بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ زید نے ایک نکاح پڑھایا، جس میں وہ دلہن کے پاس گیا، تو یوں کہا ”کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ میں آپ کا نکاح پانچ ہزار روپے مہر کے بدلے فلاں شخص سے پڑھا دوں؟ تو لڑکی نے کہا میں اجازت دیتی ہوں، پھر زید دولہے کے پاس گیا، لیکن ابھی اتنا ہی بولا تھا کہ میں نے آپ کا نکاح پانچ ہزار حق مہر کے بدلے میں تو دولہے کے والد نے روک کر کہا کہ تیس ہزار حق مہر رکھنا ہے، پھر اس نے یوں بولا کہ میں نے آپ کا نکاح تیس ہزار حق مہر کے بدلے میں فلانہ سے پڑھایا، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟ تو دولہے نےکہا: مجھے قبول ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ زید نے مہر کے معاملے میں اپنی مؤکلہ کی مخالفت کی ہے، تو کیا یہ نکاح صحیح و نافذ ہو گا؟ اور نافذ ہو، تو دولہے اور دلہن کے پاس مہر کی الگ الگ مقدار ذکر کرنے کی مذکورہ صورت میں یہ دونوں رقمیں دینی ہوں گی یا ان میں سے کوئی ایک رقم بطورِ مہر ادا کرنا لازم ہو گی؟ اگر ایک لازم ہو گی، تو ان میں سے کس رقم کا اعتبار کیا جائے گا؟
پوچھی گئی صورت میں یہ نکاح، صحیح و نافذ ہے اور شوہر پر دونوں مرتبہ ذکر کی گئی رقم دینا لازم نہیں ، بلکہ صرف بوقتِ نکاح،ذکر کردہ تیس ہزار روپے ہی بطورِ مہر ادا کرنا لازم ہوں گے۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ وکیل جب اپنے مؤکل کی مخالفت کرے اور اس میں مؤکل ہی کا فائدہ ہو اور اس کی بیان کردہ جنس (مال کی نوعیت) کی مخالفت بھی نہ ہو ، تو وہ عقد، نافذ ہو جاتا ہے، جبکہ نقصان کی صورت میں یا جس صورت میں مؤکل کا مقصد پورا نہ ہو، وہ عقد نافذ نہیں ہوتا۔
اس تفصیل کی روشنی میں مؤکل کی طرف سے مہر کی بیان کردہ رقم سے کمی بیشی، محض اسی صورت میں ہی عقدِ نکاح کے نفاذ میں رکاوٹ بنے گی کہ جب مؤکل کو نقصان ہو رہا ہو یا اس کے مقصد کا حصول باقی نہ رہے ، یہی وجہ ہے کہ فقہاءِ کرام نے وکیل کی طرف سے مہر میں کمی و زیادتی کی وجہ سے عقد کے عدمِ نفاذ کا حکم اسی صورت میں لگایا ہے کہ جب مؤکل کو نقصان پہنچ رہا ہو، جیسے کہ مؤکلہ(عورت) کے بتائے ہوئے سے کم اور مؤکل (مرد) کے بتائے ہوئے سے زیادہ مہر پر نکاح پڑھانے کی صورت میں ان کے نقصان کی وجہ سے نکاح کو ان کی اجازت پر موقوف قرار دیا گیا ہے، یونہی صغیر (چھوٹے نا بالغ لڑکے) کا نکاح باپ یا دادا کے علاوہ کسی دوسرے ولی (شرعی سرپرست) نے مہر مثل پر غبنِ فاحش یعنی بہت زیادہ اضافے کے ساتھ پڑھایا، یا پھر صغیرہ (چھوٹی نابالغ لڑکی)کا بہت زیادہ کمی کے ساتھ پڑھایا، تو اس میں ان کا نقصان ہے، لہذا یہ عقد باطل قرار پائے گا، جبکہ پوچھی گئی صورت میں وکیل کا اپنی مؤکلہ کی بتائی گئی رقم سے زائد پر نکاح پڑھانا ،اس کے فائدے میں ہے اور اس کی بیان کردہ جنس (مال کی نوعیت) کی مخالفت بھی نہیں پائی گئی، تو یہ نکاح شرعی طور پر جائز اور نافذ قرار پائے گا۔
