logo logo
AI Search

کیا شیطان سوتے وقت تین گرہیں لگاتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا سوتے وقت شیطان انسان کو گانٹھیں لگاتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جی ہاں! یہ حدیث پاک ہے چنانچہ بخاری شریف میں ہے: ”یعقد  الشيطان علی قافیۃ رأس أحدكم اذا هو نام ثلاث عقد، يضرب مكان كل عقدة عليك ليل طويل فارقد، فان استيقظ فذكر اللہ انحلت عقدة، فان توضأ انحلت عقدة، فان صلى انحلت عقده، فأصبح نشيطاً طيب النفس، و الا أصبح خبيث النفس كسلان“ ترجمہ: جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو شیطان اس کی پیشانی پر تین گرہیں لگا تا ہے، ہر گر ہ کی جگہ پر پھونک مارکر کہتا ہے: ’’لمبی رات ہے، سو جا۔‘‘ پس اگر وہ بیدار ہوکر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گر ہ کھل جاتی ہے، اگر وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے پھرنماز پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے پس وہ ہشاش بشاش صبح کرتا ہے، ورنہ صبح کے وقت اس پر سستی طاری ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب التھجد، باب عقد الشیطان ۔ ۔ ۔ الخ، الحدیث 1141)

سوتے وقت آیۃ الکرسی پڑھنے سے شیطان سے حفاظت کیلئے فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے، لہٰذا شیطانی گانٹھوں سے حفاظت کی بھی امید ہے۔ بخاری شریف میں ہے: ”و اذا أویت الی فراشک فاقرأ آیة الکرسی حتی تختم الآیة فانک لن یزال علیک من اللہ حافظ و لا یقربنک شیطان حتی تصبح“ ترجمہ: یعنی جب تم بستر پر سونے کے لیے لیٹو تو آیۃ الکرسی پوری پڑھ لو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ حفاظت کے لیے مقرر رہے گا اور کوئی شیطان صبح تک تمہارے قریب نہ آسکے گا۔(صحیح البخاری، کتاب الوکالۃ، الحدیث 2311)

علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری شرح صحیح البخاری میں اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: ”و يمكن أن يخص منه من تقدم ذكره و من ورد فی حقه أنه يحفظ من الشيطان كالأنبياء و من تناوله قوله: (اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ) و كمن قرأ آية الكرسی عند نومه“ یعنی ممکن ہے کہ وہ افراد جن کا ذکر گزر چکا وہ اس سے خاص ہوں اور وہ حضرات جن کے حق میں آیا کہ وہ شیطان سے محفوظ ہیں جیسے انبیائے کرام (علیہم الصلوٰۃ و السلام) اور وہ افراد جنہیں اللہ پاک کا یہ فرمان کہ (بےشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابو نہیں) شامل ہے اور جیسے وہ شخص جو سوتے وقت آیۃ الکرسی پڑھ لے۔‘‘ (فتح الباری شرح صحیح البخاری،جلد 3، صفحہ 25، دار المعرفۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2596
تاریخ اجراء: 16 جمادی الاولٰی 1447ھ / 08 نومبر 2025ء