بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض مساجد کے ائمہ کرام دعا مانگتے ہوئے قرآنِ پاک میں منقول دعاؤں میں مزید الفاظ کا اضافہ کرتے ہیں، جیسے
﴿رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
یہ قرآنِ پاک میں منقول دعا ہے، امام صاحبان اس سےآگے "وقنا عذاب القبر، وقنا عذاب الحشر، وقنا حساب المیزان" وغیرہ کا اضافہ کرتے ہیں۔ یونہی بعض ائمہ کرام واحد کے صیغہ کی جگہ جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں، جیسے قرآنِ پاک میں ایک دعا ہے: ﴿رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴾ اس کو"رَّبِّ زِدْنَا عِلْمًا" پڑھتے ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسا کرنا قرآنِ پاک میں تحریف تو نہیں ہے ؟
بلاشبہ قرآنِ مجید کے نظم و معنی میں دانستہ تبدیلی کرنا ناجائز و گناہ، بلکہ بعض صورتوں میں کفر تک بھی پہنچا سکتا ہے۔ تاہم اس کا دار و مدار نیت پر ہے، اور سوال میں جو صورتیں ذکر کی گئیں ان میں اور اس طرح کی دیگر صورتوں میں قرآن مجید کی نیت ہوتی ہی نہیں، بلکہ مقصود اقتباس یعنی قرآنی الفاظ کو اپنے کلام میں شامل کرکے ان کے موافق دعا مانگنی ہوتی ہے، یوں ان کا حکم قرآن والا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ ان میں معمولی تبدیلیاں اور اضافے بھی کردیئے جاتے ہیں، جیسا کہ بیان ہوا کہ
﴿رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
کے بعد ”وقنا عذاب القبر، وقنا عذاب الحشر، وقنا حساب المیزان“ کا اضافہ کردیا جاتا ہے، یونہی جہاں واحد کا صیغہ ہو، اسے جمع کے صیغے سے تبدیل کردیا جاتا ہے، جیسے﴿رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴾ کو” رَّبِّ زِدْنَا عِلْمًا “پڑھا جاتا ہے۔لہذایہ تمام جائز صورتیں ہیں، تحریف میں ہرگز داخل نہیں۔
جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ بسا اوقا ت نظم و نثر میں الفاظ قرآنیہ کواس طرح اپنے کلام کا حصہ بنایا جاتا ہے کہ اس میں اس کے کلام ربانی ہونے کی طرف اشارہ تک نہیں ہوتا، مثلا ”قال اللہ تعالی“ وغیرہ الفاظ کہے بغیر ہی اسے اپنے کلام میں ذکر کردیا جاتا ہے اور اس سے قرآن مجید یا اس کی تلاوت مقصود نہیں ہوتی، اس عمل کو فنی اور اصطلاحی طور پر اقتباس کہا جاتا ہے۔
اور اقتباس کے بارے میں علمائے دین کی واضح تصریحات موجود ہیں کہ چونکہ ایسی صورت میں ذکر کردہ الفاظِ قرآنیہ سے قرآن مقصود نہیں ہوتا، اس وجہ سے یہ الفاظ قرآن ہونے سے نکل کر مقتبس کا اپنا کلام بن جاتے ہیں، جس کے سبب اس پر قرآنِ مجید والے احکام جاری نہیں ہوتے اور نہ ہی اسے قرآنِ مجید کی تلاوت کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتباس میں ذکر کردہ الفاظ میں معمولی تبدیلی بھی جائز ہوتی ہے۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ ہمیں ایسی متعدد احادیث دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے الفاظِ قرآنیہ کو اپنے کلام میں شامل فرمایا یا انہیں بطورِ دعا پڑھا، لیکن ساتھ ہی ان میں معمولی تبدیلی بھی فرمادی؛ مثلاً کسی لفظ کا اضافہ کردیا، کسی لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل دیا، یا بعض اوقات کوئی لفظ حذف فرما دیا۔ سرکارِ کائنات ﷺ کے اس مبارک عمل کے تحت شارحینِ حدیث اور علمائے دین نے یہی توجیہ بیان فرمائی ہے کہ آپ کا یہ عمل بطورِ اقتباس تھا، ورنہ اگر آپ کا مقصد تلاوتِ قرآن ہوتا تو ہرگز تبدیلی نہ فرماتے، کیونکہ یہ عمل ناجائز اور گناہ ہے۔
ہم طوالت سے بچتے ہوئے یہاں صرف چار احادیثِ مبارکہ اور ان کے متعلق شارحینِ اور علمائے دین کے اقوال بطورِ دلیل ذکر کریں گے۔ ورنہ اس طرح کی اور بھی روایا ت موجود ہیں۔ نیز علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے الحاوی للفتاوی میں اس عنوان پر نہایت مفصل بحث فرمائی ہے اور اس سلسلے میں احادیث و اقوالِ علما سے کثیر تائیدات بھی ذکر فرمائی ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے اس مقام کی طرف بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔
(۱) صحیح بخاری کی روایت ہے کہ حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” گزشتہ رات عفریت جن مجھے پریشان کرنے کی کوشش کرنے لگا تاکہ میری نماز میں خلل ڈالے، تو اللہ نے اسے میرے اختیار میں کردیا، میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آگئی:
”رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي“
یعنی میرے رب مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔(صحیح البخاری، ج01، ص99، رقم461، السلطانیۃ، بالمطبعة الكبرى الأميریۃ، ببولاق مصر ) حالانکہ یہی دعا قرآن مجید فرقان حمید میں یوں مذکور ہے:
”رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ“(سورہ ص، آیت35)
یعنی آیت میں ”اغفر لی“ کے الفاظ بھی تھے لیکن سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ کو اد ا نہیں فرمایا۔
(۲)سنن نسائی وغیرہ کتب حدیث میں حضرت محمد بن مسلمہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لئے تکبیر کہتے تو ثنا کے طور پر یہ دعا پڑھتے:
”وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما، وما أنا من المشركين“
(سنن نسائی، ج02، ص131، رقم898، المكتبۃ التجاریۃ الكبرى بالقاهرة)
اور دوسری روایا ت کے مطابق ”وما انا من المشرکین“ کی جگہ ”انا من المسلمین “ کہتے۔(مشکوۃ المصابیح، ج01، ص260، رقم: 821، المكتب الإسلامی، بيروت) حالانکہ قرآن مجید کی آیت میں یہ دعا یوں مذکور ہے:
”اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ“
(سورہ انعام آیت79) یعنی ایک تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتداء میں لفظ”اِنِّیْ“ کو ترک فرمایا اور دوسری تبدیلی”حنیفا“کے بعد ”مسلما“ کا اضافہ فرمایا اور تیسری تبدیلی یہ کہ ”وما انا من المشرکین“ کی جگہ ”انا من المسلمین“ ارشاد فرمایا۔
(۳)مصنف ابن ابی شیبہ، موطا امام مالک و دیگر کتب احادیث میں موجود کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
”اللهم فالق الإصباح، وجاعل الليل سكنا، والشمس والقمر حسبانا“
یعنی اے تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والے، رات کو آرام کا ذریعہ بنانے والے اور سورج اور چاند کو اوقات کے حساب کا ذریعہ بنانے والے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج06، ص24، رقم: 29193، دار التاج - لبنان)(موطا امام مالک، ج01، ص212، رقم27، دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان)، جبکہ یہی الفاظ آیت میں اس طرح موجود ہیں:
”فَالِقُ الْاِصْبَاحِۚ-وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا“(سوره انعام آیت 96)
یعنی آیت میں مذکور لفظِ”جعل“ کو تبدیل کرکے سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے ”جاعل“ کا لفظ ارشاد فرمایا۔
(۴)اسی طرح ترمذی کی ایک حدیث پاک میں ارشاد ہوا:
”إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد عريض“
یعنی جب تمہارے پاس نکاح کا ایسا پیغام آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو فورا نکاح کرلو، ورنہ زمین میں فتنہ اور بہت فساد ہوگا (سنن ترمذی، ج02، ص380، رقم: 1084، دار الغرب الإسلامي - بيروت )۔جبکہ سورہ انفال آیت نمبر 73 میں مذکورہ الفاظ یوں موجود ہیں: ” اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ“ یعنی آیت میں موجود لفظ ”کبیر“کو لفظ” عریض“ سے تبدیل فرمادیا گیا۔
مذکورہ بالا احادیث میں اقتباس مقصود تھا، اب اس کے متعلق تصریحات ملاحظہ ہوں:
صحیح بخاری کی حدیث کے تحت فتح الباری، عمدۃ القاری اور الکواکب الدراری میں ہے،
واللفظ للآخر: ”(رب ھب لی)نظم القرآن رب اغفرلی و ھب لی و لعلہ ذکرہ علی قصد الاقتباس من القرآن لا علیٰ قصد انہ قرآن“
حضور علیہ السلام کے الفاظ رب ھب لی ہیں جبکہ قرآن کا نظم رب اغفرلی و ھب لی ہے، ہوسکتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے اس کو قرآن سے اقتباس کے طور پر ذکر فرمایا ہو نہ کہ قرآن کے قصد سے۔ (فتح الباری، ج 02، ص 730، عمدۃ القاری، ج 04، ص 464، الکواکب الدراری، ج04، ص 121، مطبوعات بیروت)
حديث نمبر 2 اور 3 میں اقتباس مراد ہونے کے متعلق الاتقان فی علوم القرآن میں ہے:
”وقد تعرض له جماعة من المتأخرين فسئل عنه الشيخ عز الدين ابن عبد السلام فأجازه واستدل له بما ورد عنه ﷺ من قوله في الصلاة وغيرها: وجهت وجهي: إلى آخره وقوله: اللهم فالق الإصباح وجاعل الليل سكنا والشمس والقمر حسبانا“
