امامِ وقت کو نہ پہچاننے پر جاہلیت کی موت کا کیا مطلب ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جس نے امامِ وقت کو نہ پہنچانا وہ جاہلیت کی موت مرا، اس کا کیا معنی ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں اس سوال ’’جس نے امامِ وقت کونہ پہچانا اس کی موت جاہلیت پر ہوگی، اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘ کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’ہر رسالت کے زمانہ میں وہ رسول اور اس کی کتاب امام ہوتی ہے، قال تعالٰی: كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: موسٰی علیہ السلام کی کتاب پیشوا اور مہربانی ہے۔ ت) زمانہ ختمیت میں آخرِ دہر تک قرآنِ عظیم و حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم امام ہیں، جس نے انہیں نہ پہچانا ظاہر کہ وہ جاہلیت کی موت مرا۔ و اللہ تعالیٰ اعلم۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 463 - 464، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2597
تاریخ اجراء: 22 جمادی الاولٰی 1447ھ / 14 نومبر 2025ء