logo logo
AI Search

صبح مومن اور شام کافر ہونے والی حدیث پاک کی شرح

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صبح کے وقت مومن تو شام کو کافر ہونے والی حدیث پاک کی شرح

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی، جس میں لکھا تھا کہ حدیث پاک میں ہے: "نيك اعمال میں جلدی کرو، عنقریب فتنے چھا جائیں گے، انسان صبح کے وقت مؤمن ہوگا تو شام کے وقت کافر ہوگا، اور اس زمانہ میں بیٹھنے والا شخص کھڑے ہونے والے شخص سے بہتر ہوگا، اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، تم اس وقت اپنے گھروں کو لازم پکڑنا"۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسی کوئی حدیث پاک ہے ؟ اگر ہے تو اس سے کیا مراد ہے؟

جواب

جی ہاں! سوال میں بیان کردہ  حدیثِ پاک مختلف الفاظ کے ساتھ متعدد کتبِ احادیث میں موجود ہے۔

حدیثِ پاک کے اصل الفاظ مع ترجمہ درج ذیل ہیں:

صحیح مسلم، صحیح ابن حبان، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، المعجم الاوسط للطبرانی، المستدرک للحاکم علی الصحیحین اور سنن ابن ماجہ میں ہے، و النظم للمسلم:

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: بادروا بالاعمال فتنا كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا أو يمسي مؤمنا ويصبح كافرا۔والنظم لابی داؤد: القاعِدُ فيها خير مِن القائِم، والقائمُ فيها خيرٌ مِن الماشِي، والماشِي فيها خير مِن السَّاعی قالوا: فما تأمُرُنا؟ قال: كونوا أحلاس بيوتِكُم

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان فتنوں سے پہلے (نیک) اعمال میں جلدی کر لو، جو فتنے اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہونگے کہ انسان صبح مؤمن ہو کر کرے گا تو شام کافر ہوکر، یا شام مؤمن ہوکر کرے گا تو صبح کافر ہوکر، ان فتنوں میں بیٹھے رہنے والا شخص کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑے ہونے والا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا کہ اس وقت کے لئے آپ ہمیں کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے گھروں میں ٹھہرےرہنا۔ (صحیح مسلم، جلد01، صفحہ 76، رقم الحدیث: 118، مطبوعہ دارالطباعۃ العامریہ، ترکیا)، (سنن ابی داؤد، جلد06، صفحہ 619، رقم الحدیث: 4262، دارالرسالۃ العالمیۃ)

حدیثِ پاک کی شرح:

(1)حدیثِ پاک کے پہلے حصے ( ان فتنوں سے پہلے نیک اعمال کر لو، جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہونگے)کی شرح:

حدیثِ پاک کے اس حصے میں مؤمنین کو نیک اعمال کرنے میں جلدی کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے، اور ان فتنوں کی خبر دی گئی ہے، جو قربِ قیامت رو نما ہونگے، اور فرمایا گیا ہے کہ امن و امان کو غنیمت جانو، ورنہ ایسے ایسے فتنے رو نما ہونگے کہ جیسے اندھیری رات میں انسان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا، یونہی اس فتنہ کے زمانہ میں انسان کو کچھ معلوم نہ ہوگا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟ عجیب افر اتفری کا زمانہ ہوگا۔

(2)حدیثِ پاک کے اس حصے (انسان صبح مؤمن ہوکر کرے گا تو شام کافر ہوکر الخ) کے شارحین حدیث نے متعدد معانی بیان فرمائے ہیں:

(1)حدیثِ پاک میں صبح و شام سے قریبی وقت مراد ہےکہ بعض لوگ ایسے متذبذب ہوجائینگے کہ کچھ دیر پہلے مؤمن تھے تو کچھ دیر بعد کافر ہوجائینگے۔

(2)صحابئ رسول، حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نےحدیثِ پاک کے اس حصے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ ایسے کام کریں گے کہ ان کا ایمان سلب ہوجائے گا، مگر انہیں خبر ہی نہیں ہوگی۔

(3) یہاں کافر سے حقیقی کفر مراد ہے کہ یہاں کفر ایمان کے مقابلے میں ہے یعنی لوگ ان فتنوں کی وجہ سے اللہ پاک کا انکار کردینگے۔

