعبیرنہیں کیا جاسکتا۔ فرمایا یہاں حمو سے شوہر کا بھائی، شوہر کے بھائی کا بیٹا، شوہر کا چچا، شوہر کے چچا کا بیٹا، شوہر کی بہن کا بیٹا وغیرہ وغیرہ وہی افراد مراد ہیں جن سے اس کا نکاح حلال ہے جبکہ یہ شادی شدہ نہ ہوتی۔ (عمدۃ القاری، کتاب النکاح، ج 20، ص 303، مطبوعہ: کوئٹہ)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ذکر کردہ حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں: بھاوج کا دَیْوَر سےبے پردہ ہونا موت کی طرح باعث ہلاکت ہے۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ حَمْو سے مراد صرف دیور یعنی خاوند کا بھائی ہی نہیں، بلکہ خاوند کے تمام وہ قرابت دار مراد ہیں جن سے نکاح درست ہے، جیسے خاوند کا چچا، ماموں، پھوپھا وغیرہ۔ اسی طرح بیوی کی بہن یعنی سالی اور اس کی بھتیجی، بھانجی وغیرہ سب کا یہ ہی حکم ہے۔ خیال رہے کہ دیور کو موت اس لئے فرمایا کہ عادۃً بھاوج دیور سے پردہ نہیں کرتیں، بلکہ اس سے دل لگی، مذاق بھی کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اجنبیہ غیر محرم سے مذاق دل لگی کس قدر فتنہ کا باعث ہے۔ اب بھی زیادہ فتنہ دیور، بھاوج اور سالی، بہنوئی میں دیکھے جاتے ہیں۔ (مراۃ المناجیح، ج 5، ص 14، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5057
تاریخ اجراء: 16 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 02 جون 2026ء