Ek Hadees Mein Khizab Lagane Ka Zikr Hai Aur Ek Mein Mana Is Ki Wazahat
ایک حدیث پاک میں خضاب لگانے
کا ذکر ہے اور ایک میں ممانعت، ان کی وضاحت
مجیب:مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-2848
تاریخ اجراء: 28ذوالحجۃالحرام1445
ھ/05جولائی2024 ء
دارالافتاء اہلسنت
(دعوت اسلامی)
سوال
یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے ،پس تم ان کی مخالفت کرو ( یعنی
خضاب لگایا کرو ) “اس حدیث پاک میں خضاب لگانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ کہیں کہیں لکھا ہوتا ہے
کہ خضاب لگانا ناجائز ہے ۔اس کے
متعلق شرعی رہنمائی فرمادیجئے!
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ
الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
غيروا الشيب، ولا تقربوه السواد مؤسسة الرسالة
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ
اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم