کیا مقتول کی روح بھٹکتی ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیاناحق قتل کئے جانے والے لوگوں کی روحیں بھٹکتی رہتی ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ مرنے کے بعد روحیں نہ بھٹکتی ہیں اور نہ ستاتی ہیں، خصوصاً خبیث روحیں یعنی غیر مسلموں کی روحیں، کہ وہ قید میں ہوتی ہیں، کہیں نہیں جا سکتیں، جبکہ مسلمان کی روح اگرچہ آزاد ہوتی ہے اور بعض مقامات پر آتی جاتی ہے لیکن یہ آنا جانا بھٹکنے والا آنا جانا نہیں ہے بلکہ احادیث مبارکہ کے مطابق مسلمان کی روح خاص راتوں میں اپنے گھر والوں کے پاس آکر ان سے ایصالِ ثواب کا مطالبہ کرتی ہے۔
شرح الصدور میں ہے: ”وفات کے بعد مؤمنین کی روحیں ”رِمیائیل“ نامی فرشتے کے حوالے کی جاتی ہیں، وہ مؤمنین کی روحوں کے خازِن ہیں، جبکہ کفّار کی روحوں پر مقرر فرشتے کا نام ”دَومہ“ ہے۔“ (شرح الصدور، ص 237)
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”مؤمنین کی اَرواح سبز پرندوں میں ہوتی ہیں، جنّت میں جہاں چاہیں سیر کرتی ہیں۔ عرض کی گئی: اور کافروں کی روحیں؟ ارشاد فرمایا: سِجّین میں قید ہوتی ہیں۔“ (اھوال القبور لابن رجب، ص 182)
حضرت سیِّدُناامام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”مؤمنوں کی اَرواح آزاد ہوتی ہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں۔“ (الاستذکار، ج 2، ص 617، تحت الحدیث: 292)
بہارِ شریعت میں ہے: ”مرنے کے بعد مسلمان کی روح حسبِ مرتبہ مختلف مقاموں میں رہتی ہے، بعض کی قبر پر، بعض کی چاہِ زمزم شریف (یعنی زم زم شریف کے کنویں) میں، بعض کی آسمان و زمین کے درمیان، بعض کی پہلے، دوسرے، ساتویں آسمان تک اور بعض کی آسمانوں سے بھی بلند اور بعض کی روحیں زیرِ عرش قِنْدیلوں میں اور بعض کی اعلیٰ عِلّیِّین میں مگر کہیں ہوں اپنے جسم سے اُن کو تعلّق بدستور رہتا ہے۔ جو کوئی قبر پر آئے اُسے دیکھتے، پہچانتے، اُس کی بات سنتے ہیں بلکہ روح کا دیکھنا قُربِ قبر ہی سے مخصوص نہیں، اِس کی مثال حدیث میں یہ فرمائی ہے کہ ایک طائر (پرندہ) پہلے قَفَس (پنجرے) میں بند تھا اور اب آزاد کر دیا گیا۔ ۔ ۔ کافروں کی خبیث روحیں بعض کی اُن کے مرگھٹ، یا قبر پر رہتی ہیں، بعض کی چاہِ برہُوت میں کہ یمن میں ایک نالہ ہے، بعض کی پہلی، دوسری، ساتویں زمین تک، بعض کی اُس کے بھی نیچے سجّین میں، اور وہ کہیں بھی ہو، جو اُس کی قبر یا مرگھٹ پر گزرے اُسے دیکھتے، پہچانتے، بات سُنتے ہیں، مگر کہیں جانے آنے کا اختیار نہیں، کہ قید ہیں۔ یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں، محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔‘‘ (بہار شریعت، ج 1، ص 101 تا 103، ملتقطاً، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہے کہ مرنے والوں کی روحیں جمعرات، شبِ جمعہ، روزِ عید، روزِ عاشور اور شبِ براءت کو اپنے گھروں میں آتی ہیں اور اپنے عزیزوں کو پکار پکار کر صدقہ اور دعا کے لیے فریاد کرتی ہیں۔
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”خزانۃ الروایات میں ہے: ”عن بعض العلماء المحققین أن الأرواح تتخلص لیلۃ الجمعۃ و تنتش فجاؤا إلی مقابرھم ثم جاؤا فی بیوتھم“ بعض علماء محققین سے مروی ہے کہ روحیں شب جمعہ چھٹی پاتی اور پھیلتی جاتی ہیں، پہلے اپنی قبروں پر آتی ہیں پھر اپنے گھروں میں۔
دستور القضاۃ مستند صاحب مائۃمسائل میں فتاویٰ امام نسفی سے ہے: ”إن أرواح المؤمنین یأتون فی کل لیلۃ الجمعۃ و یوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتھم ثم ینادی کل واحد منھم بصوت حزین یا أھلی و یا أولادی و یا أقربائی اعطفوا علینا بالصدقۃ و اذکرونا و لا تنسونا و ارحمونا فی غربتنا الخ“ بے شک مسلمانوں کی روحیں ہر جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن اپنے گھر آتی ہیں اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کردرد ناک آواز سے پکارتی ہیں کہ اے میرے گھر والو! اے میرے بچو! اے میرے عزیزو! ہم پر صدقہ سے مہر بانی کرو، ہمیں یاد کرو، بھول نہ جاؤ۔ ہماری غریبی میں ہم پر ترس کھاؤ۔
نیز خزانۃ الروایات مستند صاحب مائۃ مسائل میں ہے: ”عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما إذا کان یوم عید أو یوم جمعۃ أو یوم عاشوراء و لیلۃ النصف من الشعبان تأتی أرواح الأموات و یقومون علیٰ أبواب بیوتھم فیقولون ھل من أحد یذکرنا ھل من أحد یترحم علینا ھل من أحد یذکر غربتنا الحدیث“ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، جب عید یا جمعہ یا عاشورے کا دن یا شب براءت ہوتی ہے، اموات کی روحیں آکر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑی ہوتی اور کہتی ہیں: ہے کوئی کہ ہمیں یاد کرے؟ ہے کوئی کہ ہم پر ترس کھائے؟ ہے کوئی کہ ہماری غربت کی یاد دلائے؟“ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 653، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2594
تاریخ اجراء: 20 جمادی الاولٰی 1447ھ / 12 نومبر 2025ء