متاخرین کی ایک جماعت اقتباس کے درپے ہوئی اور اس کے متعلق شیخ عز بن عبد السلام سے پوچھا گیا، تو آپ نے نماز و دیگر کے متعلق آنے والی روایات سے استدلال فرماتے ہوئے حکم جواز بیان فرمایا، جیسے وجھت وجھی سے آخر تک دعا، یونہی اللھم فالق الاصباح سے آخر تک دعا۔ (زبدۃ الاتقان، ج01، ص386، الهيئة المصرية العامة للكتاب)
حديث نمبر 4 کے متعلق الحاوی للفتاوی میں ہے:
”أخرج الترمذي۔۔۔قال رسول الله ﷺ: إذا أتاكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد عريض، و في آخر سورة الأنفال: ﴿إلا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد كبير﴾ [الأنفال: ٧٣]، وفيه حجة أنه يجوز تغيير بعض النظم بإبدال كلمة بأخرى، وبزيادة ونقص، كما يفعله أهل الإنشاء كثيرا؛ لأنه لا يقصد به التلاوة، ولا القراءة، ولا إيراد النظم على أنه قرآن“
ترمذی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ اور سورہ انفال کے آخر میں یوں مذکور ہے:
”إلا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد كبير “
اس روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ بعض اوقات مقتبس نظم میں معمولی تبدیلی کی جا سکتی ہے، جیسے کسی لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل دینا، یا کمی بیشی کرنا، جیسا کہ اہلِ انشاء و ادب کرتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصود تلاوت، قراءت یا بحیثیت قرآن اسے ذکر کرنا نہیں ہوتا۔ (ملتقطا ازالحاوی للفتاوی، ج01، ص308، دار الفكر للطباعة والنشر، بيروت-لبنان)
اقتباس میں تغییر یسیر کے جواز کے متعلق امام محمد بن احمد دسوقی بھی حاشیۃ الدسوقی علی تلخیص المفتاح میں لکھتے ہیں:
”انہ یجوز فی اللفظ المقتبس تغییر بعضہ فلو کان المضمن ھو القرآن حقیقۃ کان نقلہ عن معناہ کفرا و کذالک تغییرہ“
مقتبس الفاظ میں معمولی تبدیل کرنا جائز ہے، کیونکہ اگر شامل کیا جانے والا کلام حقیقی طور پر قرآن ہوتا تو اس کو اس کے اصل معنیٰ سے پھیرنا، یونہی اس میں تبدیلی کرنا کفر ہوتا۔ (حاشیۃ الدسوقی علی تلخیص المفتاح، ج 02، ص 644، مطبوعہ کوئٹہ)
اقتباس کی تعریف کے متعلق الاتقا ن اور در منتقی میں ہے،
واللفظ للآخر: ”الاقتباس: تضمین الشعر او النثر بعض القرآن لا علیٰ انہ منہ بان لا یقال فیہ قال اللہ تعالیٰ و نحوہ، فان ذالک حینئذ لا یکون اقتباسا“
اقتباس یہ ہے کہ شعر یا نثر میں قرآن کی کسی آیت کو شامل کرنا، لیکن اس طور پر نہیں کہ یہ قرآن کا حصہ ہے، یعنی اس میں اس طرح کے الفاظ نہ کہے جائیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیونکہ اس صورت میں یہ اقتباس نہیں رہے گا۔ (الدر المنتقیٰ مع مجمع الانھر، ج 02، ص 439، مطبوعہ کوئٹہ)
امام احمد بن علی بہاء الدین سبکی عروس الافراح شرح تلخیص المفتاح میں لکھتے ہیں:
”والمراد بتضمينه أن يذكر كلاما وجد نظمه فى القرآن، أو السنة مرادا به غير القرآن فلو أخذ مرادا به القرآن، لكان ذلك من أقبح القبيح، ومن عظام المعاصى، نعوذ بالله منه“
اور اس کے شامل کرنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا کلام جس کا نظم قرآن یا حدیث میں پایا جاتا ہو، ذکر کیا جائے اور اس سے مقصود قرآن نہ ہو، کیونکہ اگر قرآنی آیت قرآن کے قصد سےشامل کی جائے، تو یہ بہت بری چیز اور بڑے گناہوں میں سے ایک ہوگا، ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ (عروس الافراح شرح تلخیص المفتاح، ج 02، ص 332، مطبوعہ المکتبۃ العصریۃ، بیروت)
مفتی محمد وقار الدین رضوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک سوال (قرآنی دعا "ربنا اغفرلی" میں بعض ائمہ کرام "و لو ا لد ی" کے بعد "ولاستاذی ولمن تلدنی کماربیانی صغیراً" کا اضافہ کرتے ہیں، کیا یہ قرآن میں اضافہ وترمیم نہیں؟) کے جواب میں لکھتے ہیں: ”یہ آیت دعا کے طورپر جب پڑھی جاتی ہے، تو اس وقت تلاوت کا قصد (ارادہ) نہیں ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر اس آیت میں اور بھی مسلمانوں کا مغفرت کے حوالے سے تذکرہ کیاجائے تو یہ جائز ہے۔ اور ایسا اضافہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“ (وقار الفتاوی، ج2، ص126، بزم وقارالدین کراچی)
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر:HAB-0701
تاریخ اجراء: 06رجب المرجب1447ھ/27دسمبر2025 ء