(4)یا کفر کا لغوی معنی مراد ہے یعنی اللہ پاک کی ناشکری کرنا مراد ہے کہ لوگ صبح تو کامل ایمان کی حالت میں کرینگے، مگر شام کو اللہ تعالیٰ کی ناشکر ی کرینگے۔

(5)یا یہ مراد ہے کہ لوگ صبح تو کامل ایمان کی حالت میں کرینگے، مگر شام کو کفار کی طرح کے اعمال کرینگے، یا کفار سےمشابہت اختیار کرتے ہوئے شام کریں گے۔

(6)یا یہ مراد ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کردہ اشیاء، جن کی حرمت لعینہ قطعی ہے، صبح ان کو حرام جانیں گے، اور شام کو انہی حرام اشیاء کو حلال سمجھیں گے، اور جس چیز کی حرمت لعینہ قطعی ہو، تو اس کو حلال جاننا کفر ہے۔

(3)حدیثِ پاک کے اس حصے (ان فتنوں میں بیٹھے رہنے والا شخص کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا الخ) کی شرح:

حدیثِ پاک کے اس حصے سے ظاہر ی بیٹھنا، کھڑا ہونا، چلنا اور دوڑنا مراد نہیں، بلکہ یہ سب بطور تشبیہ و استعارہ فرمایا گیا ہے۔ ورنہ بیٹھنے سے مراد ہے، ان فتنوں سے الگ تھلگ رہنا، ان سے بالکل واسطہ نہ رکھنا، اور یہ فتنوں سے حفاظت کا ذریعہ ہوگا کہ ایسا شخص نہ فتنوں کو دیکھےگا، نہ ان کا اثر لے گا۔

اور کھڑے ہونے سے مراد ہے کہ دور سے فتنوں کو دیکھنا، ان پر خبردار اور مطلع ہونا یعنی فتنوں سے معمولی تعلق رکھنا۔ اور چلنے سے مراد ہے کہ ان فتنوں میں مشغول ہونا، مگر معمولی مشغول ہونا مراد ہے۔

اور دوڑنے سے مراد ہے کہ ان فتنوں میں خوب مشغول ہونا۔ الغرض! جو مسلمان ان فتنوں سے جس قدر دور رہے گا، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

نوٹ: فتنوں سےحفاظت کا طریقہ حدیثِ پاک میں یہ بیان فرمایا گیا کہ فتنوں سے بالکل ہی دور رہنا ہے اور اپنا وقت گھر میں گزارنا ہے، لیکن اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ ایسے وقت پنجگانہ جماعت، جمعہ اور عیدین میں حاضر نہیں ہونا، بلکہ ان کی حاضری اس وقت بھی واجب ہوگی۔

چنانچہ شرح صحیح بخاری لابن بطال، المفاتیح فی شرح المصابیح، شرح المصابیح لابن ملک، شرح النووی علی مسلم اور مرقاة المفاتیح میں ہے،

و النظم لابن بطال: فقال: إن الرجل ليصبح مؤمنًا ويمسى كافراً، قالت: وكيف؟ قال: يسلب إيمانه وهولايشعر۔والنظم للمفاتیح: (بادروا)أي: أسرعوا وسابقوا، ستأتي فتن شديدة كالليل المظلم، فتعجلوا بالأعمال الصالحة قبل مجيئها، فإنكم لا تطيقون الأعمال الصالحة إذا أتتكم الفتن، يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرايعني يكفر كثير من المسلمين باللہ في تلك الفتن۔واللفظ للمرقاۃ: يصبح الرجل مؤمنا أي موصوفا بأصل الإيمان أو بكماله ويمسي كافرا أي حقيقة، أو كافرا للنعمة، أو مشابها للكفرة، أوعاملا عمل الكافر ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا، وقيل: المعنى يصبح محرما ما حرمه الله ويمسي مستحلا إياه، وحاصله التذبذب في أمر الدين والتتبع لأمر الدنيا