مزید یہ کہ عقدِ نکاح کے وقت جب مہر کی کوئی مقدار طے کر لی جائے اور وہ کم از کم مقدارِ شرعی (دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی یا اس کی قیمت) کے برابر یا اس سے زائد ہو اور معلوم و معین بھی ہو، تو وہ مقدار ، بطورِ مہر لازم ہو جاتی ہے اور پوچھی گئی صورت میں بوقتِ عقد زید نے دلہن کے وکیل کی حیثیت سے تیس ہزار روپے مہر کے ساتھ ایجاب کیا ، جسے دولہا نے قبول کر لیا، تو اب اسی تیس ہزار کی ادائیگی، اس دولہے پر لازم ہوگی اور دلہن کے پاس جو اس سے پہلے پانچ ہزار روپے کا تذکرہ ہوا ، اس کا اعتبار نہیں۔
مؤکل کی ہدایات کی مخالفت کی صورت میں، اگر اس کا فائدہ ہو اور اس کی بیان کردہ جنس (مال کی نوعیت) کی مخالفت بھی نہ ہو، تو ایسا عقد مؤکل پر نافذ ہو جاتا ہے، چنانچہ علامہ خُسْرو رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 885ھ / 1480ء) لکھتے ہیں:
الوكيل إذا خالف أمر الآمر إن كان خلافا إلى خير في الجنس بأن وكله ببيع عبده بألف درهم فباعه بألف ومائة ينفذ
ترجمہ:وکیل جب حکم دینے والے (موکل) کے حکم کی خلاف ورزی کرے، اگر یہ خلاف ورزی اسی جنس میں بہتری کی طرف ہو، یوں کہ اس نے اسے اپناغلام ایک ہزار درہم کے بدلے بیچنے کاوکیل بنایا پس وکیل نے اسے ایک ہزاراورایک سودرہم کے بدلے بیچ دیا،تویہ بیع نافذہوجائے گی۔ (درر الحکام شرح غرر الاحکام، جلد 02، صفحہ 289، دار احیاء الکتب العربیۃ)
خیراورشردونوں صورتوں میں مخالفت کا حکم بیان کرتے ہوئے، علامہ زَیْلَعی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 743ھ / 1342ء) لکھتے ہیں:
و لو وكله بشراء عشرة أرطال لحم بدرهم فاشترى عشرين رطلا بدرهم مما يباع منه عشرة بدرهم۔۔۔ يلزمه العشرون بدرهم۔۔۔ لأن المأمور به صرف الدرهم في عشرة أرطال من اللحم، و قد صرفه فيه مع زيادة خير فينفذ عليه۔۔۔ بخلاف ما لو اشترى ما يساوي عشرين رطلا منه درهما بدرهم حيث يصير مشتريا لنفسه بالإجماع؛ لأنه خالفه إلى شر
ترجمہ: اگر کسی شخص نے کسی کو ایک درہم میں دس رطل گوشت خریدنے کا وکیل بنایا اور اس وکیل نے ایک درہم میں بیس رطل گوشت اسی معیار کا خرید لیا کہ جیسا ایک درہم میں دس رطل ملتا ہے، تو یہ بیس رطل گوشت ایک درہم کے بدلے میں مؤکل پر لازم ہو جائے گا، کیونکہ اس کا حکم ایک درہم کو دس رطل گوشت کی خریداری میں صرف کرنے کا ہے، جبکہ وکیل نے اس درہم کو دس رطل میں خرچ کیا اور اس کے ساتھ ہی اس میں نفع کی زیادتی بھی کر وائی، تو یہ عقد مؤکل پر لازم ہو گا،بخلاف اس کے کہ جب اس نے ایسا گوشت ایک درہم میں خریدا کہ جو ایک درہم میں بیس رطل ملتا ہے، تو اب یہ وکیل بالاجماع، اسے اپنے لئے خریدنے والا قرار پائے گا، کیونکہ اس نے مؤکل کی مخالفت، شر (نقصان) کی طرف کی ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 4،صفحہ 262 ۔ 263، مطبوعہ المطبعۃ الکبری، مصر)
مؤکل کا مقصود حاصل ہونے کی صورت میں عقد کے نافذ ہونے کے متعلق شمس الاَئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 483 ھ / 1090ء) لکھتے ہیں:
