قربانی کا جانور عیب دار ہو جائے تو قربانی کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شرعی فقیر کا قربانی کا جانور خریدنے کے بعد عیب دار ہو گیا تو قربانی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک بکرا خریدا تھا۔ اس کی آنکھ میں کچھ لگنے سے زخم ہو گیا تھا۔ اب وہ زخم تو ٹھیک ہو گیا ہے، مگر اس آنکھ کی بینائی ختم ہو چکی ہے۔ رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں اس بکرے کی قربانی کر سکتا ہوں؟ میرے اوپر قربانی واجب نہیں تھی، مگر میں ہر سال قربانی کرتا ہوں، لہٰذا اس سال بھی جانور خرید لیا۔ اب اس زخم کی وجہ سے پریشان ہوں۔ برائے کرم شریعتِ مطہرہ کے مطابق میری رہنمائی فرمائیں۔
جواب
بیان کردہ صورت میں آپ اس جانور کی قربانی کر سکتے ہیں، بلکہ اسی کو قربان کرنا ضروری ہے۔
تفصیل کچھ یوں ہے کہ جانور کی ایک آنکھ کی بینائی ختم ہوجانا بڑا عیب ہے جس کی وجہ سے جانور کی قربانی جائز نہیں ہوتی، لیکن اگر شرعی فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اور خریداری کے وقت اس میں کوئی ایسا عیب نہ ہو جو قربانی سے مانع ہوتا ہے، بلکہ خریداری کے بعد قربانی سے مانع عیب پیدا ہو جائے، تو ایسی صورت میں وہ شخص اسی جانور کی قربانی کرے گا، اس پر نیا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم نہیں، اس لیے کہ شرعی فقیر جس جانور کو قربانی کی نیت سے خریدتا ہے، اس پر اسی جانور کی قربانی کرنا متعین ہو جاتا ہے اور اس عیب کی وجہ سے الگ سے کوئی تاوان بھی لازم نہیں ہوتا۔
جن جانوروں کی قربانی جائز نہیں، ان کے متعلق سنن ابو داؤد میں حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ”اربع لا تجوز فی الاضاحی: العوراء بین عورھا و المریضۃ بین مرضھا و العرجاء بین ظلعھا و الکسیر التی لا تنقی‘‘ ترجمہ: چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: کانا، جس کا کانا پن ظاہر ہو؛ بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو؛ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور ایسا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد، جلد 3، صفحہ 97، مطبوعہ بیروت)
ذکر کردہ حدیثِ پاک کے تحت ”کانا پن“ کی وضاحت کرتے ہوئے شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1052ھ) لکھتے ہیں: ”ان یکون قد ذھب احدی عینھا کلھا او اکثرھا‘‘ ترجمہ: کانا اس طرح ہو کہ اس کی ایک آنکھ پوری یا اکثر ضائع ہوگئی ہو۔ (لمعات التنقیح، جلد 3، صفحہ 582، مطبوعہ دار النوادر، دمشق)
ایک آنکھ سے نابینا جانور کی قربانی کے متعلق علامہ محمد بن ابراہیم حلبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 956ھ/1049ء) لکھتے ہیں: ”(لا) تجوز (العمیان) و ھی الذاھبۃ العینین (و العوراء) و ھی الذاھبۃ احدی العینین‘‘ ترجمہ: اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ یہ وہ جانور ہے جس کی دونوں آنکھیں ضائع ہوگئیں اور کانے جانور کی (قربانی جائز نہیں) اور یہ ایسا جانور ہے جس کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔ (ملتقی الابحر مع شرح مجمع الانھر، جلد 4، صفحہ 171، مطبوعہ بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ’’اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں اور کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، اس کی بھی قربانی ناجائز۔۔۔ جس جانور کی تہائی سے زیادہ نظر جاتی رہی، اس کی بھی قربانی ناجائز ہے۔ ‘‘ (بھارِ شریعت، حصہ 15، جلد 3، صفحہ 341، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
شرعی فقیر نے قربانی کی نیت سے عیوب سے سلامت جانور خریدا، مگر بعد میں عیب پیدا ہوگیا، تو متعین ہوجانے کی وجہ سے اسی کی قربانی لازم ہو گی، چنانچہ علامہ بُر ہانُ الدین مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ/1196ء) لکھتے ہیں: ’’(و لو اشتراها سليمة ثم تعيبت بعيب مانع إن كان غنيا عليه غيرها، و إن فقيرا تجزئه هذہ) لأن الوجوب على الغني بالشرع ابتداء لا بالشراء فلم تتعين به، و على الفقير بشرائه بنية الأضحية فتعينت، و لا يجب عليه ضمان نقصانه‘‘ ترجمہ: اگر عیب سے سلامت جانور خریدا پھر وہ قربانی سے مانع عیب سے عیب دار ہو گیا، اگر وہ غنی ہے، تو اس پر دوسرے جانور کی قربانی واجب ہے اور اگر فقیر ہے، تو اس کے لیے یہی جانور کافی ہے، کیونکہ غنی پر ابتداءً شریعت نے قربانی کو واجب کیا تھا، تو اس کے لیے وہ جانور متعین نہ ہوا اور فقیر پر قربانی کی نیت سے خریدنے کی وجہ سے قربانی واجب ہوئی، تو وہی جانور متعین ہو گیا اور اس پر نقصان کا ضمان واجب نہیں ہوگا۔ (الھدایۃ، جلد 4، صفحہ 359، مطبوعہ دار احیاء التراث، بیروت)
فتاوی عالَم گیری میں ہے: ’’کل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال، وفي حق المعسر تجوز على كل حال، كذا في المحيط‘‘ ترجمہ: ہر وہ عیب جو قربانی سے مانع ہوتا ہے تو صاحب نصاب کے حق میں خریدتے وقت وہ عیب ہو یا خریدتے وقت تو عیب سے سلامت ہو، مگر بعد میں عیب پیدا ہو جائے، تو (دونوں صورتوں میں) اس کی قربانی جائز نہیں، جبکہ فقیر کے حق میں ہر صورت میں قربانی ہو جائے گی، اسی طرح محیط میں ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 5، کتاب الاضحیۃ، صفحہ 369، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے: ’’جانور کو جس وقت خریدا تھا اس وقت اس میں ایسا عیب نہ تھا جس کی وجہ سے قربانی ناجائز ہوتی ہے، بعد میں وہ عیب پیدا ہوگیا تو اگر وہ شخص مالک نصاب ہے، تو دوسرے جانور کی قربانی کرے اور مالک نصاب نہیں ہے، تو اسی کی قربانی کر لے۔ یہ اس وقت ہے کہ اس فقیر نے پہلے سے (منت وغیرہ کے ذریعے) اپنے ذمہ قربانی واجب نہ کی ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 03، حصہ 15، صفحہ 342، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9998
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء