logo logo
AI Search

ٹھوکر لگنے پر بسم اللّٰہ کہنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ٹھوکر لگنے یا گرنے پر بسم اللہ کہنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

ٹھوکر لگنے، چوٹ پہنچنے یا گِرنے پر "بِسمِ اللہ" کہنے کا جو عُرف و رواج ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں اور نہ ہی یہ غیر محل میں ذکر اللہ کرنا ہے ، کیونکہ مصیبت و تکلیف کے وقت بے ساختہ اللہ تعالیٰ کا مبارک نام زبان پر آجانا سلف صالحین کا شیوہ رہا ہے، بلکہ خود نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے چوٹ لگنے اور جانور کو ٹھوکر لگنےکے موقع پر صحابہ کرام علیہم الر ضوان کو "بسم اللہ" کہنے کی تلقین فرمائی۔ نیز اس وقت ذکر اللہ کرنے کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ انسان پیش آنے والے ہر معاملے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت کے تحت سمجھے، ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرے اور صبر وشکر کا دامن تھامے رکھے۔

جانور کو ٹھوکر لگتے وقت بسم اللہ کہنا چاہیے، جیساکہ سننِ ابو داؤد میں مروی ہے:”عن أبي المليح، عن رجل، قال كنت رديف النبي صلى الله عليه وسلم، فعثرت دابة، فقلت: تعس الشيطان، فقال:لا تقل تعس الشيطان، فإنك إذا قلت ذلك تعاظم حتى يكون مثل البيت، ويقول: بقوتي، و لكن قل: بسم اللہ، فإنك إذا قلت ذلك تصاغر حتى يكون مثل الذباب“ ترجمہ: حضرت ابوملیح رضی اللہ عنہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، کہ اچانک جانور کو ٹھوکرلگی، تو میں نے کہا: شیطان ہلاک ہو! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشادفرمایا: یہ نہ کہوکہ شیطان ہلاک ہو، کیونکہ جب تم یہ کہتے ہو تو وہ (تکبرکی وجہ سے) پھول کر گھر کی طرح بڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے"یہ میری طاقت سے ہوا "، بلکہ تم بسم اللہ کہو، کیونکہ جب تم ایسا کہوگے، تو وہ (ذلت کی وجہ سے) سکڑ کر مکھی جتنا چھوٹا ہوجائےگا ۔ (سنن ابی داؤد، ج 4، ص 296، حدیث 4982، المکتبۃالعصریہ، بیروت)

امام ابو زکریا محی الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "الاذکار" میں مذکورہ بالا حدیث پاک اس عنوان کے تحت ذکر کی: ”باب ما یقولہ اذا عثرت دابتہ“ ترجمہ: جانور کو ٹھوکر لگتے وقت بندہ کیا کہے؟ (الاذکار للنووی، ص 483، دار ابن کثیر، بیروت)

علامہ ابو العباس شہاب الدین رملی المقدسی رحمۃاللہ علیہ مذکورہ بالا حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: ”فيه أنه يكره لمن عثر في مشيته أو عثرت دابته، أو تعقد عليه خيوط يحلها، أو تعسر عليه شيء مما يتعاطاه، أن يقول: تعس الشيطان، أو لعن اللہ إبليس، أو نحو ذلك،لأن هذا القول في هذِه الحال يفهم الشيطان هو الذي أعثره و أوقعه في ذلك؛ فلهذا يتعاظم، ويعجبه نسبة الأشياء إليه، و نحن مأمورون بإذلاله و إهانته، و إلصاق وجهه بالتراب تحقيرًا له. (و لكن) اذكر اللہ و (قل: بسم اللہ) وهذا من اللہ، تنسب الأشياء كلها إلى اللہ تعالى وإلى قوته و تقديره (فإنك إذا قلت ذلك) و نحوه (تصاغر حتى يكون مثل الذباب)“ ترجمہ: اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر چلتے ہوئے کسی شخص کا پاؤں پھسل جائے، اس کی سواری ٹھوکر کھا جائے، کسی گرہ یا ڈوری کو کھولتے ہوئے مشکل پیش آئے، یا کسی کام کے حصول میں دشواری پیش آ ئے، تو اس موقع پر "شیطان ہلاک ہو" یا "اللہ ابلیس پر لعنت کرے" یا اس جیسے دیگرالفاظ کہنا مکروہ ہیں، کیونکہ اس حالت میں اس طرح کہنے سے گویا شیطان یہ سمجھتا ہے کہ اسی نے ٹھوکر لگوائی یا مصیبت میں مبتلا کیا، چنانچہ وہ وہ پھول کربڑا ہوجاتا ہے اور اسے اچھا لگتا ہےکہ ان چیزوں کو اس کی طرف منسوب کیا جائے، حالانکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کو ذلیل و رسوا کریں اور اس کی تحقیر کرتے ہوئے اس کے چہرے کو خاک آلود کریں۔ البتہ (ٹھوکر لگنے وغیرہ کے وقت) اللہ کا ذکر کرو اور بسم اللہ کہو اور (کہو کہ) یہ معاملہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اسی طرح تمام اشیاء کواللہ تعالی کی طرف اور اس کی قوت وتقدیر کی طرف منسوب کیا جائے، کیونکہ جب تم یہ کہوگے، تو وہ (ذلت کی وجہ سے) سکڑ کر مکھی جتنا چھوٹا ہوجائےگا۔ (شرح سنن ابی داؤد لابن رسلان، ج 20، ص 117، حدیث 4982،دار الفلاح، مصر)

چوٹ لگنے پر بھی بسم اللہ کہنا چاہیے، چنانچہ سنن نسائی میں روایت ہے: ”فقاتل طلحة قتال الأحد عشر، حتى ضربت يده، فقطعت أصابعه، فقال: حس، فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: لو قلت بسم اللہ لرفعتك الملائكة والناس ينظرون“ ترجمہ: پھر (غزوۂ احد میں) حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے گیارہ آدمیوں کے برابر لڑائی کی، یہاں تک کہ ان کے ہاتھ پر ایسی ضرب لگی کہ ان کی انگلیاں کٹ گئیں، تو (درد کی شدت کے سبب) ان کے منہ سے حس (اچانک ہونے والے درد کے وقت بولا جانے والا لفظ) نکل گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تم بسم اللہ کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا لیتے اور لوگ دیکھتے رہ جاتے۔ (سنن النسائی، ج 6، ص 29، حدیث 3149، مکتب المطبوعات الاسلامیہ، حلب)

علامہ ابو الفتح تقی الدین عسقلانی المعروف بابن الامام رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 745ھ) نے اپنی کتاب "سلاح المؤمن فی الدعاوالذکر" میں مذکورہ بالا حدیث پاک اس عنوان کے تحت ذکر کی: ”ما یقول اذا اصابتہ جراحۃ“ ترجمہ: زخم پہنچنے پر بندہ کیا کہے؟ (سلاح المؤمن فی الدعا و الذکر، ص 375، دار ابن کثیر، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Pin-7789
تاریخ اجراء: 17 محرم الحرام 1448ھ / 03 جولائی 2026ء