عقیقے کا گوشت مہمانوں کو کھلانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عقیقے کا گوشت تقسیم کرنے کا طریقہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض اوقات عقیقے کا گوشت یوں استعمال کیا جاتا ہے، کہ مہمانوں کو دعوت دے کر، گھر بلا کر، ان کی دعوت کی جاتی ہے، جس میں عقیقے کا گوشت کھلایا جاتا ہے، اور گھر والے خود بھی کھاتے ہیں، تو بعض افراد نے کہا کہ: ایسا نہیں کر سکتے، بلکہ عقیقے کا گوشت بچے کا صدقہ ہوتا ہے، اسے غریبوں میں تقسیم کردینا ہوگا، خود نہیں کھا سکتے، اس کے متعلق رہنمائی کردیں، کہ مستحب طریقہ کار کیا ہے؟
جواب
عقیقے کا گوشت مہمانوں کو کھلانا جائز ہے، اسی طرح گھر کے افراد کا خود کھانا بھی جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ البتہ! مستحب، اور بہتر یہ ہے، کہ قربانی کے گوشت کی طرح، عقیقے کے گوشت کی تقسیم میں بھی، تین حصے کئے جائیں، ایک حصہ اپنا، ایک حصہ اقارب کا، اور ایک حصہ فقرا و مساکین کا۔ امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: عقیقہ کا گوشت آباء و اجداد (یعنی والدین وغیرہ) بھی کھا سکتے ہیں، مثلِ قربانی اس میں بھی تین حصے کرنا مستحب ہے۔ ( فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 586، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید عقیقے کے گوشت کے متعلق فرماتے ہیں: گوشت بھی مثل قربانی تین حصے کرنا مستحب ہے، ایک اپنا، ایک اقارب، ایک مساکین کا۔ اور چاہے توسب کھالے خواہ سب بانٹ دے، جیسے قربانی۔ ( فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 584، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ، مفتی، محمد امجد علی، اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: عقیقہ کا جانور اونھیں شرائط کے ساتھ ہونا چاہیے جیسا قربانی کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا گوشت فقرا اور عزیز و قریب دوست و احباب کو کچا تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر دیا جائے یا ان کو بطورِ ضیافت (مہمان نوازی) و دعوت کھلایا جائے، یہ سب صورتیں جائز ہیں ۔۔۔ عوام میں یہ بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ اور دادا دادی، نانا نانی نہ کھائیں، یہ محض غلط ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 357، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5053
تاریخ اجراء: 15 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 01 جون 2026ء