ترجمہ: حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص صبح مؤمن ہونے کی حالت میں کرے گا اور شام کافر ہونےکی حالت میں، ان کی والدہ نے پوچھاکہ وہ کیسے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شخص کا ایمان سلب ہوجائے گا اور اسے اس بات کا علم ہی نہیں ہوگا۔ (بَادِرُو) یعنی(نیک اعمال میں) جلدی کرو اور سبقت حاصل کرو، عنقریب اندھیری رات کی طرح سخت فتنے آئینگے، لہٰذا نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو کہ جب فتنے آجائینگے تو تم نیک اعمال کرنے کی طاقت نہیں رکھو گے، کوئی شخص صبح مؤمن ہونے کی حالت میں کرےگا اور شام کافر ہونے کی حالت میں یعنی ان فتنوں میں کثیر مسلمان اللہ پاک کا انکار کردینگے۔ کوئی شخص صبح مؤمن ہونے کی حالت میں کرے گا یعنی وہ اصلِ ایمان یا کامل ایمان سے متصف ہوگا، اور شام کو وہ کافر ہوگا یعنی یا تو حقیقی کفر مراد ہے، یا کفران نعمت  (نعمت کی ناشکری) مراد ہے یا کفر سے مشابہت مراد ہے، یا کفار والے اعمال مراد ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص صبح اس حال میں کرے گا کہ اللہ پاک کی حرام کردہ اشیاء كو حرام ٹھہراتا ہوگا اور شام اس حال میں کرے گا کہ انہی حرام کردہ اشیاء کو حلال ٹھہراتا ہوگا، اور دین کے معاملہ میں وہ متذبذب ہوگا اور دنیا کے معاملات میں غور و فکر کرے گا۔ (شرح صحیح بخاری لابن بطال، جلد 10، صفحہ 58، مطبوعہ ریاض)، (المفاتیح فی شرح المصابیح، جلد5، صفحہ 351، وزارۃ الاوقاف)، (مرقاۃ المفاتیح، جلد8، صفحہ 3383، دار الفکر  )

مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1391ھ)اسی طرح کی احادیث طیبہ کی شرح میں لکھتے ہیں: یہ موقع امن وامان کا غنیمت جانو، جو نیکی کرنا ہے کرلو، ورنہ ایسے فتنے اٹھنے والے ہیں اور ایسی بلائیں آنے والی ہیں کہ انسان کو کچھ نہ سوجھے گا کہ میں کیا کروں؟ دلوں کے حالات بہت جلد بدل جائیں گے، جیسے اندھیری رات میں کچھ سوجھتا نہیں، یوں ہی ان فتنوں میں کچھ سوجھے گا نہیں، حق کیا ہے اور باطل کیا ؟عجیب افراتفری کا زمانہ ہوگا۔ ظاہر یہ ہے کہ صبح شام سے مراد قریبی اوقات ہیں، بعض لوگ ایسے مذبذب ہوجائیں گے کہ ابھی مؤمن ابھی کافر۔ یہاں کافر  سے مراد یا تو واقعی کافر ہے یا بمعنی ناشکرا ہے، پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کہ یہاں کافر مؤمن کے مقابل ارشاد ہوا۔ اس فرمان عالی میں بیٹھنا، کھڑا ہونا، چلنا اور دوڑنا بطور تشبیہ و استعارہ ارشاد ہوا ہے۔ بیٹھنے سے مراد ہے ان فتنوں سے الگ تھلگ رہنا، ان سے بالکل واسطہ نہ رکھنا، یہ ذریعہ ہوگا فتنوں سے حفاظت کا کہ وہ نہ فتنوں کو دیکھے گا نہ ان کا اثر لے گا۔ اور کھڑے ہونے سے مراد ہے دور سے انہیں دیکھنا، ان پر خبردار اور مطلع ہونا۔ چلنے سے مراد ہے ان میں مشغول ہونا مگر معمولی طور پر۔ اور دوڑنے سے مراد ہے ان میں خوب مشغول ہونا غرضیکہ عجیب استعارات ہیں۔۔۔ ( حدیثِ پاک کے اس حصے) تم بھی گھر میں رہنا باہر نہ جانا، لوگوں سے ملنا جلنا بند کردینا، یہ مطلب نہیں کہ باجماعت نماز اور جمعہ و عیدین چھوڑ دینا۔ مقصد یہ ہے کہ لوگوں سے خلط ملط چھوڑدینا۔ (مراۃ لمناجیح، جلد7، صفحہ 160، 148، نعیمی کتب خانہ گجرات ملخصاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: OKR-0173

تاریخ اجراء: 18جمادی الثانی 1447 ھ /10 دسمبر 2025 ء