و تصرف الوكيل على الآمر إنما ينفذ فيما يرجع إلى تحصيل مقصوده
ترجمہ: وکیل کا آمر (مؤکل) پر تصرف محض اسی صورت میں نافذ ہوتا ہے کہ جب اس کا مقصد حاصل ہو رہا ہو۔ (المبسوط، جلد 14، صفحہ 63، مطبوعہ دارالمعرفۃ، بیروت، لبنان)
مؤکل (مرد) کے مقرر کردہ مہر سے زائد یا مؤکلہ (عورت ) کے مقرر کردہ مہر سے کم پر نکاح پڑھانے کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:
لو عين المهر كألف فزوجه بأكثر فإن دخل بها غير عالم فهو على خياره۔۔۔ و لو هي الموكلة وسمت له ألفا فزوجها ثم قال الزوج و لو بعد الدخول: تزوجتك بدينار و صدقه الوكيل إن أقر الزوج أنها لم توكل بدينار فهي بالخيار، فإن ردت فلها مهر المثل بالغا ما بلغ و لا نفقة عدة لها بالرد تبين أن الدخول حصل في نكاح موقوف فيوجب مهر المثل دون نفقة العدة، و إن كذبها الزوج فالقول لها مع يمينها، فإن ردت فباقي الجواب بحاله و يجب الاحتياط في هذا
یعنی: اگر اس نے مہر میں مثلاً ایک ہزار کی تعیین کی ، پھر وکیل نے اس کا نکاح ایک ہزار سے زائد پر کر دیا، تو اگر اس نے مہر میں کئے گئے اضافے کو جانے بغیر اس سے ہمبستری کر لی ، تو بھی اسے نکاح کو رد کا اختیار حاصل ہے اور اگر یہ مؤکلہ ہو (یعنی جس نے کسی نکاح کا وکیل بنایا ہے وہ عورت ہو) اور اس نے ایک ہزار مہر مقرر کیااور وکیل نے اس کا نکاح کر دیا، پھر شوہر نے خواہ ہمبستری کے بعد ہی کہا کہ میں نے ایک دینار پر تجھ سے نکاح کیا ہے اور وکیل نے بھی اس کی تصدیق کر دی (یعنی اس کے مقرر کردہ سے کم میں نکاح ہوا)، تو اگر شوہر اس بات کی تصدیق کرے کہ اس نے واقعی ایک دینار پر نکاح کا وکیل نہیں بنایا تھا، تو عورت کو نکاح کے رد کرنے کا اختیار ہے، اگر وہ اسے رد کر دیتی ہے، تو اسے مہرِ مثل حاصل ہو گا، خواہ جتنا بھی ہو ، جبکہ عدت کا نفقہ حاصل نہیں ہو گا، کیونکہ نکاح کو رد کرنے سے یہ ظاہر ہو گیا کہ ہمبستری نکاحِ موقف میں واقع ہوئی ہے، تو یہ مہرِ مثل لازم کرے گی نہ کہ عدت کا نفقہ۔ اور اگر شوہر اس کی تکذیب کرتا ہے، تو بھی عورت کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہو گی، پھر اگر وہ نکاح کو رد کر دے ، تو باقی جواب وہی ہے۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 3، صفحہ 95، مطبوعہ مطبعۃ مصطفی البابی، مصر)
باپ یا دادا کے علاوہ کسی شخص کے غبنِ فاحش کے ساتھ نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح کرنے کے متعلق علامہ علاؤ الدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتےہیں:
و إن كان المزوج غيرهما أي غير الاب وأبيه ولو الام أو القاضي أو وكيل الاب۔۔۔ لا یصح النکاح من غير كفؤ أو بغبن فاحش أصلا
