بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
حدیث پاک میں ہے کہ: "اگر کوئی شخص اپنے والدین کی طرف محبت کی نظر سے دیکھے تو اس کو حج مبرور کا ثواب ملتا ہے۔ "اب اگر کسی کا باپ مر گیا ہو، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟
صورت مسئولہ میں اگر والد انتقال کر گئے ہیں، تو ان کی قبر کی زیارت کو جائے، ان شاء اللہ عزوجل اس سے بھی حجِ مقبول کا ثواب ملے گا، کیونکہ حدیثِ پاک کا مفہوم ہے: "جس نے ثواب کی نیت سے اپنے والِدَین یا ان میں سےکسی ایک کی قَبْر کی زیارت کی، وہ حجِّ مقبول کے برابر ثواب پائے گا، اور جو بکثرت ان کی قَبْروں کی زیارت کرتا ہو، (تو جب یہ فوت ہوگا) فرشتے اُس کی قَبْر کی زِیارت کو آئیں گے۔"
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے، فرمایا:
”من زار قبر أبويه أو أحدهما احتسابا كان كعدل حجة مبرورة ومن كان زوارا لهما زارت الملائكة قبره“
ترجمہ: جس نے ثواب کی نیت سے اپنے والِدَین یا ان میں سے کسی ایک کی قَبْر کی زیارت کی، وہ حج مقبول کے برابر ثواب پائےگا، اور جو بکثرت ان کی قَبْروں کی زیارت کرتا ہو، (تو جب یہ فوت ہوگا)فرشتے اُس کی قَبْر کی زِیارت کو آئیں۔ (نوادر الاصول فی احادیث رسول، جلد1، صفحہ 126، مطبوعہ: بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4636
تاریخ اجراء: 24رجب المرجب1447ھ/14جنوری2026ء