logo logo
AI Search

تمہارا خون مال اور عزت تم پر حرام ہے؟ - حدیث کی وضاحت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تمہارا خون، مال، عزت تم پر حرام ہونے کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ یہ بات مجھے سمجھ نہیں آئی، کیا آپ اس کی وضاحت کر سکتے ہیں؟ ایک حدیث پاک میں ہے کہ: تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت تم پر اس طرح حرام ہے، جس طرح یہ دن، یہ مہینہ اور یہ شہر اس کا کیا مطلب ہے کہ: تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت تم پر حرام ہے۔؟

جواب

اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں، آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہے، لہذا کسی کو دوسرے کا ناحق خون بہانا، یا اس کا مال ناحق لینا، یا بلاوجہ شرعی اس کی عزت خراب کرنا، جائز نہیں ہے۔ یہی روایت جب دوسرے مقام پر بیان ہوئی، تو اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ تمہارے خون، تمہارے مال، اور تمہاری عزتیں، آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہے چنانچہ

قال: فإن دماءكم و أموالكم و أعراضكم بينكم حرام. ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: پس تمہارے خون، اور تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں، تمہارے آپس میں حرام ہیں۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم، صفحہ 30، رقم الحدیث 67، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

بخاری شریف کی سوال میں بیان کردہ روایت کے تحت، اسی طرح کی وضاحت علامہ بدرالدین علیہ الرحمۃ نے اپنی بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری میں بیان کی ہے، چنانچہ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے فإن قلت: ما معنى قوله: (عليكم) إذ معلوم أن أموالنا ليست حراما علينا؟ قلت: العقل مبين للمقصود و هو: أموال كل أحد منكم حرام على غيره، و ذلك عند فقدان شيء من أسباب الحل، و يؤيده الرواية الأخرى: وهي بينكم بدل: عليكم. ترجمہ: پھر اگر تم یہ کہو کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں: عليكم (تم پر) کا کیا معنی ہے، حالانکہ یہ بات معلوم ہے کہ ہمارے اپنے مال تو ہم پر حرام نہیں ہیں؟ میں کہوں گا: عقل اس کے مقصود کو واضح کرتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ: تم میں سے ہر شخص کا مال دوسرے شخص پر حرام ہے۔ اور یہ اسی صورت میں ہے جب کہ حلال ہونے کےاسباب میں سے کوئی سبب موجود نہ ہو۔ اور اس معنی کی تائید دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے، جس میں "عليكم" کے بجائے "بينكم" (تمہارے درمیان) کے الفاظ آئے ہیں۔ (عمدۃ القاری، جلد 2، صفحہ 220، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5062
تاریخ اجراء: 17 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 03 جون 2026ء