ترجمہ: اگر نکاح کرنے والا باپ یا دادا کے علاوہ کوئی اور ہو، اگرچہ ماں یا قاضی یا باپ کا مقرر کردہ وکیل، تو بھی غیرِ کفو یا غبنِ فاحش کی صورت میں نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا۔ (درمختار، صفحہ 184، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اگر نکاح کرنے والا اَب وجَد کے سوا اور کوئی ولی ہے۔۔۔ اور مہر مثل سے فرق کثیر ہے، مثلا پسر کا نکاح ہے اور عورت کا مہر مثل دس ہزار تھا انہوں نے پندرہ ہزار بندھوایا یا دختر کا نکاح ہے او رمہر مثل دس ہزار تھا انہوں نے پانچ ہزار بندھوایا، تو اس صورت میں نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 642، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
عقدِ نکاح میں مقرر کردہ مہر کی ادائیگی لازم ہونے کے متعلق قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالی ہے:
فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً
ترجمۂ کنزالعرفان: توان میں سے جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہو ان کے مقررہ مہر انہیں دیدو۔ (پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 24)
چنانچہ امام ابو الحسن علی بن حسين سُغْدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 461ھ / 1068ء) لکھتے ہیں:
فاما المعلوم۔۔۔ اذا كان معينا فانه جائز و ليس لها غير المسمى وليس للزوج ان يعطيها غير ذلك
یعنی: مہر جب معلوم و معین ہو، تو اس کو مقر ر کرنا، جائز ہے اور اب عورت اس مقرر کردہ سے زیادہ کی حق دار ہے ،نہ ہی شوہر کو اس سے کم دینے کا اختیار ہے۔ (النتف فی الفتاوی، جلد 1، صفحہ 298، مطبوعہ مؤسسہ الرسالہ، بیروت)
یونہی امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مہر مسمی یعنی جوعقد میں بندھا ہے واجب الاداہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 368، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
مہر کے حوالے سے، عقدِ نکاح سے پہلے ذکر کی گئی مقدار کا اعتبار نہ ہونے کے متعلق امام احمد قُدُوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 428ھ /1036ء) لکھتے ہیں:
إذا جعلا السمعة في المهر، فاتفقا أن المهر في الباطن مائة، و أنهما يظهران مائتين، و لم يقولا إن مائة منها سمعة، فالمهر مائتان؛ لأنه سمى في العقد ما يصح أن يكون مهرا، و لم يتفقا على الهزل ببعضه، فما تقدم من الاتفاق لا يعتد به
ترجمہ: جب متعاقدین نے مہر میں دکھلاوے کو شامل کر لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ حقیقت میں مہر کی رقم ایک سو ہوگی، جبکہ وہ اسے دوسو ظاہر کریں گے اور انہوں نے (وقتِ عقد) یہ نہیں کہا کہ ان میں سے ایک سو دکھلاوے کے طور پر ہیں، تو مہر، دو سو قرار پائے گا، کیونکہ انہوں نے عقد میں ایسی چیز کو ذکر کیا ہے کہ جس کا مہر بننا صحیح ہے اور اس میں سے بعض کے مذاق ہونے پر (وقتِ عقد) اتفاق نہیں کیا، تو پہلے والے اتفاق کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ (شرحِ مختصر الکرخی، جلد 3، صفحہ 503، مطبوعہ دار اسفار، کویت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9667
تاریخ اجراء: 20 جمادی الثانیہ 1447ھ/12 دسمبر 2025 ء