logo logo
AI Search

بچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جو بکری بچہ پیدا کرنے کے قابل نہ ہو اس کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے جانوروں میں ایک بکری ہے، جو کہ دو سال سے زائد عمر کی ہے، لیکن متعدد مرتبہ کوشش کے باوجود وہ گابھن نہیں ہو سکی، پھر اس کا چیک اپ کروایا، تو معلوم ہوا کہ یہ بچہ جننے کے قابل نہیں، تو کیا اس کی قربانی کی جا سکتی ہے ؟

جواب

قربانی درست واقع ہونے کے لیے قربانی کے جانور کا بڑے عیب سے پاک ہونا ضروری ہے اور مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور چھوٹے بڑے، تمام ظاہری عیوب سے پاک ہو، جبکہ بچہ جننے کی صلاحیت نہ ہونا کوئی ظاہری عیب نہیں۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر اس بکری میں کوئی اور عیب نہ ہو ، تو اس کی قربانی بلا کراہت جائز ہے۔

جانور کے تمام ظاہری عیوب سے پا ک ہونے کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ /1836ء) لکھتے ہیں: ”قال القهستاني: ۔۔۔ المستحب أن يكون سليما عن العيوب الظاهرة“یعنی: امام قہستانی فرماتے ہیں: مستحب یہ ہےکہ جانور تمام ظاہری عیوب سے پاک ہو۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 06، صفحہ 323، مطبوعہ مطبعة مصطفي البابي، مصر)

قربانی کا مادہ جانور بچہ جننے کے قابل نہ ہو، تو بھی اس کی قربانی جائز ہے، چنانچہ امام لسان الدین، ابن الشحنہ حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”والعاجزة عن الولادة۔۔۔تجوز“ ترجمہ: اور جو (گائے، بکری وغیرہ قربانی کا جانور) بچہ جننے سے عاجز ہو، اس کی قربانی جائز ہے۔ (لسان الحکام، صفحہ 388، مطبوعہ مطبعۃ مصطفی البابی، مصر )

یونہی علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”تجوز التضحية بالمجبوب۔۔۔ و العاجزة عن الولادة“ ترجمہ: محجوب اور بچہ جننے سے عاجز جانور کی قربانی جائز ہے۔ (ردالمحتار مع در مختار، جلد 6، صفحہ 325، مطبوعہ مطبعۃ مصطفی البابی، مصر)

فتاوی فیض الرسول میں ہے: ”بانجھ بکری کی قربانی جائز ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی اور وجہِ مانع نہ ہو “۔ (فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 403، مطبوعہ اکبر بک سیلرز، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9995
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء