logo logo
AI Search

مُرشد کا اپنی مریدنی سے نکاح ہوسکتا ہے؟

مریدنی سے نکاح کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا مرشد کا اپنی مریدہ سے نکاح ہو سکتا ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

مرشد کا اپنی مریدنی سےنکاح ہوسکتا ہے، جب کہ نکاح کے حرام ہونے کی کوئی اور وجہ (حرمت مصاہرت یا رضاعت وغیرہ) نہ ہو، کیونکہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں جن عورتوں کو حرام فرمایا ہے، ان میں مریدنی کو شامل نہیں فرمایا، لہذا جب مریدنی میں نکاح کے حرام ہونے کی کوئی اور وجہ نہ ہو، تو وہ قرآن پاک کے مطلق حکم

وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ

(ترجمہ: اور ان کے سوا سب عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں) میں داخل ہے۔ مزید تفصیل کے لیے شیخ الاسلام و المسلمین، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا یہ فتوی ملاحظہ فرمائیں! ’’پیر کو اپنی مریدہ سے نکاح قطعا حلال ہے اسے ممنوع جاننا کتاب و سنت و اجماع امت و قیاس چاروں دلائل شرع سے محض باطل وبے اصل ہے، قرآنِ عظیم سے یوں کہ مولی عزوجل نے حرام عورتیں گناکر فرمایا:

و احل لکم ما وراء ذلکم

ان کے سوا سب عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں۔ لاجرم مریدہ بھی کہ ان محرمات میں ذکر نہ فرمائی اس حکم حلت میں داخل رہی، سنت سے یوں کہ نبی سے زیادہ پیر و مرشد کون ہے خصوصا ہمارے حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وعلیہم اجمعین وبارک وسلم کہ حضور تو تمام جہان کے پیر ہیں پھر حضور والا صلوات اللہ تعالی و سلامہ علیہ نے اپنی امتی بیبیوں ہی سے نکاح فرمایا جن میں ام المؤمنین خدیجۃ الکبری و حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما اعلی درجہ کی مریدہ اور اعلی درجہ کی بیبیاں ہیں، باتفاق علماء ثابت کہ جب اللہ عزوجل نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی نبوت عامہ کو ظاہر فرمایا، سب سے پہلے حضرت ام المومنین خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا شرفِ ارادت سے مشرف ہوئیں، بعض جاہلوں کی سمجھ میں یوں نہ آئے تو یہ مانیں گے کہ حضرات شیخین صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہما حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے سب سے افضل و اکمل مرید تھے۔۔۔ وہ جاہلانہ خیال کہ پیری و مریدی کا رشتہ بعینہ مثل رشتہ نسب کے ہے اگر سچا ہوتا تو مریدہ اپنی بیٹی ہوتی مریدوں کی بیٹیاں پوتیاں ہوتیں۔ یونہی ختنین عثمان غنی وعلی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہما کا نکاح بنات مطہرات حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے کیونکر ہوسکتا، اس تقدیر پر صاحبزادیاں بہنیں ہوتیں، مگر جہل و سفاہت کے مفاسد اس سے بھی زائد ہیں۔ اجماع سے یوں کہ آج تک تمام عالم میں کوئی عالم اس نکاح کی حرمت کا قائل نہ ہوا، فقہائے جملہ مذاہب کی کتابیں موجود، کسی نے مریدہ کو محرمات سے نہ گنا قیاس سے یوں کہ رشتۂ استاذی وشاگردی بھی مثل رشتۂ پیری ومریدی ہے پیر و استاذ دونوں بجائے باپ کے مانے جاتے ہیں۔۔۔ بلکہ پیری و مریدی بھی خود ایک استاذی وشاگردی ہے اگر یہ خیالِ باطل ٹھیک ہوتا تو اپنی شاگرد عورت سے بھی نکاح حرام ہوتا اور عورت کو علم سکھانا نکاح جاتے رہنے کا باعث ہوتا کہ اب وہ اس کی بیٹی ہوگئی حالانکہ قرآن وحدیث سے زوجہ کو شاگرد کرنا اور اپنی شاگرد عورت کو نکاح میں لانا دونوں ثابت۔

قال اللہ تعالی: یاایھا الذین اٰمنوا قوا انفسکم و اھلیکم نارا

اے ایمان والو: اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو دوزخ سے بچاؤ۔ ظاہر ہے کہ گھر والوں کو دوزخ سے بچانا بغیر مسائل سکھائے متصور نہیں کہ بچنا بے عمل اور عمل بے علم میسر نہیں، تو قرآن مجید صاف حکم فرماتا ہے کہ اپنی عورتوں کو علمِ دین سکھاؤ اور اس پر عمل کی ہدایت کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

رجل کانت لہ امۃ فغذا ھا فاحسن غذائھا ثم ادبھا فاحسن تادیبھا و علمھا فاحسن تعلمیھا ثم اعتقھا و تزوجھا فلہ اجران۔

یعنی جو کوئی کنیز رکھتا ہے اسے کھلائے اور اچھا کھلائے پھر ادب سکھائے اور بہتر سکھائے اور علم پڑھائے اور خوب پڑھائے، پھر اسے آزاد کرکے اپنے نکاح میں لائے وہ شخص دوہرا ثواب پائے۔۔۔ جاہلوں کی جہالت کہ مریدہ سے نکاح ناجائز بتائیں اور زن وشو دونوں کو بے تکلف مرید بنائیں، وہ دونوں اگر باپ بیٹی تھے یہ دونوں سگے بہن بھائی ہوئے، اس نکاح کو ممنوع جاننے والا شریعت مطہرہ پر کھلا ہوا افترا کرتا اور حلالِ خدا کو حرام ٹھہراتا ہے اس پر توبہ فرض ہے اللہ تعالی ہدایت بخشے، آمین۔" (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 325 تا 328 ملتقطا، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4565

تاریخ اجراء: 28 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 20 دسمبر 2025ء